آپ کا آئیڈیل

اشتراکیت نے کہا: ’’ہر شخص کام کرے اپنی صلاحیت کے مطابق اور اسے تنخواہ ملے گی ضرورت کے مطابق۔‘‘ نعرہ بہت اچھا تھا۔ لوگ بڑھتے گئے، کاررواں بنتا گیا۔ کارل مارکس، اینگلز اور لینن جیسے مفکرین کا جادو سر چڑھ کے بولنے لگا۔ روس میں انقلاب کروٹیں لینے لگا۔ دیوانے، متوالے اور مستانے جانوں کے نذرانے پیش کرنے لگے۔ اکتوبر 1918ء آنے تک ایک لاکھ پروانے خاک و خوں میں لت پت ہوچکے تھے۔ لوگ منتظر تھے کہ اب ہر شخص کے ساتھ انصاف ہوگا، غریب اور امیر کا فرق مٹ جائے گا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

امیر یا غریب

وارن بفٹ دنیا کے امیر ترین آدمی ہیں۔ وہ امریکی اسٹاک ایکسچینج کے سب سے بڑے بروکر ہیں۔ صرف ایک سال میں ان کی دولت میں دس ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ مگر دنیا کا یہ امیر ترین شخص امریکی شہر اوہاما میں صرف 31ہزار ڈالر کے ایک معمولی سے مکان میں رہتا ہے۔ خود اپنی کار ڈرائیو کرتا ہے اور ایک گلی کے حجام سے 12ڈالر میں بال کٹواتا ہے۔ میکسیکو کا ارب پتی کارلوس سلم بھی ایک پرانے ماڈل کی کار میں سفر کرتا ہے، ایک درمیانے درجے کے مکان میں رہتا ہے۔ سویڈن کا کروڑ پتی انگفیر کامرڈ بھی سادگی سے زندگی گزارتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تاجر کی نیت کیا ہو؟

انگریزی کا مشہور مقولہ ہے: "So many financial dreams are thewarted by the failure to act upon good intentions"
ایک آدمی نے کمرہ بنوایا پھر مستری سے کہا کہ اس میں ایک روشن دان رکھ دینا تاکہ تازہ ہوا بھی آتی رہے۔
ایک بزرگ نے سن کر کہا: اگر تم یہ نیت کرتے کہ روشن دان سے آذان کی آواز آتی رہے تو تمہیں ثواب بھی ملتا اور ہوا تو ویسے ہی آتی ۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ذخیرہ اندوزی

بجٹ آنے سے چند دن پہلے بہت سی چیزیں بازار سے غائب ہوجاتی ہیں۔ ہر وہ چیز جس کے دام بڑھنے کا امکان ہوبازار میں نظر نہیں آتی۔ تیل، چینی، گھی اور سیگریٹ سمیت متعدد چیزیں ذخیرہ کر لی جاتی ہیں۔ بجٹ میں قیمتیں بڑھتے ہی گوداموں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور دھڑا دھڑ مہنگی اجناس فروخت ہونے لگتی ہیں۔ چاول، گندم اور آٹے سے بھی یہی سلوک کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کسٹمر از کنگ

چین میں ’’وال مارٹ‘‘ کے سپر اسٹور پر ملاوٹ شدہ گوشت کا شبہ ہوا۔ لیبارٹری ٹیسٹ نے ثابت کردیا کہ واقعی اس میں لومڑی کا گوشت ملایا گیا ہے۔ ’’وال مارٹ‘‘ نے اعلان کیا کہ تمام گاہکوں کو ان کے تمام پیسے لوٹا دیے جائیں گے۔ ملاوٹ شدہ گوشت فراہم کرنے والی کمپنی کے خلاف مقدمہ درج ہوگا۔ فوری طور پر ایک تحقیقاتی ٹیم نے کام شروع کردیا ہے۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی سپر اسٹور کمپنی ’’وال مارٹ‘‘ ہے۔ دنیا میں اس کے 8500سپر اسٹور ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

خیر خواہی

کاروباری رقابت میں کسی حریف کا کاروبار ٹھپ کروادینا بھی درست نہیں۔ آپ کو یہ حق حاصل ہے کہ ترقی کریں، مگر کسی دوسرے کا کاروبار ٹھپ کرنے کی اجازت نہیں۔ مسلمان تاجر کا کاروباری مقابل حدود و قیود سے ماورا نہیں ہوتا۔ اسلامی بازار میں کوئی بھی تاجر جان بوجھ کر دوسرے کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اسلامی بازار بلاوجہ کی رقابت اور حسد کے بجائے خیر خواہی اور اخوت پر یقین رکھتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کاروباری مقابلہ اور شرعی ہدایات

