٭۔۔۔۔۔۔ بسا اوقات ایک شخص غصے میں ایسی بات کر جاتا ہے یا ایسی حرکت کا مرتکب ہوتا ہے جس سے اس کی دنیا و آخرت برباد ہوجاتی ہے
٭۔۔۔۔۔۔ اس بات سے اب کوئی اختلاف نہیں کرتا کہ غصہ ایک نفسیاتی اور روحانی بیماری ہے
دکاندار اور خریدار میں تو تکار ہو گئی۔ یہ عرب کا کوئی علاقہ ہے۔ بات صرف ایک ریال کی تھی۔ دکان والے کا بھرپور اصرار اور

خرید نے والے کا بے لچک انکار۔ خریدار کی بغل میں لوہے کا کوئی اوزار تھا۔ پلک جھپکنے میں وہ دکاندار کے سر کو دو حصوں میں تقسیم کر چکا تھا۔ قاضی نے شرعی فیصلہ صادر کرتے ہوئے قتل عمد ہونے کے ناتے قصاص کا حکم دیا۔ یوں خریدار بھی دکاندار کے پاس زیر زمین پہنچا دیا گیا۔ لوگوں نے کہا: یہ قصور اس ایک ریال کا ہے۔ کیا انہوں نے درست کہا؟


خود بینی اور فخر و غرور غصے کا بڑا سبب ہے۔ جب آدمی سامنے والے کو اپنے سے حقیر اور کمتر سمجھتا ہے تو فطری طور پر اس کے نقد اور جواب پر غصے ہوتا ہے۔ جب کوئی بیٹا اپنے باپ پر، خادم اپنے آقا پر، شاگرد اپنے استاذ پر اور عامی کسی عالم پر معترض ہوتا ہے تو اس کے پیچھے خود بینی اور بڑے پن کا جذبہ کار فرما ہوتا ہے

