کارکنوں کی حوصلہ افزائی اور اسلامی تعلیمات

ایک منیجر دفتر کو جنت بھی بنا سکتا ہے اور جہنم بھی۔ جو مالک، منیجر یا سی ای او اپنے ساتھ کام کرنے والوں کو عزت دیتا اور ان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے،وہ کمپنی اور ادارے کو ترقی کی راہ پر گامزن کردیتا ہے۔ آئیے! دیکھتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات اس حوالے سے کیا رہنمائی کرتی ہیں:

 

مزید پڑھیے۔۔۔

بزنس ’’اسٹارٹ اپ‘‘ کی حیرت انگیز دنیا

اگر آپ بزنس اسٹارٹ اپ کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو ’’برین مارگن‘‘ کی زندگی پر ایک نظر ڈالنا ہو گی۔ اس کی پیدائش امریکا میں ہوئی تھی۔ مگر قسمت نے اسے ملازم بنا دیا۔ دفتری ملازم کی طرح ہی ہر لمحہ اچھی تنخواہ کی فکر، اچھی کمپنی کی تلاش اور زندگی سے ہر لمحہ نبرد آزما۔ اپنے گھر سے بہت دور جنوبی امریکا کے ملک ایکواڈور میں ملازمت کرتا تھا۔ پردیس کی زندگی سے اس کا دل اچاٹ ہو گیا۔ سب کچھ چھوڑ چھاڑ گھر واپس آ بیٹھا۔ روزانہ صبح سویرے اٹھتا۔ اپنی فائلیں سمیٹتا اور دفتروں کے چکر لگانا شروع کر دیتا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

آئی ٹی کی جادوئی دنیا

واٹس ایپ کی کہانی حیرت انگیز بھی ہے اور انکشاف خیز بھی۔ اس کا آغاز اس وقت سے ہوتا ہے جب وہ اور اس کی غربت زدہ ماں لقمے لقمے کو ترستے تھے۔ اس کی ماں لوگوں کے بچوں کی دیکھ بھال کرتی اور جان کوم دن بھر گھر گھر صفائی کرتا۔ کبھی پھلوں کی ریڑھی لگاتا اور کبھی مزدوری شروع کردیتا۔ عمر اٹھارہ سال ہوئی تو وہ اس زندگی سے تنگ آگیا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ مجھے ایک پروگرامر بننا ہے۔ وہ ایک یونیورسٹی میں جانے لگا۔ محنت مزدوری سے گزر بسر کرتا اور یونیورسٹی کی فیس ادا کرتا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

جدید ٹیکنالوجی استعمال کیجیے!

انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کو دنیا بھر میں معلومات کا سب سے بڑا ذخیرہ سمجھا جاتا تھا۔ اس انسائیکلوپیڈیا کو لکھنے میں ڈھائی سوسال کا عرصہ لگا۔ روزانہ کم ازکم سو محقیقین بیٹھتے اور دنیا بھر کی معلومات لکھنا شروع کردیتے۔ اب تک اسے لکھنے والے افراد کی تعداد چار ہزار سے بھی زیادہ ہے۔ ان مصنفین میں سے 110 افراد ایسے بھی ہیں جنہیں نوبل انعام سے نوازا گیا۔ ڈھائی سوسال میں اربوں ڈالر اس منصوبے پر خرچ ہوئے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

میوچل فنڈ میں سرمایہ کاری

مضاربہ اسکینڈل نے نجانے کتنے گھروں کو ماتم کدہ بنا دیا۔ لاکھوں لوگ آج بھی دن پھرنے کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔ سیکڑوں گھرانے آج بھی امیدوں، آسروں اور افواہوں کے کچے دھاگے سے بندھے بیٹھے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ان کا صبر اور شکر ایک نہ ایک دن ضرور رنگ لائے گا۔ مگر مضاربہ اسکینڈل نے معاشرے کی ایک دوسری بڑی کمزوری کو آشکار کردیا ہے۔ پورا پاکستانی معاشرہ چھوٹی چھوٹی بچتیں جمع کرتا ہے۔ پھر سرمایہ کاری کے بااعتماد اور جائز ذرائع تلاش کرتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کاروباری جھگڑے یوں ختم کریں

