کامیاب کمپنی کا دفتر کیسا ہوتا ہے؟

کمپنیاں صرف سرمائے کے بل بوتے پر ترقی نہیں کرتیں، ملازمین کی بھر پور محنت ہی خوش حالی کے دروازے کھولتی ہے۔ جس کمپنی کے ملازمین خوش ہوں وہ کبھی بھی ناکام نہیں ہو سکتی۔ ملازمین پر ذہنی دباؤ ڈال کر کام نکلوانا بدترین طریقہ بن چکا ہے۔ ملازم کو خوش کر کے اس کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ہی کامیاب بزنس کی کنجی ہے۔ ذہنی دباؤ کا شکار ملازم خود بے شمار مسائل میں گھر جاتا ہے،

مزید پڑھیے۔۔۔

اعمال کی زبان

اسپین میں ٹرین بم دھماکوں نے پورے ملک کو بھونچکا دیا۔ ہر شخص ہکا بکا اور حیران و پریشان ہوگیا۔ دھماکوں میں 191افراد ہلاک ہوئے۔ ملک بھر میں غم و غصے اور حسرت و افسوس کی لہر دوڑ گئی۔ تحقیقات آگے بڑھیں تو پتا چلا کہ حملوں میں مسلمان ملوث ہیں۔ مسلمانوں کے لیے گھروں سے نکلنا مشکل ہوگیا۔ عیسائیوں اور یہودیوں نے سرعام مسلمانوں پر حملے شروع کردیے۔ ’’مینول کیبرول‘‘ اسپین کا مشہور بزنس مین تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ملازمین کی بہتر کارکردگی کا ضامن

’’ایورسٹ گیلوا‘‘ فرانس کا ایک ہونہار طالب علم تھا۔ بچپن سے ہی ریاضی اس کا پسندیدہ مضمون بن گیا۔ ابھی عمر کی 20 بہاریں ہی دیکھی تھیں کہ اس کی ایک شخص سے لڑائی ہو گئی۔ دوسرے شخص نے دو بدو لڑائی کا چیلنج کر دیا۔ گیلوا معاشرتی رواج کے باعث چیلنج قبول کرنے پر مجبور تھا۔ کشتی کا دن طے ہو گیا۔ گیلوا کو یقین ہو گیا کہ لڑائی میں زندہ بچنا مشکل ہو گا۔ لڑائی سے ایک رات پہلے وہ اپنی میز پر بیٹھا۔ الجبرے کی تمام مساواتوں (equations) سے متعلق اپنی تحقیق لکھنے لگا۔ وہ رات بھر جوش و جذبے سے الجبرے کی گرہیں کھولتے رہا۔ ایک جگہ اس نے لکھا: وقت بہت کم ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

یہ وطن تمہارا ہے!

’’جم اونیل‘‘ کو معیشت کا جادوگر کہا جاتا ہے۔ یہ وہ شخص ہے جس نے 2001 ء میں ایک لفظ استعمال کیا تھا: BRIC۔ آج یہ لفظ دنیا کا ہر معیشت دان جانتا ہے اور جم اونیل کو داد دیتا ہے۔ بَرک کا مطلب ہے: برازیل، روس، انڈیا اور چین اب دنیا کے ترقی یافتہ ملک بن جائیں گے۔ آج ہر شخص جانتا ہے کہ چاروں ملک تیزی سے ترقی کر رہے ہیں، مگر 14 سال پہلے یہ دعوی کرنا صرف ’’جم اونیل‘‘ کا کمال تھا۔ جم او نیل کی انہی خصوصیات نے اسے معروف مالیاتی کمپنی ’’گولڈ مین سکس‘‘ کا چیئرمین بنا دیا تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کوئی شارٹ کٹ نہیں !

ایک شخص نے دولت مندوںکے حالات زندگی پڑھنا شروع کیے۔ ایک سو ایک دولت مندوں کے حالات پڑھ کر وہ حیران کن نتیجے تک پہنچا۔ یہ عجیب بات سامنے آئی کہ دنیا کے تمام امیر ترین آدمیوں نے کاروباری کامیابی کے لیے کم و بیش ایک ہی جیسا طریقہ اپنایا ہے۔ فیس بک کا مالک مارک زکر برگ ہو، مائیکروسوفٹ کا بانی بل گیٹس،ایپل کمپیوٹر کا روح رواں اسٹیو جابس، اسٹاک مارکیٹ کا بے تاج بادشاہ وارن بفیٹ، ٹیلی کام کا شہنشاہ کارلوس سلم یا بھارتی امیر ترین شخص مکیش انبانی ، ان تمام کے تمام افراد نے ایک ہی طریقہ اپنایا ہے۔ اس ایک طریقے پر عمل کرکے یہ تمام لوگ دنیا کے سو امیر ترین لوگوں کی فہرست میں کئی سالوں سے مستقل براجمان ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کام اور گھریلو زندگی میں توازن

