یہ ایک امریکی کمپیوٹر کمپنی کی داستان ہے۔ امریکا جیسے ملک میں نیا کاروبار شروع کرنا اور پھر اسے کامیاب بنانا جان جوکھوں کا کام ہے۔ فارچون کمپیوٹرز کو بھی اسی مشکل کا سامنا تھا۔ ایک طرف حریف کمپنیوں نے اجارہ داری قائم کررکھی تھی، دوسری طرف کمپنی کی مالی حالت دن بہ دن خراب ہورہی تھی۔ مالکان سرجوڑ کر بیٹھے۔ فیصلہ کیا کہ ایک سال کے دوران فروخت میں کم از کم 15 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔ دوسرا فیصلہ یہ ہوا کہ کم ازکم 25 فیصد نئے گاہک پیدا کیے جائیں گے


٭…ملازمین کو ترغیب دے کر مالکان بے شمار فوائد حاصل کرسکتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق 90 فیصد بڑی کمپنیوں کے مالکان اپنے ملازمین کو کسی نہ کسی کی ترغیب ضرور فراہم کرتے ہیں ٭

اور اخراجات کو 26 فیصد کم کیا جائے گا۔ ایک سال بعد کے اہداف مقرر کرنے کے بعد سوچا گیا کہ کس طرح ان تمام اہداف کو حاصل کیا جاسکتا ہے؟ سوچ بچار اور غور وخوض کے بعد فیصلہ ہوا کہ ملازمین سے لے کر سپلائی کرنے والے افراد تک ہر سطح پر ترغیبات دی جائیں۔ انعامات رکھے جائیں اور لوگوں کو اچھی کارکردگی دکھانے پر بلا تفریق نوازا جائے۔ بہترین کارکردگی دکھانے والوں کو دل کھول کر انعامات دیے گئے۔ سال بھر میں ملازمین کو نہال کردیا گیا۔ اچھی کارکردگی جس نے بھی دکھائی، انعامات حاصل کیے۔ سال کے بعد رپورٹ سامنے آئی تو حیران کن طور پر سیلز میں 25 فیصد تک اضافہ ہوچکا تھا۔ دوسری طرف نئے گاہک بھی ہدف سے کہیں زیادہ بن چکے تھے۔ کمپنی مالکان نے جب سالانہ رپورٹ دیکھی تو حیرت زدہ رہ گئے۔ کسی کو یقین نہیں آرہا تھا کہ اس قدر ترقی بھی ممکن ہے؟ مختلف کمپنیوں میں ملازمین کو خوش رکھنے کے لیے مختلف طریقے آزمائے جاتے ہیں۔ اس مضمون میں ہم تجربے سے ثابت شدہ بہترین چند طریقے ذکر کریں گے:

بونس دینا
ملازمین کو بونس دینے کے مختلف طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ ملازم کو سال کے آخر میں اس کی کارکردگی دیکھ کر ایک متعین رقم دے دیں۔ ملازمین کو بتا دیا جاتا ہے کہ جس شخص کی کارکردگی ان شرائط پر پوری اتری، اسے ایک خاص رقم دی جائے گی۔

اس سے بھی اچھا طریقہ یہ ہے کہ ہر شعبے کے لیے کارکردگی کا معیار مقرر کردیں اور یہ بھی متعین کردیں کہ جتنی اچھی کارکردگی ہو گی اتنے فیصد ہی بونس زیادہ ملے گا۔ اس طرح یہ ہوگا کہ ہر ملازم زیادہ سے زیادہ محنت کرے گا اور بونس حاصل کرسکے گا۔

کچھ کمپنیاں اپنے سالانہ نفع کو دیکھ کر بونس کا اعلان کرتی ہیں۔ اگر کمپنی کا سالانہ نفع زیادہ ہے تو ملازمین کو زیادہ سے زیادہ بونس دیے جائیں گے، اگر نفع کم ہے تو کم بونس۔ اس طرح سب ملازمین میں برابر بونس تقسیم کیا جاتا ہے۔ بونس مقرر کرتے ہوئے ملازمین کو واضح طور پر بتادینا چاہیے کہ جس کی کارکردگی بری ہوئی وہ بونس سے محروم بھی ہوسکتا ہے۔ اسی طرح بونس حاصل کرنے کی شرائط اتنی سخت ہرگز نہیں ہونی چاہییں کہ ملازمین کے لیے اسے حاصل کرنا ہی ناممکن ہو۔

ترغیب دینا
ملازمین کو ترغیب دے کر مالکان بے شمار فوائد حاصل کرسکتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق 90 فیصد بڑی کمپنیوں کے مالکان اپنے ملازمین کو کسی نہ کسی طرح ترغیب ضرور فراہم کرتے ہیں۔ ترغیبات فراہم کرنے کے لیے مختلف قسم کے انداز اپنائے جاتے ہیں:
عام تناسب: اس کا مطلب ہے کہ جو ملازم بھی زیادہ کام کرے گا اسے ایک متعین مقدار میں انعامی رقم وغیرہ دی جائے گی۔

وقت کا تناسب:جب کوئی ملازم اپنے مقررہ وقت سے زیادہ کام کرے گا تو اسے زائد وقت کے حساب سے مزید ادائیگی کی جائے گی۔

کام کا تناسب: ٹیکسٹائل سمیت کچھ انڈسٹریوں میں ملازمین کے کام کو دیکھ کر انعامی رقم متعین کی جاتی ہے۔

تعلیم دینا
ہر شخص ترقی کرنا چاہتا ہے۔ ملازم جس قدر تعلیم یافتہ ہوگا اتنا ہی مفید اور کارآمد ہوگا۔ اس لیے اگر آپ تعلیمی قابلیت کے مطابق تنخواہ میں اضافے کا اعلان کریں گے تو بہت سے ملازمین چند سالوں میں اعلی تعلیم تک پہنچ جائیں گے۔ اسی طرح ملازمین کو ٹریننگ دینا بھی جاری رکھیں اور ٹریننگ کورسز میں اچھی کارکردگی دکھانے والے کے لیے انعام کا اعلان بھی کرسکتے ہیں۔

خوشی کے مواقع دینا
تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ ملازمین کی ایک بڑی تعداد، دفتر کی طرف سے دیے گئے خوشی کے مواقع سے بہت خوش ہوتی ہے۔ اگر آپ دفتر میں پارٹی منعقد کرتے ہیں، سوشل سرگرمیاں کرواتے ہیں، کبھی ہاف ڈے کا اعلان کرتے ہیں تو ملازمین میں تبدیلی کی لہر ضرور دوڑے گی۔