ماہرین نفسیات کی کاوشوں کا واحد محورانسان کو مثبت انداز فکر تک لے کر آنا ہے۔ اگر آدمی ہر معاملے میں ہمیشہ مثبت سوچے اس کی معاشرت، معاملات، کاروبار اور شخصیت کو قبول عام حاصل ہو۔ مایوسی، احساس کمتری، ناامیدی اور ناکامی کی جڑ ہی کٹ جائے۔ امید، حسن ظن، اولوالعزمی، قوت عمل اور مسلسل ترقی اسی درست زاویہ فکر کے نتائج ہوتے ہیں۔ مثبت سوچ کی وضاحت کے لیے 

ایک بڑی ہی سادہ مثال دی جاتی ہے۔ ایک گلاس میںدرمیان تک پانی ہو۔ باقی آدھا خالی ہو۔ ایک مثبت فکر انسان کہے گا: یہ آدھا بھرا ہوا ہے، جبکہ منفی انداز فکر کا حامل آدھا خالی ہونے سے تعبیر کرے گا۔ یہ سوچ زندگی کے ہر مرحلے، ہر فیصلے، ہر پہلو ، ہر قدم اور ہر اقدام میں اسی رخ سے سفر کرتی اور اپنے اثرات کے ساتھ حاوی رہتی ہے۔ منفی سوچ کا ایک مظہر بدگمانی ہے۔ غلط فہمی منفی طرز فکر کی ایک بڑی مثال ہے۔ ہمارے آج کل کے تمام جھگڑوں کی بنیاد یہی بدگمانی ہے۔
اگر ہم غور کریں بدگمانی کے مقابلے میں ہمیں حسن ظن، تحقیق اور احتیاط کا حکم دیا گیا ہے۔ کسی سے جب بد گمانی ہو جائے، کوئی خبر خلاف معمول ملے، ہمیں فوری ایکشن لینے کے بجائے سب سے پہلے معاملے کی تحقیق کرنی چاہیے۔ اگر حقیقت میں معاملہ ویسا ہی ہو، جیسا سننے میںآیا تھا تو آئندہ کے لیے احتیاط کا دامن تھاما جائے۔ کسی ناخوشگوار فضا کو جنم دینے کے بجائے وسعت ظرفی سے کام لیا جائے۔ مرحلہ بہ مرحلہ مثبت انداز فکر کا یہی تقاضا ہے۔
سورہ حجرات میں اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے: ''اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو، بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔'' (آیت:12)اس کا مطلب یہ ہے کسی کے خلاف تحقیق کیے بغیر بدگمانی دل میں جما لینا درست نہیں۔ مفتی محمد تقی عثمانی نے اسے گناہ کبیرہ لکھا ہے۔ (آسان ترجمہ قرآن:1087) یہ وہی اصول ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔ ہر شعبہ زندگی میں اسی ایک کوتاہی سے گریز کر لیا جائے تو یقینا ایک خوشگوار زندگی وجود میںآئے۔ اسی سورت کے ابتدائی حصے میں بدگمانی کا علاج بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ''اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی سے کچھ لوگوں کو نقصان پہنچا بیٹھو، اور پھر اپنے کیے پر پچھتاؤ۔''(آیت:6) خلاصہ یہ کہ ایک مسئلہ ہے اور ایک اس کا حل۔ یعنی بدگمانی سے بچا جائے اور تحقیق کی عادت بنائی جائے۔
اب اسی اصول کو لے کر کاروباری زندگی میں آجائیے۔ کاروبار کی تین بڑی قسموں انفرادی، پارٹنر شپ اور کمپنی میں سے ہر ایک میں ہمارا دوسروں پر انحصار ہے۔ ہم ہر وقت کچھ سن اور کچھ فیصلہ کر رہے ہوتے ہیں۔ ہمیں کچھ سنتے ہوئے ''کان کا پکا''ہونا چاہیے۔ آپ کے ملازم نے کوئی خبر پہنچائی یا کسی دوست نے کوئی ''انکشاف'' کیا آپ اللہ کے فرمان کے مطابق ضرور تحقیق کریں۔ غلط فہمی، بدگمانی اورخلاف حقیقت پر یقین کرنے سے قطعی گریز کریں۔ ہم مطمئن رہیں گے۔ روزانہ کی تلخیوں سے نجات ہوگی۔ خوشامدیوں سے چھٹکارا ملے گا۔ ملازمین، دوستوں اور بڑوں کا اعتماد حاصل ہوگا۔