خیانت تاجر کے لیے زہر قاتل کاروبار دین سے سیکھیے

سوچنے کی بات ہے،آخر اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم تاجر ہی کیوں تھے؟ صرف یہی نہیں، حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم بھی تجارت پیشہ تھے۔ یہ تمام تاجر بھی تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ترین ساتھی بھی۔ عبادت گزار بھی تھے اور بزنس مین بھی۔ مگر ایسا نہیں ہوا کہ کبھی دین نے ان کو تجارت سے روک دیا ہو۔ ایساہرگز نہیں ہو اکہ انہوں نے اسلام قبول کیا ہو اور ان کی تجارت میں خسارہ ہونا شروع ہوگیا ہو۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تنخواہیں کیسے مقرر کی جا تی ہیں؟

تنخواہ (Remuneration)مقرر کرنے میں ہر منتظم اور مالک کی اپنی اپنی ترجیحات ہو سکتی ہیں۔ تاہم فنی اور شرعی نکتہ نظر بھی پیش نظر ہو تو شکایات کو کم سے کم کرنے میں کافی مدد ملے گی۔ فائنانس اور مینجمنٹ کے اصولوں کے مطابق بہت سے عوامل ہیں جو ملازمین کی تنخواہ مقرر کرنے کے حوالے سے اثر انداز ہوتے ہیں۔ان عناصر کو ہم دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں :بیرونی عناصر اور اندرونی عناصر۔

مزید پڑھیے۔۔۔

صارفین کے حقوق کا خصوصی خیال رکھا جائے

دنیا کا ہر شخص صارف (consumer) ہے۔ اسے کسی نہ کسی مرحلے پر دوسروں کی تیار کردہ اشیا استعمال کرنا پڑتی ہیں۔ ہر ہر مرحلے پر شریعت نے صارف کے حقوق کا خیال کیا ہے۔ سب سے پہلے صارف کے ذاتی حوالے سے کئی حقوق متعین کیے ہیں۔ صارف کو بتایا ہے کہ اسے اللہ تعالی کی پیدا کردہ نعمتوں کو بہر حال استعمال کرنا ہے۔ اللہ تعالی کے پیدا کردہ رزق کو کھانا ہے۔ کوئی بھی شخص اللہ کا رزق کھائے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا، اس لیے ہر ہر شخص پر فرض ہے کہ زندہ رہنے کے لیے کھانا کھائے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:’’کلوا من طیبات ما رزقناکم…اللہ تعالی کی

مزید پڑھیے۔۔۔

تجارتی اخلاقیات سراسر مفید

باسم یوسف ایک شامی تاجر ہیں۔ وہ اپنا قصہ لکھتے ہیں کہ میں شمالی کوریا سے سامان درآمد کرتا تھا۔ کوریا میں میرا واسطہ دو تاجروں پڑتا۔ ایک مسلمان تھا اور دوسرا یہودی۔ کچھ عرصہ بعد مسلمان تاجر نے مجھے سامان بیچنا بند کردیا اور معاہدہ بھی ختم کردیا۔ یہ معمول کی بات تھی۔ اب میں صرف یہودی سے تجارت کرتا اور کوریا سے سامان منگواتا۔ پانچ سال بعد اچانک وہ مسلمان تاجر دوبارہ مجھے ملا۔ حال احوال اور رسمی تعارف ہوا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

مہنگائی کا ذمہ دار کون؟

رمضان المبارک آتے ہی مہنگائی کا جن بے قابو ہوجاتا ہے۔ صرف پاکستان ہی نہیں، مصر، لیبیا، تیونس، الجزائر سمیت تمام اسلامی ممالک میں قیمتیں آسمانوں سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ رمضان المبارک میں مہنگائی ہر دور میں ہوئی، مگر تاجر برادری نے عوام کا بھرپور ساتھ دیا۔عباسی خلافت کے آخری دنوں میں تاریخی مہنگائی ہوئی۔ ابھی شعبان کا مہینہ ختم نہیں ہوا تھا کہ لوگ لقمے لقمے کو ترسنے لگے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ثواب کا سیزن

