٭۔۔۔۔۔۔ہر معاملے میں دوسروں کو اہمیت دیں، اخلاق و کردار کا اعلی مظاہرہ کریں اور خود کو کچھ سمجھنا چھوڑ دیں تو ہمارے بہت سے مسائل حل ہو جائیں

٭۔۔۔۔۔۔دوسروں کو اہمیت دینے سے دل و دماغ سے کبر و نخوت کی جڑ کٹے گی، ہر فرد آپ سے اور آپ ہر ایک سے شیر و شکر نظر آئیں گے

جب میری تقریر ختم ہوئی تو حاضرین میں کچھ نوجوان مجھے سلام کرنے آئے۔ دکتور عبدالرحمن العریفی فرماتے ہیں: ان میں سے ایک لڑکے نے بالوں کی عجیب قسم کی چوٹی بنا رکھی تھی۔ وہ جینز بھی بہت تنگ پہنے ہوئے تھا۔ گویا اس نے خود کو مغربی ظاہر کرنے میں پورا زور صرف کیا تھا۔ اس نے مجھ سے مصافحہ کیا اور میرا شکریہ ادا کیا۔ میں نے بھی بڑی گرم جوشی سے اس سے ہاتھ ملایا اور شکریہ بھی ادا کیا۔ ساتھ ہی میں نے کہا: ''نوجوان! تم چہرے سے مجھے ایک اچھے مبلغ نظر آتے ہو!'' پھر تقریبا دو ہفتے بعد ایک نوجوان مجھے ملا۔ بڑی بے تکلفی سے پیش آتے ہوئے کہنے لگا: ''یاشیخ! مجھے پہچانا؟'' پھر بتایا: میں وہی نوجوان ہوں جس سے آپ نے فرمایا تھا: تم چہرے سے مجھے مبلغ لگتے ہو!!واللہ! میں نے عزم کیا ہے میں مبلغ ہی بنوں گا اور آپ جلد میرے ظاہر و باطن میں بڑی تبدیلیاں دیکھیں گے۔''


٭۔۔۔۔۔۔ہر معاملے میں دوسروں کو اہمیت دیں، اخلاق و کردار کا اعلی مظاہرہ کریں اور خود کو کچھ سمجھنا چھوڑ دیں تو ہمارے بہت سے مسائل حل ہو جائیں ٭۔۔۔۔۔۔دوسروں کو اہمیت دینے سے دل و دماغ سے کبر و نخوت کی جڑ کٹے گی، ہر فرد آپ سے اور آپ ہر ایک سے شیر و شکر نظر آئیں گے

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ ان صحابہ میں سے ہیں، جن کا ذکر قرآن پاک میں آیا۔ جس واقعے کی وجہ انہیں یہ اعزاز حاصل ہوا وہ بہت طویل اور سبق آموز ہے۔ وہ غزوہ تبوک میں شریک نہ ہو سکے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تو سچ بتا دیا: ذرا سستی کے باعث میں اس سعادت سے محروم رہا۔ عتاب ہوا اور ان کا سوشل بائیکاٹ کر دیا گیا۔ 50دن تک اہل مدینہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان سے مقاطعہ کر لیا تھا۔ حضرت کعب ؓ پر یہ دن بہت گراں تھے۔ انہیں اپنے خاتمے کی فکر بھی لاحق تھی۔ کہیں خدا کی اسی ناراضی کی حالت میں ہی موت نہ آجائے۔ وہ اپنے قبیلے کی ایک معزز شخصیت تھے۔ چالیس دن کے بعد مزید سختی کے احکامات جاری ہوئے۔ انہیں اپنی اہلیہ سے الگ رہنے کا کہا گیا۔ یوں یہ اپنے در و دیوار کے اندر اجنبی ہو کر رہ گئے۔اسی قسم کی صورت حال کا سامنا ان کے علاوہ دو اور صحابی حضرت مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہما بھی کر رہے تھے۔ پھر بالآخر اللہ نے پچاسویں دن ان کی توبہ قبول فرما لی۔ ان کی اس توبہ سے سارے مسلمان خوشی سے نہال ہو گئے۔ حضرت کعب جب ایک صحابی کی اطلاع پر طویل اور سنگین مقاطعے کے بعد مسجد نبوی آئے تو صحابہ کے مجمعے میں سے صرف حضرت طلحہ کھڑے ہوئے اور انہیں گلے لگا کر مبارک باد دی۔حضرت طلحہؒ کے اس عمل سے کعب بن مالک کے دل میں ان کی محبت اس قدر بڑھ گئی کہ آخر عمر تک فرماتے تھے: ''واللہ! میں طلحہ کا یہ حُسن سلوک کبھی نہیں بھولوں گا۔''
حضور صلی اللہ علیہ وسلم منبر نبوی پر جلوہ فگن ہیں۔ قیامت تک قائم رہنے والے اصول و آداب پر مبنی تقریر جاری ہے۔ شمع کے پروانے دیوانہ وار سماعت فرما رہے ہیں۔ اتنے میں ایک دیہاتی شخص مسجد میں داخل ہوتا ہے۔ وہ آپ علیہ السلام کی تقریر وغیرہ کی مصروفیت سے بے نیاز ہو کر سوال کرتا ہے: ''یارسول اللہ! میں آپ سے دین کی باتیں پوچھنے آیا ہوں۔'' آپ علیہ السلام نے محسوس کیا اس دیہات سے آئے ہوئے شخص کے لیے انتظار مشکل ہے۔ اگر زیادہ دیر لگی تو وہ شخص مسجد سے چلا جائے گا، پھر واپس نہ آئے گا۔ گویا اس شخص کے نزدیک اس کا کام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریر پورا ہونے سے زیادہ اہم تھا۔ سو، رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر سے اتر آئے۔ اس کے پاس تشریف فرما ہوئے ، اسے دین کے احکام و مسائل سمجھائے اور دوبارہ منبر نبوت کو زینت بخش کر اپنی تقریر کو مکمل کیا۔
دینِ اسلام نے ہمارے اخلاق و کردار کا بہت باریکی سے احاطہ کیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مبارک عمل، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اس مثالی طرز اور اہل دانش کی یہ حکمت عملی ہمیں ایک کاروباری راز دیتی ہے۔ ہم اگر ہر معاملے میں دوسروں کو اہمیت دیں، اخلاق و کردار کا اعلی مظاہرہ کریں اور خود کو کچھ سمجھنا چھوڑ دیں تو ہمارے بہت سے مسائل حل ہو جائیں۔ ایک معروف تاجر بتا رہے تھے: ''ہم اسی گر پر عمل کرتے ہیں۔ ہمیں معاشرے کے کسی فرد سے کوئی شکایت نہیں۔ پوری دنیا ہمیں اپنا دوست دکھائی دیتی ہے۔ لوگ ہم پر اور ہم ان پر پورا اعتماد کر تے ہیں۔ ''دوسروں کو اہمیت دینے سے دل و دماغ سے کبر و نخوت کی جڑ کٹے گی۔ ہر فرد آپ سے اور آپ ہر ایک سے شیر و شکر نظر آئیں گے۔ اس مقصد کے لیے آپ ہمیشہ سلام میں پہل کیجیے۔ ہر ایک سے حسن ظن رکھیے۔ مسلمان بھائی ہونے کے ناتے حسن سلوک کا برابر درجے کا مستحق سمجھیے۔ یہ ایک چھوٹی سی نیکی، ایک معمولی سا عمل، ایک مفت کی صفت ہماری دنیا و آخرت سدھار سکتی ہے۔ تجارت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