٭۔۔۔۔۔۔شور، شورش، ڈیپریشن اور انتشار کے اس زمانے میں اگر کہاجائے کہ قطع رحمی ہی سب سے بڑا ایشو ہے تو بے جا نہیں
٭۔۔۔۔۔۔ہم صرف جھگڑوں کو ختم اور جائز تعلقات کو بحال کرکے اپنی دنیا اپنی مرضی کے مطابق بنا سکتے ہیں
''استادِ محترم'' کا معمول ہے کہ صبح دم اپنے معمولات کا آغازبخاری شریف کے مطالعے سے کرتے ہیں۔

جو حدیث سب سے پہلے سامنے آتی ہے اس پر فوری عمل کرتے ہیں۔ایک صبح یہ حدیث پاک ان کی نگاہ کا مرکز تھی: ''من سرہ ان یبسط لہ فی رزقہ وینسالہ فی اثرہ فلیصل رحمہ.'' (جس کو یہ پسند ہو کہ اس کے رزق میں وسعت دی جائے اور اس کی عمر میں برکت ہو تو اسے چاہیے کہ وہ صلہ رحمی کرے۔)آپ نے حسب معمول عمل کرنے کا عزم کیا۔ اسباب میں غور کیا تو پلّے میں 25ہزار روپے تھے۔ مگر انہیں خود بھی ان کی ضرورت تھی۔ یہ بھی پیش نظر تھا کہ بعینہ یہی حاجت ان کے سگے بھائی کو بھی ہے۔ استادِ محترم نے صلہ رحمی کے ناتے وہ تمام رقم بھائی کو پیش کردی۔ اگلے ہی دن ان کے متعلقین میں سے ایک نے ڈھائی لاکھ روپے کی خطیر رقم ہدیہ کی۔ استاد محترم نے غور کیا تو یہ رقم خرچ شدہ کا دس گنا تھی۔ فورا'' من جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثالہا'' (جو شخص ایک نیکی کرے گا تو اللہ کی جانب سے اسے اس کا دس گنا عطا ہو گا)کا مفہوم ذہن میں گھوم گیا۔ اس کے بعد داد ِعزیمت دیتے ہوئے استاد محترم نے اگلا قدم یہ اٹھایا کہ یہ ڈھائی لاکھ بھی اپنے تمام اقارب میں تقسیم کر دیا۔ یہ سوچتے ہوئے کہ جس سبب سے اللہ نے یہ نعمت عطا کی ہے، بہت مناسب ہے کہ دوبارہ اسی راستے پر اسے نچھاور کر دیا جائے۔


۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ''جس کو یہ پسند ہو کہ اس کے رزق میں وسعت دی جائے اور اس کی عمر میں برکت ہو تو اسے چاہیے کہ وہ صلہ رحمی کرے۔'' (صحیح البخاری:885/2)ایک اور حدیث پاک میں ارشاد ہے:''اپنی رشتہ داریاں پہچانو!تاکہ تم صلہ رحمی کر سکو، کیونکہ ''رشتہ داری جوڑنا'' خاندان میں محبت، مال میں کثرت اور عمر میں برکت کا سبب ہے۔''(مشکوۃ:420/2)

