’’میں ایک دیہاتی غریب کا بیٹا۔ میرے والد نے سڑکوں پر بجری ڈھو کر گزارا کیا۔ مجھے بہت ساری نیک تمناؤں کے ساتھ، بڑے چاؤ سے پڑھایا سکھایا گیا۔ میں ہر کتاب کا اگلا ورق الٹتے ہوئے ایک نیا سپنا تراشتا۔ میں نے محنت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ بس ایک ہی سوچ تھی: خود اور اپنے خاندان کو زندگی کے عذابوں سے نجات دلا کے رہوں گا۔ میں انہیں ہر آسائش مہیا کروں گا۔ انہیں ایک مثالی زندگی بخشنے کی پوری کوشش کروں گا۔

اور پھر وہ دن آیا کہ میرا ہر خواب پورا ہوا۔ میں نے دنیا کی ہر آسائش جمع کر لی۔ میں نے اپنے اہل و عیال کے لیے اپنی استطاعت سے بھی بڑھ کر راحت و آرام کا سامان مہیا کیا…، لیکن!‘‘ آپ دنیاوی لحاظ سے کامیاب اور سیلف میڈ لوگوں کی زندگیاں کھنگالیں تو ان کی داستان کچھ اسی قسم کی پگڈنڈیوں سے گزر کر اس ’’لیکن‘‘ کی بند گلی کی طرف مڑتی نظر آئے گی۔ اس لیکن کے بعد کیا ہوتا ہے؟ یہ جانتے ہوئے آپ خود کو بھی اسی لائن میں کھڑا کر لیجیے۔ آپ اس ’’لیکن‘‘ کی تباہ کاریوں سے صحیح طور پر واقف ہو سکیں گے۔


٭… جب آپ علیہ السلام مدینہ طیبہ تشریف لے گئے تو بھی لوگ آپ کو پہچان نہ سکے۔ بلکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مصافحہ کرنے لگے۔ پھر جب ایک ہی جگہ بیٹھے ہوئے دھوپ آ گئی تو حضرت ابوبکر صدیق کپڑا تان کر کھڑے ہو گئے۔ تب لوگوں نے پہچانا کہ انبیا کے سردار اور بادشاہوں کے بادشاہ یہ ہیں

’’لیکن! میں خود کو آج بھی اسی طرح بھوکا ننگا محسوس کرتا ہوں۔ گویا میں آج بھی وہی ٹٹ پونجیا دیہاتی ہوں۔ کچھ بھی فرق نہیں آیامیری زندگی میں۔ میری بیوی کی فرمائشیں کبھی پوری نہ ہو سکیں۔ میرے بیٹوں کے اللے تللے کبھی کم ہونے میں نہ آئے۔ کاروباری قرضے، گاڑیوں کی سالانہ ادل بدل، دفتر کے اخراجات اور سفری وسائل کبھی پورے ہو کے نہ دیے۔ کاش! اے کاش!! میں اتنا امیر ہی نہ ہوا ہوتا۔ صد افسوس! میری مالداری پر…‘‘ اگر ایسا ہی ہے تو یقینا یہ ایک الم انگیز صورت حال ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کسی نہ کسی طرح اس کا شکار ہے۔ بسیار غور کے باوجود اس کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ رات بھر بے سکونی میں کٹ جاتی ہے۔ ایک معما ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔ مگر آئیے! ہم آپ کا تعاون کرتے ہیں۔ ہمیں سنت، شریعت اور سیرت کی کتابوں میں ایک چھوٹا سا لفظ ملا ہے۔ یہ مختصر سا لفظ اس مسئلے کا یقینی حل ہے۔ سنت نبوی میں ایسی صورت حال کا بہترین حل لفظ ’’سادگی‘‘ میں چھپا ہے۔ یہ دانائی کا بہت بڑا راز ہے۔ آمدن اور خرچ کو معتدل رکھنے کی سب سے بڑی تکنیک ہے۔ ترقی کا بہت اہم راز ہے۔ بڑے لوگوں کا آزمودہ نسخہ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، اسلاف امت اور صلحائے کرام رحمۃ اللہ علیہم کی سیرت کا قدرے مشترک پہلو ہے۔

