یہ ایک واضح حقیقت ہے اور فطرتِ انسانی کا تقاضا بھی۔ انسان ماضی کے پیش آمدہ خطرات و مسائل کی روشنی میں خود کو حال کے وقوع پذیر اور مستقبل کے ممکنہ خطرات و مسائل سے بچانے کے لئے مختلف قسم کی تدابیر اختیار کرے اور ان خطرات کو یا تو مکمل طور پر ختم کرلے یاپھر ممکنہ حد تک اُن میں کمی کرنے کی بھرپورکوشش کرے۔ تاریخِ انسانی پر ایک نگاہ ڈالنے سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے


٭…ماہرینِ رسک مینجمنٹ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفرِ ہجرت کو رسک مینجمنٹ کی بہترین عملی مثال قرار دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے بستر پراپنی سبز چادر مبارک کے ساتھ لٹا دیا تاکہ کفار کی توجہ اس بستر پر رہے اور آپ بڑی آسانی کے ساتھ مکان مبارک سے نکل سکیں

کہ ہرزمانے کے لوگوں نے اپنی اپنی بساط اور علم و آگہی کی بنیاد پر رسک مینجمنٹ (Risk Management) کو اپنایا اور خود کو خطرات سے بچانے کی ہرممکن کوشش کی۔ جسم کو موسم و ماحول کے مضر اثرات سے بچانے کی خاطر مختلف قسم کے لباس اور رہائش کا انتظام کیا اور ایسی خوراک کا انتخاب کیا ، جن کے استعمال سے وہ خود کو موسمی بیماریوں سے بچاسکیں۔

اس حوالے سے اگر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دنیا میں تشریف آوری سے قبل یعنی زمانۂ جاہلیت کے معاملات کودیکھتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ اہلِ عرب میں بھی خطرات(Risks) کو کم یا کسی حد تک ختم کرنے کے لئے مختلف نوعیت کے طریقۂ کارمروّج و معروف تھے،مثلاً: عاقلہ، ضمان خطر الطریق اور قبیلۂ بنو اشعر کا عمل وغیرہ ایسے تصورات۔ مذکورہ صورتوں میں سے بعض کو زمانہ ٔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں من و عن (as it is) جاری رکھا گیا اور بعض کو کچھ ضروری ترمیم(alteration) اور اصلاح کے ساتھ قبول کرلیا گیا۔ علاوہ ازیں ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی احادیثِ مبارکہ میں تحسین بھی فرمائی۔

قارئینِ کرام کی معلومات کے لئے عاقلہ، ضمان خطر الطریق اور قبیلۂ بنو اشعر کے عمل کی اختصار کے ساتھ وضاحت ضبطِ تحریر میں لائی جارہی ہے۔ ان میں سے عاقلہ کے تحت یہ ہوتا تھا کہ اگر کسی قبیلے کا کوئی شخص کسی دوسرے قبیلے کے کسی فرد کو غلطی سے قتل کردیتا تو مقتول کے ورثاء کو دیت ( جو سو اُونٹ یا دس ہزار درہم یا ایک ہزار دینار یا ان کے مساوی قیمت ہے ) دی جاتی تھی،جو قاتل اکیلا ادا نہیں کرتا تھا بلکہ اُس کے قبیلے کے افراد مجموعی طور پر اس ذمہ داری سے عہدہ برآہوتے تھے۔اس طریقۂ کار سے ایک شخص کا رِسک پورے قبیلے میں تقسیم ہوجاتا، جس کی وجہ سے ہر شخص اسے بآسانی برداشت کرلیتاتھاکیونکہ کسی اکیلے شخص کے لئے سو اُونٹ یا اُن کی قیمت کا ادا کرنا ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہے۔ خطرات (Risks) کو کم کرنے کا یہ طریقۂ کارحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ مبارک میں بھی جاری رہا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسے پسندبھی فرمایا بلکہ بعض روایات سے یہ معلوم ہوتاہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی اپنی حیاتِ طیبہ میں اپنے قبیلے کی طرف سے عاقلہ کے نظام کے تحت دیت ادا کی تھی۔جبکہ ضمان خطر الطریق بھی خطرات کو کم کرنے اور ایک دوسرے کی طرف منتقل کرنے کا ایک طریقہ تھا،جس کے تحت عام طور پرتاجر حضرات کو اپنا سامانِ تجارت محفوظ طریقے سے کسی راستے سے لے جانے کی ضمانت دی جاتی تھی کہ اگر راستے میں کسی قسم کا مالی نقصان ہوا توضامن(Guarantor) اُس نقصان کا ازالہ کرے گا۔خطرات کو کم کرنے کا یہ طریقہ اسلام میں جائز رکھا گیا۔عصرِ حاضر میں ٹریولنگ انشورنس (Travelling Insurance)ضمان خطر الطریق کی مثال ہے، اگرچہ اِس کی عملی صورت شرعی اعتبار سے درست نہیں۔

