تاجر ایک مکمل داعی اسلام ہے

معروف انگریز مصنف تھامس آرنلڈ لکھتا ہے: جس لمحے مسلمانوں سے اسپین چھینا جارہا تھا، اسی وقت اسلام نے نئی سرزمین کو اپنے زیر نگیں کرلیا تھا۔ سمارٹرا اور انڈونیشیا میںاسلام مکمل طور پر پھیل چکا تھا۔ یہاں مسلمان تاجر گئے اور اسلام کے ان گمنام مجاہدوں نے پورے ملک کواپنے رنگ میں رنگ دیا۔ آج یہی انڈونیشیا آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑا اسلامی ملک ہے۔ یمن اور عراق

مزید پڑھیے۔۔۔

تجارت اور دعوت ایک ساتھ

''میں تو یہاں تجارت کرنے آیا تھا، اس جگہ سے اس قدر متاثر ہوا کہ اپنی زندگی کا سب سے بہترین سودا کر بیٹھا،  اللہ کے فضل سے میں اسلام قبول کر رہا ہوں۔'' یہ الفاظ امریکی ارب پتی تاجر اور پائلٹ رچرڈ پیٹرسن کے ہیں۔ وہ سعودی عرب میں صرف ایکماہ گزارنے کے بعد اسلامی ماحول اور بہترین سلوک سے متاثر ہوئے۔ اسلام قبول کر نے کے بعد  رچرڈسن کانیا نام عبدالعزیزرکھا

مزید پڑھیے۔۔۔

رزق میں برکت مگر کیسے ؟

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مجھے دعا دی کہ اللہ اس کے رزق اور اولاد میں برکت عطا فرما۔ دعا ایسی پوری ہوئی کہ میرے پاس اتنا مال تھا کہ سونے کی اینٹوں کو میں لکڑی کاٹنے والے کلہاڑے سے توڑا کرتا تھا۔ میرے گھرمیں درہم و دینار کا اتنا ڈھیر لگ جایا کرتا تھا کہ اس کے پیچھے بندہ چھپ جایا کرتا تھا۔ اولاد اتنی کہ میں نے اپنی زندگی میں

مزید پڑھیے۔۔۔

نفع کمائیے مگر۔۔۔۔۔۔

مفتی محمد تقی عثمانی لکھتے ہیں: ''مجھے ایک سعودی باشندے نے بتا یا کہ ایک مرتبہ وہ کپڑا خریدنے بازار گیا۔ ایک دوکان میں داخل ہوکربہت سے کپڑے دیکھے۔ ایک کپڑا پسند آگیا۔ قیمت بھی متعین ہوگئی تو دوکاندار سیےکہا : ''مجھی اتنےگز یہ کپڑا کاٹ دو۔'' یہ سنتے ہی دوکاندار نے کہا: ''آپ اس معیار کا کپڑا اور اسی قیمت پر میری برابر والی دوکان سیےخرید لیں۔'' خریدار بہت حیران ہوا کہ یہ

مزید پڑھیے۔۔۔

رشوت لیتا پکڑا گیا، رشوت دے کر چھوٹ جا

اسلام آباد سے نکلتے ہی چیک پوسٹ پر گاڑی کو روک لیا گیا۔ پولیس اہلکار کو بتا یا کہ ترکی سے مہمان آئے ہیں، سیر کر رہے ہیں۔ پولیس اہلکار نے ایک نظر مہمان پر ڈالی اوریکایک اس کی آنکھوں میں چمک ابھر آئی۔ اس نے مہمان کی جیب میں لگا خوبصورت پین نکالا اور بڑی ڈھٹائی سے کہنے لگا:'' چلو! ٹھیک ہے، اب تم جاؤ۔'' میزبان اور مہمان حیرت سے بت بنے پولیس اہلکار کے اس

مزید پڑھیے۔۔۔

کرپشن ہی کرپشن

صدرسوہارتو, مارچ 1967سے لے کر مئی 1998 تک انڈونیشیا کا بے تاج بادشاہ رہا۔ 31سال تک قوم کو اپنی مٹھی میں بند رکھا۔ قومی خزانے سے 35ارب ڈالر لوٹ لیے۔ وہ اتنا طاقت ور تھا کہ فوجی جرنیل صدر سے وفاداری ثابت کرنے کے لےے ایک دوسرے سے جھگڑا کر تے۔ مگر عوام کا پیمانہ لبریز ہوا اور صرف ایک سال میں خود کوسیاہ و سفیدکا مالک سمجھنے والا استعفی دینے پر مجبور ہوگیا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

