’’ہم ایک دن عدن کی طرف سفر کر رہے تھے۔ یہ 10 مئی کا دن تھا۔ صبح سو کر اٹھا تو ایک ہم سفر نے یہ کہہ کر سخت پریشانی میں مبتلا کر دیا کہ جہاز کا انجن ٹوٹ گیا ہے۔ میں نے دیکھا تو واقعی کپتان اور ملازمین گھبرائے پھر رہے تھے، انجن بالکل بے کار ہو گیا تھا اور جہاز نہایت آہستہ آہستہ ہوا کے سہارے چل رہا تھا۔ میں سخت گھبرایا اور نہایت ناگوار خیالات دل میں آنے لگے۔ اس اضطراب میں، میں اور کیا کر سکتا تھا؟ علامہ شبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’تب میں دوڑتا ہوا پروفیسر آرنلڈ کے پاس پہنچا۔


٭ بعض اوقات ایک وقت میں دو کام آسانی سے ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اس وقت کو ہاتھ سے جانے نہ دینا چاہیے، مثلًا: صبح کے وقت ورزش کرتے ہوئے آپ آسانی سے سورئہ یٰس بھی پڑھ سکتے ہیں

وہ ہمارے ساتھ اس جہاز میں سوار تھے۔ ان کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ وہ نہایت اطمینان کے ساتھ کتاب کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ میں نے کہا: ’’آپ کو کچھ اضطراب نہیں، بھلا یہ کتاب دیکھنے کا کیا موقع ہے؟‘‘ فرمایا: ’’اگر جہاز کو برباد ہونا ہی ہے تو یہ تھوڑا سا وقت اور بھی قابل قدر ہے، ایسے قابل قدر وقت اور زندگی کے ان قیمتی لمحات کو رائیگاں کرنا بالکل بے عقلی ہے۔‘‘ ان کے استقلال سے مجھ کو بھی اطمینان ہوا۔‘‘ (متاع وقت اور کاروان علم) سچ ہے یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنے وقت کے ایک ایک لمحے کا خوب خیال رکھا، لیکن آج کل آپ کسی تقریب میں چلے جائیں، چاہے وہ عام لوگوں کی مجلس ہو یا خاص افراد کی، وہاں پر بیشتر لوگ آپ کو وقت کی کمی اور مصروفیات کی زیادتی کا شکوہ کرتے نظر آئیں گے۔ بسا اوقات یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ آج کل تو مصروفیات اتنی بڑھ گئی ہیں کہ اگر دن رات میں 24 سے 30 گھنٹے بھی کام کریں تو بھی پورا ہونے کا نام نہیں لیتے۔ دوسری طرف ایسے افراد کی بھی کمی نہیں جو انہی چوبیس گھنٹوں میں اپنی روزمرہ کی تمام کاروباری، دفتری، گھریلو اور دینی مصروفیات کو نہ صرف پورا کرتے، بلکہ ان کی زندگی میں کوئی افراتفری بھی نظر نہیں آتی۔ دراصل یہ کمال ہے: ’’ٹائم مینجمنٹ‘‘کا۔ جن لوگوں کو یہ ہنر آتا ہے انہیں وقت کی کمی کی شکایت کبھی نہیں ہوتی۔

اپنی مصروفیات، اوقات اور کاموں کے حوالے سے کوئی بھی پریشانی ہو تو درج ذیل بنیادی اصول اپنانے سے آپ اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گے۔

ٹائم مینجمنٹ کے اصول
یہ ایک کائناتی حقیقت ہے کہ وقت کو نہ تو پھیلایا جا سکتا ہے اور نہ ہی کم کیا جا سکتا ہے، البتہ اس کو منظم کیا جا سکتا ہے۔ وقت کی اہمیت کا اندازہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے اس فرمان سے لگایا جا سکتا ہے: ’’اگر قیامت آ جائے تو بھی وقت ضائع نہ کریں، بلکہ جلدی سے ایک پودا زمین میں لگا دیں۔‘‘ مشہور فاتح نپولین بونا پارٹ نے ایک بہت خوبصورت بات کہی ہے: ’’میں بھلے کوئی بھی مقابلہ ہار جاؤں، مگر میں کبھی ایک لمحہ نہیں ہاروں گا۔‘‘

اب وقت کو کیسے منظم کیا جائے؟ ذیل میں دیے گئے زرّیں اصولوں کو اپنا کر اپنے اوقات کو منظم کریں اور ذہنی انتشار اور افراتفری سے چھٹکارا پائیں۔ بس یہی آپ کے سوال کا جواب ہے۔

1 سنجیدگی
ہر کام میں سنجیدگی کو جو اہمیت حاصل ہے، اس سے کوئی بھی عقل مند انسان انکار نہیں کرسکتا، لہذا وقت کے حوالے سے سب سے پہلے سنجیدہ ہو جائیں کہ اس کے بعد ہر کام وقت پر ہو گا۔