کاروباری مقابلہ کوئی بری چیز نہیں۔ صارفین کو بہتر سے بہتر چیز پہنچانا اور خریدار کا دل جیتنا بہت بڑی نیکی ہے۔ ایسا کاروباری مقابلہ (business competition) جس میں بنیادی مقصد گاہک کو لوٹنا ہو ، زیادہ سے زیادہ دولت جمع کرنا اور اپنے کاروباری حریف (business copetitor) کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاناہو، ایسے مقابلے کی نہ عقل حمایت کرتی ہے نہ ہی شریعت۔کاروباری مقابلے کو نہ تو جنگ کی صورت اختیار کرنا چاہیے

مزید پڑھیے۔۔۔

کاروباری حریف کون

کوئی بھی کاروبار اس وقت تک پھل پھول نہیں سکتا، جب تک اس کو اپنی ممکنہ رکاوٹوں اور کاروباری دشواریوں کا علم نہ ہو۔ کسی بھی کاروبار کو کامیاب کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے حریفوں اور دشمنوں کے بارے میں بھرپور معلومات حاصل کی جائیں۔ اس لئے اپنا کاروبار شروع کرنے والے افراد کے لئے ضروری ہے کہ اپنے حریفوں کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ کاروباری حریفوں کے بارے میں معلومات حاصل کرکے نہ صرف آپ ان کی نفسیات اور ترجیحات کے بارے میں جان سکتے ہیں، بلکہ اسی کے ذریعے آپ کسی بھی چیلنج سے نمٹ سکتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کاروباری رقابت (competition)

بعض تاجر سمجھتے ہیں اگر مجھے کامیاب ہونا ہے تو دوسروں کو ضرور ناکام ہونا ہے۔ اگر میرا بزنس پھلے پھولے تو دوسروں کو خسارے پر خسارہ ہو۔ وہ خیال کرتے ہیں کہ مارکیٹنگ ایک جنگ ہے۔ مقابلہ (competition)تو دراصل دشمنی ہے۔ اس لیے ہمارے کاروباری حریف (competitor)کو ضرور ناکام ہونا چاہیے اور مجھے ہر صورت میں اپنے حریف کو شکست دینا ہے۔ اس کے لیے اپنے حریف (competitor) پر حملہ کرنا پڑے، اسے بدنام کرنا ہوتو بھی کوئی حرج نہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

کاروباری مقابلہ

وہ کاروبار ہی کیسا جس میں آپ کو حریفوں سے مقابلہ (competition) نہ کرنا پڑے۔ کاروباری مسابقت (competition) ہی آپ کو نت نئے گر سکھاتی اور آگے سے آگے بڑھنے کی راہ دکھاتی ہے۔ مگر مقابلہ (competition) ایسا ہونا چاہیے جس میں کسی کے وقار پر حرف نہ آئے، کسی کا روزگار بند نہ ہو اور کوئی ناجائز ہتھکنڈا استعمال نہ کیا گیا ہو۔ آج کل مارکیٹ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں۔ حریف کمپنی کی ساکھ گرانے کے لیے ہر قسم کی سازش کی جاتی ہے۔ میڈیا کمپین کے ذریعے مختلف مصنوعات کی مارکیٹ گرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

دنیا کی 50 بڑی کمپنیاں

اس وقت دنیا کی تجارت پر 50بڑی کمپنیاں قابض ہیں۔ یہ اگر چاہیں تو پوری دنیا کی بجلی بند کر دیں، ٹیلی فون کا نظام جام کر دیں، دنیا بھر کی ٹریفک کھڑی رہ جائے، خوراک بند کر دیں اور جب چاہیں بینکوں کو دیوالیہ کر دیں۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے ان میں سے ایک کمپنی بھی مسلمانوں کی نہیں ہے۔ ان میں سے 43کا تعلق امریکا سے ہے،3 کمپنیاں جاپان، ایک ہالینڈ، ایک سوئزر لینڈ، ایک برطانیہ اور ایک کا تعلق سنگاپور سے ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