جس نے ملاوٹ کی، وہ ہم میں سے نہیں

کینسر کانام سنتے ہی سب کی آنکھیں پھٹی رہ گئیں۔ بلڈ کینسر، مگر کیسے؟ سب ہونق بنے ڈاکٹر کا چہرہ دیکھ رہے تھے۔ ڈاکٹر نے کہا: آپ غیر معیاری خشک دودھ استعمال کرتے رہے۔ کینسر تو ہونا ہی تھا۔ آج ہر دوسرا پاکستانی ''فوڈ پوائزننگ'' کا شکارہے۔ اس کا بنیادی سبب ملاوٹ شدہ غذائی اشیا کا استعمال ہے۔ 2011ء میں ہونے والے نیشنل نیوٹریشنل سروے (NNS) کے مطابق پاکستان

مزید پڑھیے۔۔۔

تعلیم یافتہ بزنس مین اور آئی ٹی سے ہم آہنگ بزنس

پاکستان کی اپنی کوئی ملٹی نیشنل کمپنی کیوں نہیں ہے؟ اس سوال کا جواب دلچسپ بھی ہے اور حیرت انگیز بھی۔ سادہ لفظوں میں اگر کہیں تو ہمارے کاروبار بھی گھروں کی طرح چل رہے ہیں۔ جہاں کوئی منصوبہ بندی، کوئی مشاورت اور جدید تحقیقات سے استفادے کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔ 21ویں صدی میں جہاں ہرچیز بدل گئی وہاں تجارت بھی بے حد پیچیدہ ہوگئی۔ آپ دنیا کے کسی بڑے

مزید پڑھیے۔۔۔

مفتیان کرام کے نام

امام ابو حنیفہ( رح)نے اپنے شاگردوں سے فرمایا’’ اپنے حجرے میں مت بیٹھے رہنا، لوگوں سے میل جول رکھنا، بدلتے ہوئے معاشرے سے واقف رہنا۔ اپنے استاد کی اس ہدایت پر عمل کرتے ہوئے امام محمد نے معاشرے سے اپنا تعلق جوڑے رکھا۔ وہ رنگ ریزوں کے پاس جاتے، ان کے تجارتی معاملات کے بارے میں معلوم کرتے۔ ان معلومات سے انہیں اندازہ ہوتا کہ لوگوں میں عرف اور عادات کیسے بدل رہی ہیں۔ (احمد بن حنبل:19)

آپ کسی بھی امام، فقیہ اور مفتی کے حالات زندگی معلوم کیجیے، وہ عام لوگوں سے کٹ کر زندگی نہیں گزارتے تھے۔امام ابوحنیفہ خود تاجر تھے۔ بازار اور لین دین کے تمام طریقوں سے واقف۔ اسی لیے جزرسی میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے تھے۔امام محمد کہتے ہیں: ’’مجلس میں امام ابوحنیفہ قیاس پر اپنے ساتھیوں سے بحث کرتے تو سب حصہ لیتے، مگر جب وہ استحسان کی بات کرتے اور مثالیں پیش کرتے تو سب انگشت بدنداں رہ جاتے۔‘‘ سوانح نگار کہتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ بازار اور حالات سے باخبر ترین شخصیت تھے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

حلال فوڈ پر توجہ دیجیے

 اس وقت دنیا بھر میں 640 ارب ڈالر سے بڑی حلال فوڈ کی مارکیٹ ہے، مگر پاکستان صرف 100 ملین ڈالر سالانہ کی پیداوار کررہا ہے۔ دنیا بھر کی حلال مارکیٹ میں پاکستان کا حصہ 2.9 فیصد ہے۔حالانکہ پاکستان میں 159 ملین حلال جانور ہیں۔ خلیج کے اسلامی ممالک میں برازیل حلال گوشت کا سب سے بڑا ایکسپورٹر (برآمد کنندہ) ہے۔ وہ خلیج کے تمام اسلامی ممالک میں آنے والا 54 فیصد گوشت فراہم کرتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

’’عزت ملی اسے جو وطن میں ہی رہ گیا‘‘

کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے۔قومی خزانے کو اس شہر سے 67فیصدریونیوحاصل ہو تا ہے مگر کراچی سمیت کووئٹہ ،پشاور اور کئی دیگرشہروں کی زمین تاجروں پر تنگ ہوگئی ہے۔فرانس کے ایک مبصرلارینٹ گیئرکہتے ہیں کہ کراچی تاجروں کے لیے جہنم بن گیا ہے۔ان کے خیال میں کراچی دوسرا ممبئی بن گیا ہے۔ جہاں اسلحے کی زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ بھتہ لینے کا سلسلہ تو دو

مزید پڑھیے۔۔۔