یہ پاکستان کے ایک گھرانے کا واقعہ ہے۔ میاں بیوی دونوں نوکری پر جاتے ہیں۔ گھر چلانا اتنا آسان تو نہیں ہے نا۔ دونوں کی ڈیوٹی شام گئے تک ہے۔ بیٹا اسکول سے جلدی واپس آ جاتا ہے مگر والدین کو تو دفتر میں حاضری دینا پڑتی ہے۔ اس مشکل کا حل یہ تلاش کیا گیا کہ روزانہ بچے کو اسکول سے واپس آتے ہی ’’کیل پول‘‘ پلا کر سلا دیا جائے۔ بچہ گہری نیند سو جاتا ہے اور میاں بیوی شام ڈھلے دفتر میں کام کرتے رہتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

باز پرس

مولانا قاسم نانوتوی لکھتے ہیں: ’’سرزمین ہند میں اگر صرف شاہ ولی اللہ ہی پیدا ہوتے تو ہندوستان کے لیے یہ فخر کافی تھا۔‘‘ آپ اٹھارویں صدی میں ایک مجدد کی حیثیت سے ابھرے۔ ایک جید عالم دین، باکمال فقیہ اور دانش مند سیاسی مدبر تھے۔ صرف 17 سال کی عمر میں عالم دین بن گئے، بلکہ تصوف کے تمام درجات بھی طے کرلیے۔ آپ کی درخواست پر احمد شاہ ابدالی نے مرہٹوں کو تاریخی شکست دی تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مرتبہ، خواہش اور اسٹیٹس

آپ پاکستان کے کسی بھی شخص سے ملیں، اس کا سب سے بڑا مسئلہ مرتبہ، خواہش اور اسٹیٹس ہے۔ ہم اس اسٹیٹس اور مرتبے کی خاطر ہر کام کر گزرتے ہیں۔ سالوں پرانے تعلقات اور خون کے رشتے تک توڑ دیتے ہیں۔ مگر اسٹیٹس، خواہش اور مرتبہ کی منزل آج تک کسی کو نہیں ملی۔ رومی تہذیب نے ایک ہزار سال تک دنیا پر حکومت کی۔ رومن امپائر کو ناقابل شکست کہا جاتا تھا۔ مگر پھر گیہوں کو گھن لگ گیا۔ دولت، مرتبے اور خواہش کا گھن۔ دولت کے ڈھیر لگ گئے مگر خواہشات بے لگام ہوتی چلی گئیں۔ سر کا تاج ایک لاکھ درہم سے کم مالیت کا نہیں پہنتے تھے۔ عالی شان محلات بنانے میں مقابلے شروع ہوگئے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

نیکیوں کا موسم

’’یہ کیسی دنیا ہے کہ غریب فاقے سے خود کشی کرلے تو کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی، مگر اسٹاک ایکسچینج دو پوائنٹ گر جائے تو اہم ترین خبر بن جاتی ہے۔‘‘ آپ معاشرے کی ناانصافی ملاحظہ کریں، آج بھی کروڑوں بچے اسکول نہیں جاتے، کروڑوں انسان آج بھی رات کو بھوکے سوتے ہیں اور دنیا کے ایک ارب لوگ جب صبح اٹھتے ہیں تو حلق سے اتارنے کے لیے ایک لقمہ بھی نہیں ہوتا۔ ان ایک ارب لوگوں کو سر چھپانے کے لیے چھت دستیاب نہیں، تن ڈھانپنے کے لیے کپڑے میسر نہیں اور پینے کے لیے صاف پانی مہیا نہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

آپ بوسنیا میں اسلامی بینکاری کا نام لیں تو سب سے پہلے ڈاکٹر ’’فکرت ہزک‘‘ کا حوالہ سننے کو ملے گا۔ ڈاکٹر فکرت کی زندگی کے بارہ سال اسلامی بینکاری پڑھتے پڑھاتے گزرے ہیں۔ انہیں بوسنیا میں اسلامی بینکاری کا بانی بھی کہا جاتا ہے۔ جب انہوں نے اسلامی بینکاری پر اپنا مقالہ پیش کیا تو انٹرویو کرنے والے ایک پروفیسر نے تبصرہ کیا تھا: ’’خواب تو اچھا ہے مگر تعبیر ہوتا نظر نہیں آرہا‘‘۔ مگر ڈاکٹر ہزک نے ان تھک محنت اور شبانہ روز کوشش کے بعد خواب کو سچا ثابت کردیا۔ آج بوسنیا کی تاریخ پڑھے بغیر آپ اسلامی بینکاری کی اثر انگیزی کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔بوسنیا کو براعظم یورپ کا گمنام ملک کہا جاتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

رہے نام اللہ کا!

ویٹی کن سٹی کے روزنامے میں اسلامک بینکنگ کی تعریف کسی ایٹمی دھماکے سے کم تباہ کن نہیں تھی۔ جس نے سنا، ششدر رہ گیا۔ دنیا بھر میں پھیلے سوا ارب سے زائد کیتھولک عیسائیوں کا مرکز کس طرح اسلامی معاشی نظام کی تعریف کرسکتا ہے؟؟؟ ویٹی کن کے روزنامےL'Osservatore Romano نے ایک مضمون میں یہ کہا: ’’ The ethical principles on which Islamic finance is based may bring banks closer to their clients‘‘ ( اسلامی معاشی نظام کے اخلاقی اصول بینکوں کو اپنے گاہکوں کے مزید قریب کردیں گے) تعصب پسند مغربی مفکرین کہنے لگے: اگر ہمارے بحرانوں کا حل اسلامی بینکنگ میں ہے.

مزید پڑھیے۔۔۔