پچھلی امتوں میں دو شخص تھے۔ ایک بہت عبادت گزار اور دوسرا بڑا ہی ظالم۔ حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو کے بارے میں بتایا: وہ عابد اس گناہ گار کو نصیحت کرتا رہتا تھا، مگر وہ کبھی باز نہ آیا۔ ایک دن عابد نے اُس کو کسی گناہ میں مبتلا دیکھا۔ یہ بات اس کو بہت بری معلوم ہوئی۔ اس نے گناہ گار سے کہا: اللہ کی قسم! اللہ تمہاری بخشش نہیں کرے گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اللہ نے گناہ گار کی مغفرت فرمادی اور عابد کے تمام اعمال ضائع کردیے۔ (مسند احمد: /1 323-363) عبادت گزار کو اوج سے پاتال میں کس چیز نے گرایا؟
حضرت عمررضی اللہ عنہ نے ایک نشئی کو دیکھا۔ وہ جھومتا جھامتا جارہا تھا۔ آپ نے چاہا کہ اسے شریعت کے حکم سے سزا دیں۔ کسی بھی مزید اقدام سے قبل اس نشہ خور نے حضرت عمرؓ کو کچھ برا بھلا کہہ دیا۔ حضرت عمرؓ نے اسے سزانہ دی۔ کسی نے وجہ پوچھی تو فرمایا: جب اس نے مجھے برا بھلا کہا تو مجھے ذاتی طور پر غصہ آگیا۔ مجھے یہ منظور نہیں کہ کسی مسلمان کو اس وجہ سے سزا دوں کو اس نے میری عزت کا خیال نہیں کیا۔ (قصص الاولیائ: 568) حضرت عمرؓ نے ہمیں کیا سبق دیا؟
غصہ، جارحیت، ہیجان، غرور، احساس بالاتری، ڈپریشن ، ذہنی تناؤاور عارضہ قلب ۔۔۔۔۔۔ یہ سبھی ایک دوسرے سے قریب سے ہو کر گزرتے ہیں۔ ایک ، دوسرے کا سبب ہے یا نتیجہ یا اس کی انتہا۔ ہم میں سے ہر ایک کسی نہ کسی درجے میں غصے کی آگ سے ضرور متاثر ہے۔ مگر ہر ایک کی چاہت ہے اپنی طبیعت کو اعتدال سے مالا مال کر کے ایک پر سکون زندگی اور ہر دلعزیز شخصیت کا مالک بنے۔ ہمارے گردو پیش میں ہر طبقے میں، ہرروز اور ہر مقام پر کتنے ایسے واقعات پیش آرہے ہیں جن میں غصے کی طوفانی لہر کا اثر موجود ہوتا ہے۔ قتل، خودکشیاں، طلاقیں، تشدد، برطرفیاں اور ناچاقیاں اخبارات کے ہر صفحے پر'' تن ہمہ داغ داغ شد'' کا منظر پیش کرتی ہیں۔ غصے کو عارضہ قلب کی ایک بڑی وجہ کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔ برطانیہ جہاں تقریباً 25 لاکھ افراد دل کی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ ایک سروے کے مطابق ان میں سے اکثر غصے اور ڈپریشن کے باعث اس مرض کا شکار ہوئے۔ اس بات سے اب کوئی اختلاف نہیں کرتا کہ غصہ ایک نفسیاتی اور روحانی بیماری ہے۔ جس کا دونوں لحاظ سے علاج ہمیں سنت و شریعت کی ہدایت میں ملتا ہے۔ ذیل میں ہم پہلے اس کے عمومی اسباب اور پھر اس کا نبوی علاج ذکر کریں گے۔
1 خود بینی اور فخر و غرور غصے کا بڑا سبب ہے۔ جب آدمی سامنے والے کو اپنے سے حقیر اور کمتر سمجھتا ہے تو فطری طور پر اس کے نقد اور جواب پر غصے ہوتا ہے۔ جب کوئی بیٹا اپنے باپ پر، خادم اپنے آقا پر، شاگرد اپنے استاذ پر اور عامی کسی عالم پر معترض ہوتا ہے تو اس کے پیچھے خود بینی اور بڑے پن کا جذبہ کار فرما ہوتا ہے۔
2 بحث وجدال: عمومی طور پر دیکھا جاتا ہے کہ کسی مجلس میں گفتگو کے دوران جب کوئی فریق اپنی رائے پر اڑ جاتا ہے تو سنجیدگی کی جگہ غصے کا ماحول پیدا ہوجاتا ہے۔ 3 کثرت مذاق: بہت سے لوگ مذاق اور خصوصاً کثرت مذاق کے متحمل نہیں ہوتے، اس لیے ان سے مذاق کرنا یا بار بار مذاق کرنا غصے کا سبب بنتا ہے۔
4 بدزبانی و گالی گلوچ: بات بات پر گالی دینا، ہر ایک کے ساتھ بد زبانی سے پیش آنا غصے کا بہت بڑا سبب ہے۔ اگر کوئی شخص کسی کو مذاق میں بھی بے وقوف کہتا ہے تو سننے والا شخص غصے میں آجاتا ہے۔ ہم غور کریں، ہمارے عمومی جھگڑوں اور الجھنوں کے پیچھے انہی چار میں کسی ایک چیز کا ہی دخل ہوتا ہے۔ آئیے! اب چند حل ملاحظہ کرتے ہیں۔
1 اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت: ایک مومن کو اللہ اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم نے غصہ آنے پر صبر کرنے اور لوگوں کی غلطی کو معاف کردینے کا حکم دیا ہے، جس پر عمل کرکے اس معاشرتی خرابی کی جڑ کاٹی جاسکتی ہے۔
2 برے نتائج پر غور: اس کے دینی و دنیوی نقصانات پر غور کرے کہ بسا اوقات ایک شخص غصے میں ایسی بات کر جاتا ہے یا ایسی حرکت کا مرتکب ہوتا ہے جس سے اس کی دنیا و آخرت برباد ہو جاتی ہے ۔
3 ان اسباب سے پرہیز کرے جو غصہ بڑھاتے ہیں، جیساکہ ان میں سے بعض کا ذکر پہلے کر دیا گیا۔
4 اس ثواب اور اجر کو پیش نظر رکھے جو غصہ پی جانے کے عوض حاصل ہوتا ہے، جیسے: اللہ و رسول کی محبت، جنت میں داخلہ، خصوصیت کے ساتھ حور کا ملنا، ا للہ کے غضب سے بچاؤ، بہت بڑے اجر کا حصول۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کے نزدیک غصے کا گھونٹ پی جانے سے زیادہ اجر والا کوئی اور گھونٹ پینا نہیں ہے ۔ (ابن ماجہ )
5اسی طرح ذکر الہی، جیسا کہ '' اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم '' پڑھنا ۔
6 جس حالت پرہے اسے بدل دے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے اگر کھڑا ہوتو بیٹھ جائے اور اگر بیٹھا ہوتو لیٹ جائے ۔ (سنن ابو داود ) اور اگر مناسب سمجھے تو اس جگہ سے ہٹ جائے۔
7 خاموشی: آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے: اگر کسی کو غصہ آئے تو وہ خاموش ہوجائے ۔ ( مسند احمد )