جہاں تک قبیلۂ بنو اشعر کا تعلق ہے تو اس حوالے سے روایتوں میں آتا ہے کہ قحط سالی خصوصاً جہاد کے موقع پراس قبیلے کا ہر شخص اپنا سامان ایک چادر میں ڈال دیتا تھا اور بعد میں اُن تمام سامان کوخلط ملط(mix) کرکے ایک مخصوص برتن سے قبیلے کے تمام افرادمیں برابری کی بنیاد پر تقسیم کردیا جاتا تھا۔ روایتوں میں ہے کہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے قبیلۂ بنو اَشعر کے اِس عمل کو پسندفرمایا اورارشاد فرمایا: اَنَا مِنْھُمْ وَھُمْ مِنِّی‘‘ ’’ میں اُن میں سے ہوں اور وہ مجھ سے ہیں۔‘‘ لہذا اس طرح کے عمل سے وہ لوگ بھوک کے متوقع خطرے کو دور کرلیا کرتے تھے۔

اسی طرح قرآنِ مجید میں بھی رسک مینجمنٹ کے حوالے سے کئی نظائر موجود ہیں، مثلاً: جان بچانے اور انتہائی ناگزیر حالات میں دل میں ایمان پرقائم رہتے ہوئے وقتی طور پر کلمۂ کفر کہنے کی اجازت رسک مینجمنٹ کی ایک نظیر ہے اور اسے فقہائے کرام (Islamic Jurist/Experts of Islami Law)نے حالتِ اکراہ (Constraint)سے تعبیر کیا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:’’ جس نے ایمان لانے کے بعد اللہ کے ساتھ کفر کیا (اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب اور اس کے لئے بڑا عذاب ہے) مگر جس پر جبر(اکراہ) کیا گیا اور اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہے(اس پر کوئی مواخذہ نہیں ہے۔)‘‘ (سورۂ نحل ،آیت 106:)

یہ آیت حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی جب کہ مشرکین نے کلمۂ کفر بولنے پر انہیں مجبور کیا اور انہوں نے زبان سے کلمۂ کفر کہہ دیا، پھر جب حضور ِاقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تم نے اپنے دل کو کس حال پر پایا؟ عرض کیا: میرا دل ایمان پر بالکل مطمئن تھا۔ ارشاد فرمایا کہ اگر وہ پھر ایسا کریں تو تم کو ایسا ہی کرنا چاہئے، یعنی دل ایمان پر مطمئن رہنا چاہئے۔ اسی طرح میدانِ جنگ میں اپنے بچاؤ کے لئے عام حالات سے ہٹ کر نمازِ خوف ادا کرنے کا حکم بھی رسک مینجمنٹ کی ایک بہترین مثال ہے،جیساکہ اللہ جلّ شانہ نے ارشاد فرمایا: ’’اور (اے رسول )جب آپ ان میں ہوں اور (خوف کے وقت) انہیں نماز پڑھائیں تو چاہئے کہ ان میں سے ایک گروہ آپ کے ساتھ کھڑا ہو اور وہ لوگ اپنے ہتھیار لئے رہیں، پھر جب وہ سجدہ کرلیں تو (اے مسلمانو!) وہ تمہارے پیچھے چلے جائیںاور آئے دوسرا گروہ، جنہوں نے نماز نہیں پڑھی تو انہیں چاہئے کہ وہ آپ کے ساتھ نماز پڑھیں اور وہ (بھی) اپنی حفاظت کا سامان اور اپنے ہتھیار لئے رہیں۔ کافر چاہتے ہیں کہ کسی طرح تم غافل ہوجاؤ اپنے ہتھیاروں اور اپنے سامان سے تو وہ تم پر یکبارگی حملہ کردیں اور تم پر کچھ مضائقہ نہیں اگرتمہیں بارش کی وجہ سے تکلیف ہو یا تم بیمار ہو (اس بات میں) کہ اپنے ہتھیار (اتارکر) رکھ دو اور اپنی حفاظت کا سامان لئے رہو۔ بے شک اللہ نے تیار کر رکھا ہے کافروں کیلئے ذلَّت کا عذاب۔‘‘(سورۂ نسائ، آیت: 102)

مذکورہ آیتِ کریمہ میں مسلمانوں کوصلوٰۃ الخوف کی اجازت بلکہ حکم دیا جا رہا ہے۔اورصلوٰۃ الخوف اس وقت ادا کی جاتی ہے جب مسلمان فوج کافروں کے ساتھ میدانِ جنگ میں برسر پیکار ہوںاور ایک لمحے کی غفلت مسلمانوں کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتی ہو۔صلوٰۃ الخوف کی مختلف صورتیں بیان کی گئی ہیں، مثلاً: فوج دوگروہ میں تقسیم ہو جائیں، جن میں سے ایک گروہ دشمن کے بالمقابل کھڑا رہے تاکہ اُنہیں حملہ کرنے کی جسارت نہ ہو اور ایک گروہ اپنے امام کے پیچھے نماز ادا کرے اور جب یہ گروہ نمازسے فارغ ہو جائے تو یہ پہلے کی جگہ مورچہ زن ہو کر ان کو نماز کا موقع دے اور اس طرح نماز کی تکمیل کرے۔صلوٰ ۃ الخوف کے اس طریقے سے بھی اسلام میں رسک مینجمنٹ پر روشنی پڑتی ہے۔

