اگر یہ سچ ہے کہ دولت اندھا کرتی ہے تو یہ بھی حقیقت ہے کہ دولت اندھا کرنے کے بعد گڑھے میں بھی گراتی ہے۔ یہی وجہ ہے ایسا بہت کم ہے کہ آدمی دولت ملنے کے بعد اپنے سراپے اور آپے سے باہر نہ نکل جاتا ہو۔ رویے میں تبدیلی آتی ہے۔ احساس اور حساسیت کی شمع بجھ کر رہ جاتی ہے۔ اخلاقیات کے پیمانے بدل جاتے ہیں۔ آدمی انسان اور انسان میں فرق کرنے لگتا ہے۔


٭…’’میں‘‘ کی ذہنیت دراصل انسان میں موجود ایک بری خصلت ’’تکبر‘‘ کی پیداوار ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ’’وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی تکبر ہو گا‘‘ ٭

پروٹوکول کے تقاضے آدمی کا دائرہ اخلاق محدود اور مخصوص کر دیتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر ایسے شخص کی سوچ کے زائچوں میں کچھ نہیں بچتا، سوائے مادیت اور دولت کے۔ وہ ہر ملاقات، ہر نقل و حرکت اور ہر کردار و عمل کو آمدن کے پیمانے میں تولنے لگتا ہے۔ وہ دین، اخلاق، معاشرت اور قانون وغیرہ کو ہر اس جگہ بآسانی فروخت کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے جہاں اسے چار پیسے کا فائدہ محسوس ہو۔ الغرض، ایسا شخص اپنی ’’انا‘‘ کے قبے میں بند ہوتا ہے۔ وہ ’’مادیت‘‘ کے بت کا پجاری بن جاتا ہے۔

آئیے! ہم آپ کو بتاتے ہیں۔ انسان اگرچہ ایسے عالم میں خود کو بڑا عقل مند، بڑا ہوشیار اور بڑا تیس مارخاں سمجھتا ہے، مگر وہ یقینا ایک نفسیاتی روگ میں مبتلا ہوتا ہے۔ یہ شخص جس سراب کے پیچھے دوڑ رہا ہوتا ہے، اس کی حالت بڑی قابل رحم ہوتی ہے۔ وہ دولت کی دوڑ میں کہاں تک جائے گا؟ ظاہر ہے ایک حد سے آگے نہیں جا سکتا۔ مگر ہوس، خیانت، بدعملی، بداخلاقی، بد اعتمادی، بے حسی، لالچ، دین بیزاری، ناداروں کی بد دعائیں، حق داروں کی آہیں، صحت کی بے حفاظتی اور اولاد کی بد تربیتی ایسے کتنے بڑے بڑے روگ ہیں، جو آنے والے کل میں اس کی راہ کی چٹانیں بن جائیں گے۔ اس کے لیے زہر قاتل بنیں گے۔ اس کو بالآخر لے ڈوبیں گے۔

یہ ’’میں اور صرف میں‘‘ کی کہانی ہے۔ آئیے! اب ’’آپ اور دوسرے‘‘ والے کامیاب فلسفہ حیات کی گہرائیاں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

جو لوگ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے اچھی معیشت سے بہرہ ور ہونے کے بعد اپنی اصل کو نہیں بھولتے۔ اپنے اُس خدا کو فراموش نہیں کرتے جس نے انہیں دنیاوی لحاظ سے کسی کا ادنی محتاج بھی نہیں رہنے دیا۔ جنہیں یاد رہتا ہے ان پر بحیثیت ایک امتی اور بطور ایک شہری کچھ فرائض اور ذمہ داریاں ہیں۔ جو اپنے جیسے دوسرے انسانوں کا پوری طرح احساس رکھتے ہیں۔ جن کے سینے میں دوسروں کے لیے دھڑکنے والا ایک دل موجود ہے۔ جن کو اپنی قبر کی سنگینیاں اور محشر کی سختیاں ہر وقت ذہن میں مستحضر ہیں…ایسے لوگ بڑے عقل والے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے بڑا ’’ہاتھ مارا‘‘ ہے۔ دنیا بھی اچھی کر لی اور آخرت بھی خوب بنا لی۔ وہ صرف اپنے چند مرلوں پر مشتمل مکان میں نہیں رہتے، وہ ہزاروں دلوں کی دھڑکنوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ وہ چند جسموں پر حکومت نہیں کر رہے، انہوں نے محبت دے کر دلوں کو فتح کر لیاہے۔

’’میں‘‘ کی ذہنیت دراصل انسان میں موجود ایک بری خصلت ’’تکبر‘‘ کی پیداوار ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا، جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی تکبر ہو گا۔‘‘ (ترمذی) ایک حدیث قدسی کا مفہوم ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں: ’’بڑائی میری چادر ہے، جو اس میں گھسنے کی کوشش کرے گا، میں اس کی گردن توڑ دوں گا۔‘‘ (ابوداؤد) ایک اور حدیث پاک میں ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص اللہ تعالی کے لیے اپنے نفس کو مٹاتا ہے، اللہ تعالی اس کو بلندیاں بخشتا ہے، وہ اپنے آپ کو حقیر سمجھتا ہے، مگر اللہ کی نظر میں وہ بہت عظیم انسان ہوتا ہے۔ اور جو شخص تکبر کرتا ہے، اللہ تعالی اس کو ذلیل کر دیتے ہیں۔ وہ اگرچہ اپنی نظروں میں بڑا بنتا ہے، مگر لوگوں کی نظر میں وہ حقیر ہوتا ہے، اس کی انتہا یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالی اسے لوگوں کی نظر میں کتے اور سور سے بھی زیادہ ذلیل کر دیتا ہے۔ (مشکوٰۃ)

اس خصلت بد کے بالمقابل اللہ تعالی کو متواضع انسان بہت پسند ہے۔ سورۂ فرقان میں ارشاد باری تعالی ہے: ’’میرے خاص بندے زمین پر عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں۔‘‘ اپنے آپ کو مٹا کر، ان کی چال بتاتی ہے کہ اللہ تعالی کی عظمت کے سامنے دبے جا رہے ہیں۔

یہ عاجزی ہی انسان کو انسان بناتی، انسانیت کا احترام سکھاتی اور خلق خدا سے محبت کا درس دیتی ہے۔ یہ ’’میں‘‘ مٹا کر ’’پہلے آپ‘‘ کا درس دیتی ہے۔

آپ کے سامنے دونوں طرح کے رویے موجود ہیں۔ ایک قرآنی اور نبوی ادب اور دوسری جانب مروجہ طور طریقے۔ آپ ان میں سے جسے چاہے اختیار کیجیے۔

یقیناً آپ کی عقل سلیم آپ کو اچھا انسان بننے پر آمادہ، بلکہ مجبور کرے گی۔ وہ آپ کو ’’پہلے آپ‘‘ کی تلقین کرے گی۔ وہ ’’میں‘‘ کو مار کر انسانیت کی ’’محبت‘‘ کا درس دے گی۔