''مال کی کثرت ، لمبی زندگی کی خواہش اور آپس کی محبت'' یہ وہ تین چیزیں ہیں جن کے '' حصول'' کے لیے پوری دنیا ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے ہے۔ اس مقصد کے لیے بہت سے اقدامات کیے جاتے اور بہت ساری چیزوں کو راستے کا پتھر سمجھ کر ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس بابت جو چیز سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہے وہ ہماری آپس کی رشتہ داریاں ہیں۔ دولت کی دوڑ میں تعلقات اور نزدیکی قرابتیں ہمارے سامنے اپنی حیثیت کھو دیتی ہیں۔ ادھر دو عالم کی سچی ترین زبان کا کہنا یہ ہے کہ ہمارے ان مقاصد کے حصول کا راز اس کے بر عکس میں پنہاں ہے۔ہم صرف جھگڑوں کو ختم اور جائز تعلقات کو بحال کرکے اپنی دنیا اپنی مرضی کے مطابق بنا سکتے ہیں۔''قطع تعلقی'' کسی بھی سطح پر ہو بری ہے۔مگر اپنے قریبی رشتہ داروں کے مابین ایسا سانحہ سنگین ترہے۔ اسی تعلق توڑنے کو شریعت کی اصطلاح میں ''قطع رحمی'' سے تعبیر کیا گیا ہے۔جس پر بے شمار وعیدیں سنائی گئی اور رشتوں کو از سر نو قائم کرنے پر بہت سے انعامات کا وعدہ کیا گیا ہے۔ آئیے! اپنے سب سے بڑے خیر خواہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند ارشادات ملاحظہ کرتے ہیں۔
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:'' کسی شخص کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑ دے، دونوں کا آمنا سامنا ہو تو ایک اِدھر کو رخ کرے اور دوسرا اُدھرکو۔ ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔''(مشکوۃ:428)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے فرمایا: ''ہر پیر اور جمعرات کو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ہر اس بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے جو اللہ تعالی کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو، مگر اس شخص کی مغفرت نہیں کی جاتی جس کے بھائی اور اس کے درمیان کینہ چل رہا ہو۔ارشاد ہوتا ہے کہ ان دونوں کو ابھی رہنے دو، یہاں تک کہ دونوں صلح کرلیں۔'' (مشکوۃ:427) تیسری حدیث میں قطع رحمی کو قتل کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ حضرت ابو خراش سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جس شخص نے اپنے بھائی کو ایک سال تک چھوڑے رکھا۔۔۔۔۔۔بات چیت بند کرکے تعلقات توڑ دیے۔۔۔۔۔۔ توگویا اس نے اس کا خون بہایا۔''(مشکوۃ:428) احادیث کے مفہوم سے واضح ہے کہ یہ وعیدیں عام مسلمان بھائی سے قطع تعلقی پر وارد ہوئی ہیں۔اپنے قریبی عزیزوں سے قطع رحمی کا وبال کس قدر برا ہو گا، اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں۔ہر شخص اپنے احوال کا جائزہ لے سکتا ہے۔

بات سے بتنگڑ بنتے دیر نہیں لگتی اور پھر رنجش سے قتل تک کا سفر لمحوں میں طے ہو جاتاہے۔شور، شورش، ڈیپریشن اور انتشار کے اس زمانے میں اگر کہاجائے کہ قطع رحمی ہی سب سے بڑا ایشو ہے تو بے جا نہیں۔ ہمیں اس مسئلے کے حل کا آغاز اپنے آپ سے کرنا ہوگا۔ اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین سے حیا کرنا ہو گی۔انانیت کے اس سانپ کو کچلنا ہو گا۔ صلح میں پہل کرنے کی یہ ذرا سی ہمت دنیا و آخرت کی بے شمار کامیابیوں کا باعث ہو گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ''جس کو یہ پسند ہو کہ اس کے رزق میں وسعت دی جائے اور اس کی عمر میں برکت ہو تو اسے چاہیے کہ وہ صلہ رحمی کرے۔'' (صحیح البخاری:885/2)ایک اور حدیث پاک میں ارشاد ہے:''اپنی رشتہ داریاں پہچانو!تاکہ تم صلہ رحمی کر سکو، کیونکہ ''رشتہ داری جوڑنا'' خاندان میں محبت، مال میں کثرت اور عمر میں برکت کا سبب ہے۔''(مشکوۃ:420/2) یہ گھریلو جھگڑے، یہ دلوں کی سختی، یہ جائیداد کا لالچ اور باہمی ناچاقیاں۔۔۔۔۔۔ صرف اسی سبب ہیں کہ ''صلہ رحمی '' کے جذبات عنقا ہو چکے۔ اس کی اہمیت دلوں سے پَر لگا گئی۔ حالات کا شکوہ بے جاہے، کشائش رزق کی امنگ بے کار ہے، محبت کے مضبوط بندھن کا خواب دھندلا ہے. . . جب تک اللہ کا حکم سمجھ کر تعلقات بحال نہیں کر لیے جاتے۔ اس پہ کچھ خرچ بھی اٹھنے والا نہیں۔ آغاز کیجیے اپنے آپ سے۔ نیکی میں پوچھ پوچھ اور کل،پرسوں کوئی معنی نہیں رکھتے۔ اس نیکی کا اجر آپ کو ان شاء اللہ اسی دنیا میں عطا ہوگا۔ رزق میں فراوانی کی صورت میں۔ خوشگوار زندگی کے تحفے کی شکل میں۔ ناچاقیاں رفع ہوکر گہری محبتوں کے روپ میں۔