مفتی محمد تقی عثمانی

کہانی کا آغاز 1998ء سے ہوتا ہے۔ انڈونیشیا آبادی کے لحاظ سے عالم اسلام کا سب سے بڑا ملک ہے۔ مگر یہ اسلامی ملک 1998ء میں سودی چکر میں پھنس گیا۔ اقتصادی بحران اتنا شدید تھا کہ ایک کے بعد دوسرا بینک دیوالیہ ہوتا چلا گیا۔ انڈونیشی روپے میں اتنی کمی ہوئی کہ دنوںمیں بے شمار بینک زمیں بوس ہوگئے۔ اقتصادی بحران کے اس دور میں کوئی محفوظ رہا تو وہ ’’اسلامی بینک ‘‘ تھے۔ اسلامی بینکوں نے اپنا سرمایہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار میں لگا کر معیشت کی گرتی دیوار کو سہارا دیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اسلامی معاشی نظام کے خلاف محاذ گرم

انٹرنیشنل یونین آف مسلم اسکالرز کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر علی محی الدین نے کہا تھا: اشتراکیت زوال سے شکار ہوئی تو سرمایہ داریت کا جادو سر چڑھ کے بولنے لگا۔ پھر سرمایہ پرستی کا سفینہ بھنور میں پھنس گیا۔ سرمایہ داریت کے ڈھانچے پر اعتراضات شروع ہوئے، پھر تجارتی بحران شروع ہو گیا، اس کے بعد قرضوں کے بحران نے گرفت میں لے لیا۔ سرمایہ داریت کو ’’بحرانوں کی معیشت‘‘ کہا جانے لگا۔ اب دنیا کو انتظار ہے ایک نئے اقتصادی نظام کا جو انہیں ترقی کے راستے پر ڈال سکے اور تمام بحرانوں سے نمٹ سکے۔ اس نظام کا نام ہے: ’’اسلامی معیشت۔‘‘

مزید پڑھیے۔۔۔

غیر سودی بینکاری نئے دور میں داخل

یہ 1975ء کی ایک یخ بستہ شام تھی۔ دنیا کے دل ’’جزیرہ نمائے عرب‘‘ اور شہروں کے شہنشاہ ’’جدہ‘‘ میں کانفرنس منعقد ہوئی۔ شاہ فیصل مرحوم اس کی سربراہی کررہے تھے۔ اس کانفرنس میں ایک ایسا فیصلہ ہو اجس نے دنیا بدل کر رکھ دی۔ اسلامی ترقیاتی بینک جدہ قائم ہوگیا اور دنیا اسلامی نظام معیشت سے متعارف ہونے لگی۔ فرانسیسی اخبارات نے لکھا: ’’اگر اسلامی بینک اپنی صحیح شکل میں قائم ہوگیا تو یہ مغرب کے لئے ہائیڈروجن بم سے بھی زیادہ خطرناک ہوگا‘‘۔ اسلامی بینکنگ شروع ہوئی اور اس نے ہر جگہ کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

آگے بڑھیے

حضرت عمر رضی اللہ عنہ بازار میں داخل ہوئے۔ دیکھا کہ غیر ملکی افراد اور غلاموں کے خاندان ہی تجارت کررہے ہیں۔ آپ کو بہت حیرت ہوئی کہ قریش اور عرب کہاں گئے؟ آپ نے سب صحابہ کرام کو جمع فرمایا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا : ’’اللہ تعالی نے اس قدر فتوحات کرد ی ہیں کہ ہمیں تجارت کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ مال غنیمت سے اچھی گزر بسر ہوجاتی ہے۔‘‘ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’خدا کی قسم! اگر تم نے تجارت نہ کی تو تمہارے مرد اور عورتیں ان کے غلام بن جائیں گے۔‘‘ (التراتیب الاداریہ: 17)

مزید پڑھیے۔۔۔

آپ اپنے گھر پر کتنا وقت گزارتے ہیں؟

’’آپ اپنے گھر پر روزانہ کتنا وقت گزارتے ہیں؟‘‘ سوال بہت آسان اور مختصر تھا۔ مگر اس معمولی سوال کا جواب بھیانک، الم ناک اور تہلکہ خیز تھا۔ بزنس مینجمنٹ کے طلبہ کو ہدف دیا گیا تھا کہ کراچی کے پوش علاقے ’’ڈیفنس‘‘ کے 10ایسے عالی شان گھروں کا انتخاب کریں جن کی قیمت کم از کم 50کروڑ روپے ہو۔ ان 10گھروں کے مالکان سے یہی چھوٹا سا سوال کرنا تھا: ’’ آپ اپنے گھر پر روزانہ کتنا وقت گزارتے ہیں؟‘‘اس سروے پر کئی دن لگ گئے۔ مالکان سے ملاقات اتنی آسان تو نہیں تھی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دھوکے کا کاروبار

’’کولڈ ڈرنک کی بوتل کی تیاری پر تین روپے خرچ آتا ہے، مگر مارکیٹنگ اور اشتہار بازی اس کی قیمت 18روپے تک پہنچا دیتی ہے۔ اسی لیے ہماری کمپنی نے مارکیٹنگ بالکل ختم کردی، خریدار ہی مارکیٹنگ کرتا ہے اور اسی کے ذریعے اپنا کمیشن لیتا ہے، صاحب! اس میں ناجائز کی کیا بات؟‘‘ ایسی کہانیاں سنا کر نئے گاہکوں کو پھانسنے والی بے شمار نیٹ ورک مارکیٹنگ کمپنیاں کاروبار کررہی ہیں۔ آپ کے بہت سے دوستوں نے قائل کرنے کی کوشش کی ہوگی۔ ایک نیا خریدار بنائیں اور اتنے ڈالر کمائیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

