مطلوبہ طمانیت اسی نسبت سے حاصل ہو گی جس قدر ہم دین اور دینداری کے قریب ہوں گےحقیقت شناسی کے تقاضے سے ہمیں پریشانی اور آسودگی ہر دو حالت میں قانع، صابر، شاکر اور راضی رہنے کے سوا چارہ نہیںاللہ کا صد فضل کہ ہم مسلمان ہیں، ورنہ ہماری بھی بے صبری، بے یقینی، بے چینی اور بیزاری کی سرحدیں خدا نخواستہ خود کشی ایسی ذلیل موت سے کم نہ ہوتیںحد نگاہ پر

ایک موہوم نکتہ ہے۔ یوں لگتا ہے سبھی لوگوں کا کوئی مطلب اس سے جڑا ہے۔ سب اس کی جانب دوڑے چلے جاتے ہیں۔ کسی سراب کی مانند طالب ومطلوب دونوں کی رفتار یکساں ہے۔ ہر دو کے درمیان فاصلہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ دنیا اپنے تمام تر اسباب کے ساتھ اس کے پیچھے ہے۔ مگر شاید اسے ہاتھ آنا ہے نہ آتا ہے۔ وہ نکتہ، وہ مطلوب، وہ سراب ہماری جانی پہچانی چیز ’’سکون‘‘ ہے۔ اگر یہ ایک حقیقت ہے توایک لمحے کے لیے ہم غور کرتے ہیں۔ آدھی سے زیادہ دنیا کا ایک ہاتھ دولت میں تو ایک دل پہ کیوں ہے؟ راحت کے سبھی اسباب، بے خود کرنے کے سارے راگ ورنگ انسان کو کیوں کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں؟ ’’بابر بہ عیش کوش‘‘ کا فلسفہ زندگی رکھنے والے کیوں اپنے ہاتھ سے اپنی حیاتی کا چراغ گل کرتے نظر آتے ہیں؟ہم ہر لمحہ ایک خلش سی، ایک خلا سا، ایک تشنگی سی اور ایک چبھن سی کیوں محسوس کرتے ہیں؟


لہٰذا مسلمان تاجر کی حیثیت سے ہمیں یہ نکتہ ذہن نشین رکھنا چاہیے اللہ کا صد فضل کہ ہم مسلمان ہیں، ورنہ ہماری بھی بے صبری، بے یقینی، بے چینی اور بیزاری کی سرحدیں خدا نخواستہ خود کشی ایسی ذلیل موت سے کم نہ ہوتیں۔ اب دین حاصل ہوجانے کے بعد دینداری کی مقداراور معیار کو بڑھانا ہمارے اپنے اختیار میں ہے۔ جو شخص بھی پریشان ہے وہ یہ سمجھے کہ وہ کسی نہ کسی معاملے میں سنت اور شریعت سے دور ہو گیا ہے

