کبھی صرف ایک ملازم بھی آپ کی کمپنی یا ادارے کو ترقی کے آسمانوں تک پہنچا سکتا ہے۔ اسی طرح ایک ہی ملازم آپ کی فرم لے ڈوبنے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ ہیومن ریسورسز (ادارے کے افرادی وسائل) کے منتظمین اس کی اہمیت کا بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں۔ ملازم کی تقرری میں اس کا انٹرویو سب سے بنیادی قدم ہے۔ یہ بنیادی قدم نہایت درست طور پر آپ کیسے اٹھا سکیں گے؟ اس حوالے سے ماہرین نے انٹرویو کی کئی ایک مہارتیں ذکر کی ہیں۔ ذیل میں ملاحظہ ہوں۔


پہلا سوال کیا ہو؟
اپنے پہلے چند سوالات امیدوار کو تناؤسے باہر نکالنے کے لیے اور انٹرویو کے بقیہ حصے کا انداز مقرر کرنے کے لیے استعمال کریں۔ایسے سوالات جن کا تعلق کسی فرد کے کام کے تجربے سے ہو جیسا کہ ’’مجھے اپنی موجودہ ملازمت کے کسی خاص دن کے بارے میں بتائیں۔ آپ کو اس میں کون سی چیزیں پسند ہیں؟ آپ کو اس ملازمت میں کون سی چیز پسند نہیں ہے۔‘‘ اس طرح کے سوالات سے آپ کا امیدوار اپنے بارے میں بتانا شروع کر دے گا، یہی آپ کے انٹرویو کا اصل مقصد ہے۔


٭…انٹرویو کے دوران 20فیصد سے زیادہ وقت آپ خود باتیں کر تے ہیں تو اپنے مقصد سے دور چلے جائیں گے ٭…انٹرویو کی ابتدا میں کام کی تفصیلات بتانے سے احتراز کریں ٭


زیادہ بولنے سے ، زیادہ سننا بہتر
اگر انٹرویو کے 20فیصد سے زیادہ وقت میں آپ خود باتیں کر رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ امیدواروں کو اپنے بارے میں بولنے کا موقع نہیں دے رہے جب کہ انٹرویو کا اصل مقصد کسی فرد کے جوابات کی بنیاد پر اس فرد کو ملازم رکھنے کے فیصلے میں مدد دینا ہے۔اس لیے آپ کو اس فرد کے جوابات بغور سننے چاہییں۔

پوری توجہ درکار ہے
اپنی کاروباری مصروفیات میں انٹرویوز بھی شامل کر لیں اور ان کو بھی دوسری کاروباری مصروفیات کی طرح اہمیت دیں۔ امیدوار کو اپنی مکمل توجہ دیں۔اس لیے اپنے ضروری کام نمٹا لیں۔اپنے فون کو کچھ دیر کے لیے بند رکھیں۔ دروازہ بند کر دیں۔ دفتر کے لوگوں کو بتا دیں آپ اس وقت اپنے کام میں مداخلت نہیں چاہتے۔

عمومی سوالات کیسے ہوں؟
ایسے سوالات سے اجتناب برتیں جن کے جوابات صرف ہاں یا نہ میں دیے جاسکتے ہیں۔ اس کے بجائے ایسے سوالات پوچھیں جن کے جوابات تفصیل چاہتے ہیں تاکہ آپ کے امیدوار اپنے بارے میں کھل کر بیان کریں۔ان کے جوابات بغور سنیں اور بہت سے ضمنی سوالات پوچھتے جائیں، مثلاً:آپ کیوں سمجھتے ہیں کہ یہ صورت حال ہے؟یاآپ نے یہ کام کس طرح کیا؟اگر آپ مزید معلومات چاہتے ہیں تو امیدوار کو اس بارے میں بتائیں۔

ایماندارانہ جوابات لینے کا گر
انٹرویو کی ابتدا میں کام کی تفصیلات بتانے سے احتراز کریں۔ ایک چالاک آدمی آپ کی تفصیلات سنے گا اور کام کے لحاظ سے جو کچھ آپ سننا چاہتے ہیں،اس کی تفصیلات تیار کرنا شروع کر دے گا۔کام کی تفصیلات بتانے سے پہلے جتنے زیادہ سوالات ممکن ہوں،پوچھ لیں۔اس سے آپ کو زیادہ ایماندارانہ جوابات ملیں گے۔

’’ذرا ہٹ کے‘‘ سوالات کریں
انٹرویو کے چند عام سوالات کے بارے میں ہر کوئی جانتا ہے۔ آج سے 5سال بعد آپ کس عہدے پر فائز ہوں گے؟ آپ کی خوبیاں اور خامیاں کیا ہیں؟ مجھے اپنے بارے میں بتائیے۔اس قسم کے سوالات کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ اکثر امیدواروں نے ان کے جوابات پہلے سے سوچ رکھے ہوتے ہیں۔ اس طرح کے سوالات اب آپ کے کام کے نہیں رہے۔ اس کے بجائے آپ اس طرح کے مشکل سوالات کریں جو امیدواروں کو سوچنے پر مجبور کر دیں۔

ایک سے زائد انٹرویو لیں

پہلے انٹرویو کو دو تین بہترین امیدواروں کا انتخاب کرنے کے لیے استعمال کریں۔ پھر آپ ان میں سے بہترین امیدوار چننے کے لیے انٹرویوز کا دوسرا مرحلہ استعمال کریں۔ دوسرا انٹرویو وہ افراد لے سکتے ہیں جو امیدوار کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ ان افراد کی رائے لینا ضروری ہے۔

غیرمتعلقہ باتیں مت پوچھیں
ملازمت کے انٹرویو کے دوران جو سوالات آپ نہیں پوچھ سکتے،ان کے بارے میں قانون کافی سخت ہے۔ عام طور پر اس طرح کے سوالات منع ہیں جن کے جوابات کی بنیاد پر آپ کسی متوقع ملازم اور دوسرے ملازمین میں فرق روا رکھ سکیں۔ اس طرح کے سوالات کام سے غیر متعلق ہوتے ہیں، مثلاً: عمر، نسل، ازدواجی حیثیت یا معذوری وغیرہ۔