آپ کے دفتر، گھر، محلے یا علاقے میں چند افراد ایسے ضرور ہوں گے جو آپ کے سامنے ہر وقت گلہ شکوہ کرتے نظر آئیں گے۔ زندگی سے اکتائے ہوئے، حالات کو کوستے اور ہر دوسرے کی کوتاہیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے۔ کچھ ایسے بھی جو بے وجہ شکی مزاج، وہم کے عارضے میں مبتلا اور اپنے ساتھیوں کو مورد الزام ٹھہرانے کی عادی ہوتے ہیں۔

بعض وہ بھی جو قسمت کا رونا روتے رہتے، تقدیر سے حد درجہ ناراض اور خدا کی تقسیم پر سراسر معترض پائے جاتے ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے کیا ایسے افراد اپنے ہم نشینوں میں بالکل نا پسندیدہ نہیں ہوتے؟ ہر ایک انہیں اپنے درمیان بوجھ محسوس نہیں کرتا؟ گھر والے یہ نہیں چاہتے کہ کاش! یہ کچھ وقت کے لیے ہماری نظروں سے اوجھل ہو جائیں تو اچھا رہے؟ قارئین! اس قسم کی صورت حال کا شکار آپ کے والدین ہیں، بھائی بہنیں ہیں، باس ہیں، دفتر کے ساتھی ہیں، کاروباری پارٹنر ہیں یا آپ خود ہیں۔ یہ مسئلہ پریشان کن ضرور ہے مگر لاینحل نہیں۔ اس کی ایک اہم وجہ ہے جو شاید ہماری نظروں سے اوجھل ہے۔ آیات و احادیث کا ایک ذخیرہ ہمارے لیے امید کی کرن بن کر موجود ہے۔ آئیے! روشنی حاصل کرتے ہیں۔ ہم جب قرآن و سنت میں غور کرتے ہیں تو اس قسم کی سوچ اور عمل کے پیچھے ''گمان کی قوت'' کار فرما دکھائی دیتی ہے۔ نکتہ وار سمجھیے۔


''(آیت: 22) مشہور امام و تابعی حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کی طرف یہ بات منسوب ہے، انہوں نے فرمایا: ''مومن کا گمان اپنے رب کے بارے میں اچھا ہو، تبھی وہ اچھے عمل کرے گا، ایک بد عمل شخص کا اپنے رب کے بارے میں گمان اچھا نہیں ہوتا، اسی لیے وہ برے عمل کرتا ہے۔''

