ہر کمپنی کی خواہش ہوتی ہے کہ ملازمین کو خوش رکھے۔ ملازمین کو خوش رکھنے کے لیے مختلف ترغیبات دی جاتی ہیں۔ یہ ترغیبات پیسے یا انعام کی شکل میں بھی ہوسکتی ہیں اور حوصلہ افزائی اور ہمت افزائی کی شکل میں بھی۔ کسی بھی ملازم کو کام پر آمادہ کرنے کے حوالے سے مختلف نکتہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں:


مغربی نکتۂ نظر


دیگر نظاموں کے نزدیک انسان ایک معاشی حیوان ہے، جبکہ اسلام کی نظر میں انسان سب مخلوقات میں سے بہترین ہے۔ ہر انسان اچھی اور نیک فطرت لے کر پیدا ہوتا ہے۔ اسلام نے ہر ہر انسان کو بتایا ہے کہ دنیا محنت کا جہان ہے۔ ہر شخص کو محنت و مشقت کی ترغیب دی ہے

یورپ میں صنعتی انقلاب آنے کے بعد دو طرح کے نظریات نے فروغ پایا۔ بعض مالکان کا خیال تھا کہ انسان فطری طور پر سست ہے۔ انسانی سستی کو دور کرنے کے لیے پیسے کا لالچ دینا ضروری ہے۔ مگر جیسے جیسے انسان کو پیسہ ملتا جاتا ہے ویسے ویسے کام کرنے کا شوق کم ہوتا جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو جتنا پیسہ ملے گا، انسان اتنی حد تک ہی کارکردگی دکھائے گا۔ اس لیے کسی بھی ملازم کی تنخواہ اتنی مقرر کرنی چاہیے، جس قدر وہ کمپنی کو فائدہ پہنچا سکے۔ ملازم کی کارکردگی دیکھ کر تنخواہ کو اس حد تک بڑھانا چاہیے جہاں تک وہ عمدگی سے کام کرسکے۔ ایک خاص حد تک پہنچ کر ہر ملازم کی صلاحیت جواب دے جائے گی، لہذا اس کی تنخواہ اسی حد تک مقرر کرنی چاہیے۔ اب اس کی تنخواہ میں مزید اضافہ کرنا پیسے کا ضیاع ہے۔

بعض معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ انسان دولت کا پجاری ہے۔ اسے جتنی تنخواہ دیں گے وہ اتنی ہی اچھی کارکردگی دکھائے گا۔ اس لیے ملازمین کو اتنی زیادہ تنخواہ دینی چاہیے جس قدر آپ اس کی کارکردگی دیکھنا چاہتے ہیں۔ معاشی ماہرین کی یہ دونوں آرا انسان کو معاشی حیوان سمجھتی ہیں۔ ان ماہرین کے نزدیک انسان فقط دولت کا پجاری ہے۔

اسلام کا نکتۂ نظر
اسلام انسان کو ایک اور نظر سے دیکھتا ہے۔ اسلام کی نظر میں انسان سب مخلوقات میں سے بہترین ہے۔ ہر انسان اچھی اور نیک فطرت لے کر پیدا ہوتا ہے۔ اسلام نے ہر ہر انسان کو بتایا ہے کہ دنیا محنت کا جہان ہے۔ ہر شخص کو محنت و مشقت کی ترغیب دی ہے۔ رزق کے لیے محنت و مشقت کی حوصلہ افزائی کی ہے بلکہ بے انتہا ثواب کی بھی بشارت دی ہے۔ دوسری طرف مالکان کو بھی حکم دیا ہے کہ ملازمین کو اپنی طرح کا ہی انسان سمجھو۔ انہیں پوری پوری تنخواہ بروقت دو۔ اس کے ساتھ ساتھ انسان کو مختلف ترغیبات بھی دی ہیں۔

مالی ترغیب
اسلام ہر شخص کی ضروریات کا خیال رکھتا ہے۔ اس لیے کسی بھی ملازم کو مالی فائدہ پہنچانے کو بہت اچھا سمجھتا ہے۔ مالکان کو حکم دیتا ہے کہ خود جیسا کھاؤ، اپنے غلاموں اور ماتحتوں کو بھی ویسا ہی کھلائو۔ کسی ملازم کو مالی فائدہ پہنچایا جائے تو بلاشبہ یہ ایک اچھی بات ہے۔

دینی ترغیبات
اسلام ملازمین کو مختلف ترغیبات دیتا ہے۔ انسان کو کہا گیا ہے کہ جو شخص بھی اچھا کام کرے گا اس کی زندگی بھی اچھی ہوگی اور آخرت بھی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ جن لوگوں نے کام اچھی طرح نہیں کیا، کام میں خیانت کی یا خوش دلی سے نہیں کیا تو اللہ کو بخوبی اس کا علم ہے۔ (غافر:19) اسی طرح یہ بھی فرمایا ہے کہ ہر ہر شخص کی تمام حرکتیں، احساسات اور جذبات اللہ کے علم میں ہیں۔ اس لیے جس شخص نے کام کی تنخواہ لی اور خوش دلی سے نہیں کیا، اللہ تعالی اس شخص سے حساب لے گا۔

کام عمدگی سے کرنا
دوسری طرف اسلام یہ بھی کہتا ہے کہ جب کوئی کام کرو تو اسے مارے باندھے اور مجبوری کے عالم میں نہ کرو۔ ہر کام کو اچھی طرح کرو۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’’ اللہ تعالی اس کو پسند کرتا ہے کہ جب کوئی شخص کام کرے تو اسے بہترین انداز میں پورا کرے۔‘‘ ایک دوسری حدیث شریف میں ارشاد نبوی ہے: ’’اللہ تعالی ہنر مند اور ماہر مومن کو پسند کرتا ہے۔‘‘ ایک اور حدیث شریف میں فرمان ہے: ’’سب سے بہترین کام اس شخص کا ہے جو ہاتھ سے محنت کرتا ہے اور اچھے طریقے سے کام کرتا ہے۔‘‘ (مُسنَد احمد بن حنبل، رقم الحدیث: 8211)