قرآنِ مجید میں حضرت یوسف علیہ السلام کی بیان کردہ تعبیر کے واقعہ میں بھی رسک مینجمنٹ کی مثال موجود ہے کہ انہوں نے مستقبل میں پیش آمدہ رسک(خطرات) کو کور (cover)کرنے کے لئے اناج ذخیرہ کرنے کی تدبیر بتائی۔قرآنِ مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’فرمایا(یوسف نے) تم حسبِ عادت سات برس تک کھیتی کروگے تو جو کھیتی تم کاٹو اسے اس کی بالی میں چھوڑ دو مگر تھوڑا سا جتنا تم کھاؤ۔‘‘ (سورۂ یوسف، آیت :27)

سورۂ یوسف کی اس آیت کریمہ پر غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ حضرت یوسف علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے تعبیر کا علم عطا فرمایا تھا، لہذا انہوں نے جان لیا کہ قوم آئندہ آنے والے سالوں میں ایک خطرے سے دوچار ہوگی، لہذا نہ صرف انہوں نے قوم کو خطرے سے آگاہ فرمایا بلکہ انہیں اس خطرے سے بچنے کی تدبیر بھی بتادی کہ قوم سات سال تک متواتر کاشت کاری کرے اور جو غلہ تیار ہو اسے کاٹ کر بالیوں سمیت ہی ذخیرہ کرلیں، تاکہ اُن میں غلہ محفوظ رہے اور جب قحط سالی پڑے تو وہ ذخیرہ شدہ غلے کو استعمال کر سکیں۔اسی طرح سورۂ کہف میں مذکور حضرت موسیٰ اور حضرت خصر علیہما السّلام کے کشتی والے واقعے میں بھی رسک مینجمنٹ کا تصور موجود ہے،یعنی اس اِمکانی خطرے کے تدارک کے لئے کہ بادشاہ اچھی کشتی کو غصب کرلیتا تھا، حضرت خضر علیہ السلام نے مسکینوں کی کشتی کو عیب دار بنا دیا۔

بعض ماہرینِ رسک مینجمنٹ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفرِ ہجرت کو رسک مینجمنٹ کی بہترین عملی مثال قرار دیا ہے۔ وہ اس طرح کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کا شانۂ اقدس کا جب کفار نے حصار کرلیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے بستر پراپنی سبز چادر مبارک کے ساتھ لٹا دیا تاکہ کفار کی توجہ اس بستر پر رہے اور آپ بڑی آسانی کے ساتھ مکان مبارک سے نکل سکیں، لہذا ایسا ہی ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بڑی آسانی کے ساتھ وہاں سے نکل آتے ہیں۔ اسی طرح ہجرت کے دوران مدینہ منوّرہ جانے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ تین دن تک غارِ ثور میں قیام کرنا اور مختصر شمالی راستے کے بجائے براستہ یمن طویل جنوبی راستے کا انتخاب فرمانا بھی خطرات کو کم کرنے کے لئے تھا۔کیونکہ اس طریقے سے کفار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچنے کے لئے شمالی راستے کو اختیار کیا، جس کی وجہ سے اُن کا وقت ضائع ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو لے کر بآسانی مدینہ منورہ پہنچ گئے۔

آج پوری دنیا میں رسک مینجمنٹ دوسرے علوم کی طرح باقاعدہ ایک علم (Science) کے طور پر متعارف کرایا جارہا ہے، اسے مختلف شاخوںمثلاً ٹریولنگ میں تقسیم کرکے ہر ایک کی الگ وضاحت کی جارہی ہے۔اس کے دائرہ کارکو وسیع کرنے ،عام لوگوں تک اس کے بارے میں شعور و آگہی پیدا کرنے، اس کی اہمیت اُجاگر کرنے اور اس کے فوائد منتقل کرنے کی غرض سے دنیا بھر میں مختلف قسم کے کورسز کروائے جارہے ہیں اور باقاعدہ عملی وتربیتی پروگرامز اورسیمینار کا انعقادبھی ہورہاہے۔ انجینئرنگ،میڈیکل اورعلم کے دوسرے تمام شعبہ جات میں اسے بطور ایک لازمی مضمون کے شامل کیا گیا ہے۔ لیکن اگر اسلام میں رسک مینجمنٹ کے بارے میں مذکورہ بالا معلومات کی روشنی میں غور کیا جائے تو پتاچلے گا کہ اسلام ہی نے سب سے پہلے منظم اندازمیںنہ صرف رسک مینجمنٹ کا نظریہ دیا اور اس کی حقیقی اہمیت کو اجاگر کیا بلکہ اس کا عملی اطلاق بھی کرکے دکھایا ۔اسلام نے عقائد ، عبادات اور معاملات ہر ایک میں رسک کو مدّنظر رکھتے ہوئے مختلف اوقات میں رسک کو کو ر(cover)کرنے کاحکم دیا۔