دو جہانوں کے سردار حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی کیفیت ملاحظہ کیجیے۔ آپ نے اپنے بیٹھنے کے لیے کوئی مخصوص نشست تک نہ بنا رکھی تھی۔ جب باہر سے کوئی زیارت کے لیے آتا تو وہ صحابہ کے مجمع میں جھانک کر پوچھتا: ’’من محمدفیکم؟‘‘ یعنی تم میں سے حضرتِ محمد کون ہیں؟ جواب دیا جاتا: ’’ہذا الابیض المتکئی‘‘ یعنی یہ جو دودھیا چہرے والے (ہاتھ کا) سہارا لیے بیٹھے ہیں۔ چلنے میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ حالت تھی کہ سب میں ملے جلے چلتے تھے۔ اسی طرح جب آپ علیہ السلام مدینہ طیبہ تشریف لے گئے تو بھی لوگ آپ کو پہچان نہ سکے۔ بلکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مصافحہ کرنے لگے۔ پھر جب ایک ہی جگہ بیٹھے ہوئے دھوپ آ گئی تو حضرت ابوبکر صدیقؓ کپڑا تان کر کھڑے ہو گئے۔ تب لوگوں نے پہچانا کہ انبیا کے سردار اور بادشاہوں کے بادشاہ یہ ہیں۔ اور کس شان سے ہیں کہ سبحان اللہ! دنیا میں کہیں ان کی مثال ہی نہیں۔

حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: سادگی ایمان کی علامت ہے۔ صحابی رسول فرماتے ہیں، آپ علیہ السلام نے یہ الفاظ تین مرتبہ ارشاد فرمائے۔ ایک اور حدیث پاک میں فرمان نبوی ہے: ’’اللہ پاک سادگی پسند بندے کو محبوب رکھتا ہے۔ جسے یہ بھی پروا نہیں کہ اس نے کیا پہنا ہے۔‘‘ ایک حدیث میں ہے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’لوگوں میں سب سے زیادہ قابل رشک میرے نزدیک وہ مومن ہے جو مال کے اعتبار سے تو کم ہو، نماز (عبادت) کے اعتبار سے خوب ہو۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ کسی مجمعے میں تشریف لے گئے۔ وہاں بیٹھے ہوئے لوگ احتراماً اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ مگر آپ رضی اللہ عنہ نے اسے ناپسند فرمایا اور ارشاد فرمایا: ’’ایسا مت کرو، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جو شخص اس بات کو پسند کرتا ہو کہ لوگ اس کے واسطے کھڑے ہوا کریں، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔‘‘ آپؓ کی سادگی کا یہ واقعہ بھی ملاحظہ کیجیے۔ یونس بن میسرہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو دمشق کے بازاروں میں دیکھا، آپ کے بدن پر پیوند لگی ہوئی قمیص تھی اور آپ دمشق کے بازاروں کا چکر لگا رہے تھے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجیے۔ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ 22 لاکھ مربع میل کے حکمران جب بیت المقدس فتح کرنے کے لیے تشریف لے گئے تو آپ کے لباس پر کئی پیوند لگے ہوئے تھے۔ سواری کے لیے صرف ایک اونٹ تھا، اس سے زیادہ کچھ نہ تھا۔ جس پر آپ اور آپ کا غلام باری باری سوار ہوتے تھے۔ یہ ایسے وقت میں آپ کی حالت تھی جب آپ کے نام سے اس وقت کی سپر طاقتیں کسری اور ہرقل تھرتھراتے تھے۔ اسی عالم میں آپ نے فرمایا تھا: ’’نحن قوم اعزنا اللہ با لاسلام۔‘‘ ہم وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے اسلام کے ذریعے عزت بخشی ہے۔

سو، قارئین! یہی ہے اصل بڑا پن اور اصل امارت۔ سو طرح کے تکلفات جن کا ہم نے خود اور اپنے اہل و عیال کو عادی بنا دیا ہے، اگر ان سے گریز کریں تو زندگی سنور جائے۔ آپ سنت نبوی کے اس سادہ سے اصول ’’سادگی‘‘ پر کچھ وقت عمل تو کر کے دیکھیے۔