صحابہ کرامؓ کی محفل سجی تھی۔ آسمان کے ستارے زمیں پر اتر آئے تھے۔ شاید اس لمحے زمین بھی اپنی قسمت پر رشک کررہی ہوگی۔ ہرشخص اپنے من کی بات زباں پر لارہا تھا۔ اتنے میں گفتگو چل نکلی کہ لشکر اسلام کو کیا کرنا چاہیے۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے خیال میں ایسا کرلیں۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ مشورہ تو بالکل غلط ہے۔ یہ بات سنتے ہی حضرت ابوذر کی زبان سے نکلا: اے کالی ماں کے بیٹے! تم بھی میری بات کو غلط کہہ رہے ہو؟

مزید پڑھیے۔۔۔

قرضِ حسن اور مائیکروفائنانس

اس نے اپنی جیب سے 27 ڈالر کا قرض دیا۔ 1976 ء کا تباہ حال، بدحال اور خستہ حال بنگلہ دیش۔ یہ رقم گائوں کی 42خواتین کو دی گئی۔ یہ عورتیں چند مقامی سود خوروں کے جال میں پھنس گئی تھیں۔ دیہاتی عورتوں نے اس تھوڑی سی رقم سے کاروبار شروع کیا۔ اللہ تعالی نے نوے فیصد رزق تجارت میں رکھا ہے۔ خواتین نے نفع کمایا۔ اپنے خاندان کو پائوں پر کھڑا کیا۔ قرض کی رقم واپس کردی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

بہنوں کو بے نقاب نہ کیجیے

اس کے گھر پر قیامت سے پہلے قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔ والد صاحب کا انتقال ان کے گھرانے کو سوگوار کرگیا۔ اپنے پیچھے روتی سسکتی بیوہ اور تڑپتی بلکتی بیٹی کو چھوڑ گئے۔ اے موت تجھے موت ہی آئی ہوتی! مدیحہ تو ابھی ایم بی اے کی طالبہ تھی۔ بوڑھی ماں عمر کے اس حصے میں ہے جہاں سہاروںاور آسروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایم بی اے کی فیس کہاں سے ادا ہوگی؟ باپ کے جمع کردہ پیسے سے کب تک گزارہ ہوگا؟ بچپن سے پردہ کرنے کی عادت کہیں نوکری بھی نہیں کرنے دیتی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اسلامی مائیکروفائنانس

عبداللطیف بھٹائی نے تھر کے بارے میں کہا تھا: ’’اے ساون کے بادلو! کبھی ہمارا حال بھی پوچھ لو۔‘‘ بھٹائی کے دور میں تو صرف تھر ہی آٹھ آٹھ آنسو روتا تھا، اب تو وطن عزیز کا ہر ہر گوشہ دہائی دے رہا ہے۔ ہر دوسرے سال تھر کے تن بدن سے سسکیاں بلند ہوتی ہیں۔ ایک ایک دن میں دوسو معصوم نونہال خون آشام بھوک کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔ وزیر خزانہ تسلیم کرتے ہیں کہ 54 فیصد پاکستانی غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کامیاب کمپنیوں کے دفاتر

ہیڈ کوارٹرز
’’امریکا آن لائن‘‘ انٹرنیٹ کی دنیا میں ایک مشہور و معروف کمپنی ہے۔ کمپنی کی نئی انتظامیہ نے ہیڈ کوارٹر کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔ ہیڈ کوارٹر میں ہر وہ چیز موجود ہے جس کی کسی بڑے ادارے سے توقع کی جاسکتی ہے۔ بے شمار آرام کرنے کی جگہیں، گیم کھیلنے کے لیے ہال، مطالعہ کے لیے لائبریری، جابجا موجود کچن اور سوئمنگ پول۔ ایسے خوبصورت دفتر میں کام کے دوران دماغی بوجھ، دبائو اور ٹینشن کبھی نہیں محسوس ہوسکتی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

لین دین کے جھگڑے کیوں؟

حضرت تھانوی کے ایک خلیفہ بہت عرصہ بعد آج ان کی خدمت میں حاضر تھے۔ دن رات ذکر اذکار، کڑی شرائط اور بارہا آزمائش کے بعد خلافت دی گئی تھی۔ دور دراز سے سفر کرکے پہنچے تو ان کے ہمراہ ایک بچہ بھی تھا۔ معانقہ و سلام اور حال احوال ہوئے۔ بچے کو ملوایا اور دعا کی درخواست کی۔ حضرت نے شفقت سے سر پر ہاتھ پھیرا اور دعا دی۔ ویسے ہی پوچھا: بچے کی عمر کتنی ہے؟ عرض کرنے لگے: 13سال۔ حضرت نے پوچھا: آپ نے ریل گاڑی پر سفر کیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