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دنیا کا یہ مال ہرا بھرا ضرور ہے، لیکن درحقیقت اسی مسلمان کا مال اچھا ہے، جو حق کے ساتھ اس کو حاصل کرے، اور پھر مجاہدوں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کو دیتا رہے، اور جو شخص نا حق کسی کا مال اڑا لے، وہ اس بیمار کی طرح ہے، جو کتنا ہی کھائے، لیکن سیری نہیں ہوتی، ایسی دولت اس صاحب مال کے خلاف قیامت کے دن شہادت دے گی‘‘۔ (بخاری شریف)ایک اور حدیث شریف میں ہے:’’ صدقہ کرنے سے مال کم نہیں ہوتا‘‘۔ دیکھتے ہیں دنیا کے ارب پتی کیا کرتے ہیں؟

مزید پڑھیے۔۔۔

جب سود لے ڈوبا اُنہیں

اللہ تعالی سود کو مٹا دیتا ہے اور صدقہ میں برکت دیتا ہے۔ جیک ویٹا کر نے 31کروڑ ڈالر کی لاٹری جیت لی۔ مگر اللہ تعالی نے اس سود کو مٹانا شروع کردیا۔ دولت اسے سکون نہ دے سکی۔ بیوی نے طلاق لے لی۔ لوگوں نے مقدمات کردیے۔ بے شمار بار پولیس پکڑ کر لے گئی۔ بالآخر 2007ء میں وہ دنیا سے چل بسا۔ موت کے بعد اس کی بیوی نے کہا: کاش میں اس ٹکٹ کو پہلے دن ہی پھاڑ ڈالتی۔

مزید پڑھیے۔۔۔

حرام سے بچنا سب سے بڑی عبادت

حدیث شریف میں آتا ہے: ایک شخص لمبا سفر طے کرکے آتاہے، اس کے بال پراگندہ اور جسم غبار آلود ہے، اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کرکے کہتا ہے: اے میرے رب! اے میرے رب! حالانکہ اس شخص کا کھانا حرام، پینا حرام، پہننا حرام اور غذا حرام میں سے ہے، تو اس کی دعا کیسے قبول کی جاسکتی ہے۔ (مسلم شریف)

مزید پڑھیے۔۔۔

آپ کا اپنا میگزین

مولانا ظفر علی خان کو اردو صحافت کا امام کہا جاتا ہے۔ ان کے اخبار زمیندار نے تحریک پاکستان میں کلیدی کردار ادا کیا۔ زمیندار برصغیر کا پہلا اخبار تھا، جس نے عوامی حلقوں میں بے پناہ پذیرائی حاصل کی۔ یہ مسلمانوں کا پہلا بڑا اخبار تھا۔ ادھر اخبار بازار میں آتا اور دیکھتی آنکھوں اس کی کاپیاں ہاتھوں ہاتھ بک جاتیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

ایمان داری

حضرت حذیفہ بن یمان کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا راز دار صحابی کہا جاتا ہے۔ فتنوں، منافقوں اور مشرکوں سے متعلق تمام راز اللہ کے نبی نے آپ کو بتادےے تھے۔ جب کسی شخص کا انتقال ہوتا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں سے دریافت کرتے: حذیفہ اس کے جنازہ میں شریک ہورہے ہیں؟ اگر جواب ہاں میں ملتا تو حضرت عمر بھی جنازہ پڑھتے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تجارت کو پھیلائیں

جیسے دوکان کا شٹرگرتا ہے، اس طرح اس کے دماغ پر اندھیرے کی دبیز چادر پھیلتی گئی۔ یکایک ہسپتال کا فرش اٹھتا محسوس ہوا اور ہر سو مکمل تاریکی پھیل گئی۔ پھیپھڑوں نے کام کرنا چھوڑدیاتھا۔ پندرہ دن موت اور زندگی کے درمیان دنگل ہوتا رہا۔ وہ کومے میں رہا۔ اس کا وزن 40پونڈ تک کم ہوگیا۔ مگر پھر وہ موت کے منہ سے نکل آیا۔ ہوش آیا تو اگلے دوہفتے زبان نے بولنے سے معذرت کرلی۔ ابھی اس نے زندگی کی صرف 20بہاریں دیکھی تھیں۔ زبان خاموش ہوئی مگر دماغ بہت تیز ہوگیا۔ زندگی کے 20سال اس کے دماغ کی اسکرین پر نمودار ہونے لگے۔ دمہ اس کا پیدائشی ساتھی تھا۔ ڈاکٹروں

مزید پڑھیے۔۔۔