2 اہم کام کی تعیین
دن کے آغاز میں تمام کاموں کی ایک اجمالی فہرست بنائیں اور ان کاموں کی اہمیت کے لحاظ سے درجہ بندی کریں، اس طرح آپ کے تمام اہم امور آسانی سے انجام پائیں گے۔ ہو سکتا ہے کوئی بہت ہی غیر اہم کام چھوٹ جائے، لیکن اس کا آپ کو بھی افسوس نہیں ہو گا، کیونکہ آپ اپنے اہم کاموں کو سر انجام دے چکے ہیں۔

3 منصوبہ بندی
اپنے کاموں کے لیے مناسب منصوبہ بندی کریں کہ کس وقت میں کون سا کام کرنا ہے؟ ورنہ بے ترتیب کاموںمیں جہاں کام صحیح طرح نہیں ہو پاتا، وہاں بہت سا وقت بھی ضائع ہو جاتا ہے۔

4 ایک وقت، ایک کام
ٹائم مینجمنٹ کا ایک بنیادی اصول ہے کہ ایک وقت میں ایک کام پر توجہ دی جائے تو بہتر اور تیزی سے سر انجام دیا جا سکتا ہے۔ ’’پروفیسر ایڈم اسمتھ‘‘ نے ایک مرتبہ صنعت کا دورہ کیا جہاں پر کیل بنائے جا رہے تھے اور ہر آدمی الگ سے تار کھینچتا تھا، اس کو کاٹتا تھا، ہیڈ بناتا تھا۔ اس کے بعد اس کی نوک بناتا تھا، انہوںنے وہاں کی مینجمنٹ کو یہ مشورہ دیا کہ اگر تینوں کاموں پر الگ الگ بندوں کو مقرر کیا جائے تو ان کے کام کی رفتار بڑھ سکتی ہے۔ چناچہ جب انہوں نے پروفیسر ایڈم اسمتھ کے مشورے پر عمل کیا تو ان کی اوسط رفتار جو 300 تھی، 1500 پر پہنچ گئی۔

5 کام کے لیے وقت کی تعیین
ہر کام کی تکمیل کا ایک وقت مقرر کیا جائے کہ اس وقت میں یہ کام پایہ تکمیل تک پہنچنا چاہیے۔ اس وقت میں اتنی لچک ہو کہ وہ کام اس میں پورا ہو سکتا ہو، جیسے: آپ امتحان ہال میں بیٹھے ہوئے ہیں اور آپ کے پاس کل 180 منٹ کا وقت ہے اور آپ نے 5 سوالات حل کرنے ہیں تو ابتدا میں ہر سوال کے لیے ایک مخصوص وقت کو متعین کرے اور وہ وقت پورا ہونے پر آپ اگلے سوال پر منتقل ہو جائیں۔

6 ایک وقت میں دو کام
اگرچہ اہم اور بنیادی اصول یہ ہے کہ ایک وقت میں ایک کام ہو، ورنہ عدم توجہی سے کام کا حرج ہو گا، لیکن بعض اوقات ایک وقت میں دو کام آسانی سے ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اس وقت کو ہاتھ سے جانے نہ دینا چاہیے، مثلًا: صبح کے وقت ورزش کرتے ہوئے آپ آسانی سے سورہ یس بھی پڑھ سکتے ہیں۔

7 مناسب طریقہ استعمال کریں
کسی بھی کام کو سرانجام دینے میں جو سب سے سستا اور آسان طریقہ ہو اور جس سے آپ کا وقت بچ سکتا ہو، وہ اختیار کریں، مثلاً: اگر کوئی کام کسی کو دو منٹ فو ن کرنے سے ہو سکتا ہے تو اس کے لیے آپ کو کسی سے ملاقات کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ فون کر کے کام کو سرانجام دیجیے اور وقت بچائیے۔

8 ملازم رکھنا
اگر آپ معاشی اعتبار سے کسی مشکل کا شکار نہیں ہیں تو آپ اپنے گھریلو کام کاج کے لیے ایک ملازم رکھ سکتے ہیں، جس سے آپ کا بہت سا وقت بچ جائے گا اور دیگر اہم کام سرانجام دے سکیں گے۔

لہذا آج سے سنجیدہ ہو کر اپنے اوقات کو منظم کرنا شروع کریں اور اہمیت کے لحاظ سے کاموں کی درجہ بندی کریں۔ تاکہ نہ تو آپ کا وقت ضائع ہو اور نہ بے جا اور غیر اہم کاموں میں خرچ ہو، بلکہ مناسب کاموں میں وقت کو صرف کر کے بہترین انسان بننے کی راہ پر چل نکلیں گے اور ان شاء اللہ ایک ایسا وقت آئے گا کہ آپ بہترین شخصیت کے مالک ہوں گے اور مستقبل بھی آپ کا اچھا ہو گا۔