…کہ آگے پیش ہونا ہے

وہ مسلمان تاجر سعودی عرب سے ہجرت کرکے امریکا گیا تھا۔ایک بہت بڑی مارکیٹ کا مالک بن گیا۔ ڈالروں کے انبار لگ گئے۔ مگر دل اور دماغ بھی انہی ڈالروں کے اسیر بن گئے۔ دولت کی ہوس میں تمام حدیں پار کرگیا۔ زیادہ سے زیادہ نفع کمانے کی دوڑ میں شراب اور خنزیر کا گوشت بیچنا شروع کردیا۔ دولت بڑھتی گئی اور نیکیاں کم ہوتی گئی۔ دیار غیر میں بسنے والے مسلمان جب مارکیٹ میں شراب اور خنزیر بکتا دیکھتے تو شرمندگی سے سر جھک جاتے۔ انہی دنوں معروف عرب عالم شیخ حسان بھی امریکا گئے۔ کسی مسلمان نے عرض کیا کہ آپ اس مسلمان کو سمجھائیں۔ اگلے دن شیخ نے اس مسلمان تاجر سے ملاقات کی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تجارت بھی اور دعوت بھی

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے غلام اسلم کہتے ہیں: مدینہ میں تاجروں کا ایک وفد آیا۔وفد نے مسجد میں ڈیرے ڈال دیے۔ مسلمانوں کے خلیفہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف سے فرمایا: ’’کیا ہم دونوں آج کی رات اس وفد پر پہرہ دیں؟‘‘وہ رضامند ہوگئے۔ یہ دونوں عظیم صحابہ کرام ساری رات تاجروں کا پہرہ دیتے رہے۔ (فصل الخطاب، دکتور علی محمد الصلابی، ص: 197)

مزید پڑھیے۔۔۔

برکت کا حصول۔ مگر کیسے؟

جو نوجوان شادی کرنا چاہتا ہے، وہ اپنے اخراجات بیت المال سے لے۔ جس پر قرض ہو تو ادائیگی کے لیے بیت المال سے پیسے لے۔ جو شخص حج کرنا چاہتا ہے، وہ بیت المال سے رابطہ کرے۔ یہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے دور کا ایک منظر تھا۔ انہوں نے صرف ڈھائی سال حکومت کی مگر دنیا کو امن کا گہوارا بنا دیا۔ بیت المال میں اتنی دولت ہوتی، لوگوں میں اعلان کرنا پڑتا کہ لے جائو۔ مال و دولت کی اتنی فراوانی کہ مانگنے والا ڈھونڈے سے بھی نہ ملتا۔ زکوۃ کی رقم ہاتھ میں ہوتی اور وصول کرنے والا ہی کوئی نہیں۔ (ابن عساکر، تاریخ دمشق، حرف العین فی آبائہم، عمر بن عبدالعزیر، رقم الحدیث: 47994)

مزید پڑھیے۔۔۔

Let's not reinvent the wheel

البرٹ آئن اسٹائن نے کہا تھا: Insanity: doing the same thing over and over again and expecting different results.(ایک ہی چیز کو بار بار دہرانا اور مختلف نتیجے کی توقع رکھنا، جنون ہے) اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں امریکا جانا ہوگا۔ شاید آپ کو حیرت ہو کہ دنیا کی سب سے پہلی کار بنانے والی کمپنی امریکا کی تھی۔ Detroit نامی اس کمپنی نے دنیا میں اپنی کار کا تصور پیدا کیا۔ پہلی بارلوگوں کو بسوں کے دھکوں، ٹرین کی کھچ کھچ اور پیدل کے جھنجٹ سے نجات ملی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

Happy Worker

ایک حکیم سے پوچھا گیا: زندگی میں کامیابی کیسے حاصل ہوتی ہے؟ حکیم نے کہا :اس کا جواب لینے کے لیے آپ کو آج رات کا کھانا میرے پاس کھانا ہوگا۔ سب دوست رات کو جمع ہوگئے۔ اس نے سوپ کا پیالہ لا کررکھ دیا۔ مگر سوپ پینے کے لیے ایک میٹر لمبا چمچ دے دیا۔ سب کو کہا کہ آپ نے اسی لمبے چمچ سے سوپ پینا ہے۔ ہر شخص نے کوشش کی، مگر ظاہر ہے ایسا ناممکن تھا۔ کوئی بھی شخص چمچ سے سوپ نہیں پی سکا۔ سب بھوکے ہی رہے۔ سب ناکام ہوگئے تو حکیم نے کہا: میری طرف دیکھو۔ اس نے چمچ پکڑ ا، سوپ لیا اور چمچ اپنے ساتھ والے شخص کے منہ سے لگا دیا۔ اب ہر شخص نے اپنا چمچ پکڑا اور دوسرے کو سوپ پلانے لگا۔

مزید پڑھیے۔۔۔