میرا خیال ہے اس عمومی مسئلے کے تین پہلو ہیں اور ہر ایک پر ہمیں الگ الگ غور کرنے کی ضرورت ہے۔
ایک: ہم ایسی زندگی کی تلاش میں ہیں جہاں صرف شانتی ہی شانتی ہو، بہار ہی بہار ہو اور ہریالی ہی ہریالی ہو، تو ہمارا یہ خیال، ہماری فطرت، ہمارے مقصد، پیدائش اور اس دنیا کی حقیقت سے میل نہیں کھاتا۔ آگ، پانی ، ہوا اور مٹی سے مرکب اس عالم تضادات میں خوشی و غم، راحت و بے چینی، فقر و غنا اور نفع و نقصان سنگ سنگ چلیں گے۔ ان سب کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ لہٰذا حقیقت شناسی کے تقاضے سے ہمیں پریشانی اور آسودگی ہر دو حالت میں قانع، صابر، شاکر اور راضی رہنے کے سوا چارہ نہیں۔ سچ جانیے تو در اصل اسی ہنگامہ خیزی میں ہی سکون کا مطلب چھپا ہے۔سو، اسی پر ہنگام زندگی میں، اسی دھوپ چھاؤں میں، اسی نشیب و فراز میں اور اسی گل وخار کی ہمراہی میں ہمیں حیات مستعار کے دن گزارنے ہوں گے۔
دو: ہم میں سے ایک طبقہ وہ ہے جس کی بے چینی کی سرحدیں اس سے بھی وسیع ہیں۔ وہ سوچ سکتا ہے میں اتنی بات سے اپنے دل کو سمجھانے میں ناکام رہوں گا۔ میرے دل کے گھاؤ گہرے، مسائل متعدد اور بے چینی کے سائے گھنیرے ہیں۔ یہ سب بجا مگر مسلمان ہونے کے بعد کوئی مسئلہ لاینحل نہیں ہے۔ اسلام ہر نفس، ہر زندگی، ہر مسئلے کا وہ حل ہمیں بتلاتا ہے جو ہمارے خالق ومالک نے آسمان سے ہمارے لیے اتارا ہے۔ کلمہ پڑھ لینے کے بعد ایک گونہ سکون تو ہمیں حاصل ہے ہی۔ مگر مطلوبہ طمانیت اسی نسبت سے حاصل ہو گی جس قدر ہم دین اور دینداری کے قریب ہوں گے۔ اس کی وجہ وہ ہے جو حق تعالی نے اعلان کرتے ہوئے قرآن پاک میں بیان فرمائی ہے۔ ’’آگاہ ہوجاؤ کہ اطمینان قلب (اور سکون) یاد خدا سے ہی حاصل ہوتا ہے۔‘‘ خدا کی یاد پورے دین پر عمل کرنا ہے۔ پس کلیہ یہ حاصل ہوا کہ آپ جس قدر اللہ کے دین کے قریب ہوں گے، اتنا ہی سکون و اطمینان سے بہرہ ور ہوں گے

تین: تیسری جانب ہمارے سامنے وہ غیر مسلم ہیں جو ہزار درجہ زیادہ ترقی یافتہ، مہذب اور مالدار ہونے کے دعوے نیزہر پہلو سے دنیا اور اس کے اسباب سے مستفید ہونے کے باوجود خود کشی کی ذلت سے دو چار ہورہے ہیں۔ بڑے عہدیداروں میں خود کشی کا تناسب بھی اسی قدر بڑھا ہوا ہے۔ بزنس سے منسلک لوگوں میں تو خود کشی کوئی تعجب بھی نہیں ہے۔ ڈیل کارنیگی نے ’’لوگوں سے معاملہ کرنے کا فن‘‘ نامی کتاب لکھ کر عالمی شہرت حاصل کی۔ مگر ساری زندگی لوگوں کو سکون و اطمینان کے طریقے بتانے والے کا انجام یہ ہوا کہ خود کشی کرکے بزدلانہ موت مرا۔ منصب، اقتدار، دولت اور نفسیات دانی کے باوجود وہ کیا داعیہ ہے جو ان کو کچوکے لگا لگا کر موت کے منہ تک دھکیل کر لے جاتا ہے؟ اس کی وجہ خدا کا انکار اور مذہب بیزاری اپنی جگہ ، ساتھ ساتھ یہ بھی ہے وہ اپنی نام نہاد دانش سے یہ نہ سمجھ پائے کہ راحت اور اسباب راحت میں بہت فرق ہوتا ہے۔ انہوں نے اسباب راحت تو بہت جمع کر لیے۔ مگر راحت نام کی چیز کے حصول سے اپنی پوری قوت صرف کرکے بھی ناکام رہے۔
لہٰذا مسلمان تاجر کی حیثیت سے ہمیں یہ نکتہ ذہن نشین رکھنا چاہیے اللہ کا صد فضل کہ ہم مسلمان ہیں، ورنہ ہماری بھی بے صبری، بے یقینی، بے چینی اور بیزاری کی سرحدیں خدا نخواستہ خود کشی ایسی ذلیل موت سے کم نہ ہوتیں۔ اب دین حاصل ہوجانے کے بعد دینداری کی مقداراور معیار کو بڑھانا ہمارے اپنے اختیار میں ہے۔ جو شخص بھی پریشان ہے وہ یہ سمجھے کہ وہ کسی نہ کسی معاملے میں سنت اور شریعت سے دور ہو گیا ہے۔ جب انسان اللہ والا بن جاتا ہے تب مشکلات ، مشکلات نہیں رہتیں۔ وہ درجات میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ بندہ انہیں مصیبت نہیں، خدا کی طرف سے انعام سمجھتا ہے۔