٭گناہوں کی طرف میلان اور عبادت سے بے رغبتی اس سبب ہے کہ ہمارا اپنے اللہ کے بارے میں گمان اچھا نہیں ہے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ اللہ اپنی تمام جلالی و جمالی صفات کے ساتھ ہمارے اوپر پوری طرح قادر ہے۔ وہ قہار اور منتقم ہے۔ ہم گناہ کریں گے وہ گرفت کرے گا، ہم اس کے بندوں کا حق دبائیں گے وہ ضرور انتقام لے گا، نیز وہ رحمان ہے ہماری سو سالہ کوتاہیاں بھی معاف کر دے گا۔ وہ رب ہے جس نے مجھے زندگی، صحت، سہولت ، دولت اور ایمان بخشا ہے، لہذا اس کا شکر اس کی بندگی کے ذریعے ضرور کرنا چاہیے۔ یہ خد اکے بارے میں بد گمانی ہی ہوتی ہے کہ انسان اپنے پالن ہار کا باغی بن جاتا ہے۔ وہ دھڑلے سے گناہ کرتا اور بے باکی سے ظلم کرتا چلا جاتا ہے۔ قرآن کریم بتاتا ہے ۔۔۔۔۔۔اللہ بچائے۔۔۔۔۔۔ دوزخیوں کو سزا دیتے وقت باور کرایا جائے گا کہ یہ در اصل خدا کے ساتھ برے گمان کی سزا پا رہے ہیں۔ سورہ حم ۤسجدہ میں ہے: ''اپنے پروردگار کے بارے میں تمہارا یہی گمان تھا جس نے تمہیں برباد کیا، اور اسی کے نتیجے میں تم ان لوگوں میں شامل ہو گئے جو سراسر خسارے میں ہیں۔ ''(آیت: 22) مشہور امام و تابعی حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کی طرف یہ بات منسوب ہے، انہوں نے فرمایا: ''مومن کا گمان اپنے رب کے بارے میں اچھا ہو، تبھی وہ اچھے عمل کرے گا، ایک بد عمل شخص کا اپنے رب کے بارے میں گمان اچھا نہیں ہوتا، اسی لیے وہ برے عمل کرتا ہے۔''
٭ہم کبھی کچھ ایسی کیفیت کا شکار ہو جاتے ہیں کہ جینے کے نہ مرنے کے۔ ہمیں مایوسیاں گھیرے میں لے لیتی ہیں۔ قرض، بیماری، پریشانی، نقصان یا کسی عزیز کی جدائی ہمیں غم سے نڈھال کر دیتی ہے۔ دعا کرتے ہیں مگر یوں محسوس ہوتا ہے آسمان ہمارا دشمن ہی بن کر رہ گیا ہے ہماری دعائیں فضا میںہی معلق ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ پھر ہم بے سوچے سمجھے کچھ فیصلے کرتے چلے جاتے ہیں۔ مہنگا علاج، عاملوں کے پاس چکر، نذریں نیازیں اور نہ جانے کیا کیا۔ ایسا کب ہوتا ہے؟ جب ہم اپنے رب کے بارے میں بد گمان ہو جاتے ہیں۔ ہم اسے اپنی مشکلات کے حل پر قادر ہونے کا عملی انکار کر دیتے ہیں۔ ہم اپنے مسائل کی نجات محض اسباب میں تلاشنے لگتے ہیں۔ ہم کن گھاٹیوں میں بھٹکتے پھرتے ہیں دوسری طرف ہمارا رب خود اپنی زبان سے کیا کہہ رہا ہے؟ ''اور اللہ کی رحمت کی ناامید نہ ہو۔ یقین جانو، اللہ کی رحمت سے وہی لوگ نا امید ہوتے ہیں جو کافر ہیں۔''(سورہ یوسف، آیۃ: 87)صحیح بخاری و مسلم کی حدیث ہے: ''میں اپنے بندے کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں جیسا وہ مجھ سے گمان رکھتا ہے، میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا ہے، اگر وہ مجھے خلوت میں یاد کرے تو میں اسے خلوت میں یاد کرتا ہوں، وہ سب کے سامنے میرا ذکر کرے تو میں اس سے بہتر مجلس میں اس کا ذکر کرتا ہوں، وہ میری جانب ایک بالشت آگے بڑھے تو میں ایک ہاتھ بڑھتا ہوں، وہ میرے پاس چل کر آئے تو میں دوڑ کر اس کی جانب جاتا ہوں۔'' اللہ تعالی کی اس عمومی شفقت کا تقاضا یہ ہے ہم ہر مسئلے کا حل اللہ کے پاس تلاش کریں۔ اس کی رضا پر راضی رہیں۔ اللہ کی پکار پر لبیک کہیں۔ اس کے سوا کسی کو اپنا کارساز نہ مانیں۔ حالات جیسے بھی آجائیں یہ کبھی نہ کہیں اللہ نے میرے ساتھ انصاف نہیں کیا وغیرہ۔ مشہور تابعی حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ یہ دعا کیا کرتے تھے: ''اے اللہ! مجھے اپنے پاک ذات کا سچا توکل اور آپ پر حسنِ ظن عطا فرما۔'' (سیر اعلام النبلائ: 325/4) آپ بھی اپنے اللہ سے یہی مانگا کیجیے۔