٭۔۔۔۔۔۔ اﷲ تعالیٰ کے ساتھ خوش گمانی اور احساس خیر خواہی ہماری بے صبر ی، بے چینی اور حرفِ شکوہ کو خوشگوار لذت میں بدل دے گا
''اور دیکھو! ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور، (کبھی) بھوک سے، اور (کبھی) مال و جان اور پھلوں کی کمی کرکے۔

 اور جو لوگ (ایسے حالات میں) صبر سے کام لیں، ان کو خوشخبری سنا دو۔''سورہ بقرہ میں اس آیت 155 کو ذرا عاشقانہ تصور کے ساتھ پڑھیے۔ آپ محسوس کریں گے اللہ ہمارے کان میں سرگوشی کر کے تسلی دینا چاہتے ہیں۔ جس اللہ نے اپنے ہاتھ سے انسان بنا کر پھر خود ہی اسے مصائب میں مبتلا بھی کیا۔ وہ ذات خوب جانتی ہے اپنی پیاری مخلوق کو کندن بنانے کے لیے کس بھٹی سے کتنی دیر کے لیے گزار نا ہے۔ خدا ئے بزرگ و برتر کے ساتھ خوش گمانی اور احساس خیر خواہی ہمارے زاویہ نگاہ کو بے صبری، بے چینی ، بے زاری اور حرف شکوہ کو خوش گوار لذت میں بدل دے گا۔ تلوے میں چبھنے والا کانٹا یوں لگے گا، جیسے: بے تکلف ددست نے چٹکی کاٹ لی۔ بیماری اور صدمہ تو کیا سر بھی تن سے جدا ہو جائے تو فخر سے سینہ تن جائے کہ یارِ پروردگار نے ہمارے سر کی بھی قیمت لگا لی۔


٭۔۔۔۔۔۔ اﷲ تعالیٰ کے ساتھ خوش گمانی اور احساس خیر خواہی ہماری بے صبر ی، بے چینی اور حرفِ شکوہ کو خوشگوار لذت میں بدل دے گا

یقین جانیے! تکلیفیں خدا کی نعمت ہیں۔ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمہ اللہ نے فرمایا: ''انسان کو جو غم اور تکلیفیں پیش آتی ہیں، اگر انسان غور کرے تو یہ تکلیفیں بھی در حقیقت اللہ تعالی کی نعمت ہیں۔'' (اصلاحی خطبات) ہمارا ایمان ہے مصیبتیں خدا کی طرف سے عظیم نعمتیں ہیں۔ مگر یہ بھی سچ ہے ہم اپنی ذات میں بہت ہی ناتواں ہیں۔ یوں ہم مذکورہ یقین رکھنے کے ساتھ خوب دعا گو بھی رہیں۔ حضرت تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابھی حضرت حاجی امداد اللہ رحمہ اللہ مذکورہ نصیحت فرما ہی رہے تھے کہ اس دوران مجلس میں ایک شخص آیا۔ وہ معذور اور مختلف بیماریوں میں مبتلا تھا۔ اس نے حضرت سے درخواست کی: ''میرے لیے دعا فرمادیں اللہ تعالی مجھے اس تکلیف سے نجات دے دیں۔'' ہم حاضرین مجلس حیران ہوئے کہ ابھی تو حضرت نے تکالیف کو نعمت قرار دیا ہے، ساتھ ہی یہ معذور آکر دعا کی درخواست کر رہا ہے۔ اب دیکھیے حضرت اس نعمت کے ازالے کی دعا کیسے کریں گے؟ حضرت حاجی صاحب نے فورا ہاتھ اٹھا کر یوں دعا کی: ''اے اللہ! ہم کمزور ہیں، آپ ہماری کمزوری پر نظر کرکے اس بیماری والی نعمت کو صحت والی نعمت سے بدل دیجیے۔''
تکالیف کتنی بڑی نعمت ہیں؟ اس کا صحیح اندازہ دنیا کے اُس پار جانے سے ہو گا۔ جب آخرت میں اللہ تعالی تکالیف اور مصیبتوں پر صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر عطا فرمائیں گے جن لوگوں پر دین میں تکالیف اور مصیبتیں نہیں گزری ہوں گی، وہ تمنا کریں گے کاش!دنیا میں ہماری کھالیں قینچی سے کاٹی گئی ہوتیں اور ہم اس پر صبر اور اس صبر پر وہ اجر ملتا جو آج ان صبر کرنے والوں کو مل رہا ہے۔ (لاتحزن: دکتور عائض القرنی) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کو کوئی مصیبت، تکلیف، مرض یا پریشانی لاحق ہو جائے، یہاں تک کہ کانٹا جو چبھ جائے، تو اللہ تعالی ان چیزوں سے اس کے گناہ معاف فرمادیتے ہیں۔ (علاج غم: اقبال قریشی) مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ کے ایک استاد میاں اصغر حسین رحمۃ اللہ علیہ تھے۔ سب جانتے اور مانتے تھے حضرت ولی اللہ تھے۔ مفتی شفیع صاحب نے فرمایا: ایک مرتبہ سخت بیمار ہوئے۔ میں عیادت کے لیے حاضر ہوا۔ دیکھا شدید بخار میں مبتلا ہیں۔ سلام کرنے کے بعد پوچھا: ''حضرت کا مزاج کیسا ہے؟'' فرمایا: ''الحمدللہ! میری زبان ٹھیک ہے، دماغ درست کام کر رہا ہے، ہاتھ پاؤں صحیح کام کر رہے ہیں۔ '' اس کے علاوہ جتنی تکلیفیں نہیں تھیں، وہ سب شمار کروائیں، پھر فرمانے لگے: ''بس! ذرا بخار ہے، دعا کرو یہ بھی دور ہو جائے۔'' (اصلاحی خطبات)
معلوم ہوا تکالیف، پریشانیاں اور مصائب اللہ تعالی کی نعمتیں ہیں۔ یوں ہم کبھی شکوہ و شکایت کا کلمہ زبان پر نہ لائیں۔ اس پختہ یقین کے ساتھ صبر پیہم کا بھر پور مظاہرہ کریں کہ اس نعمت پر دنیا میں کوئی پریشانی اٹھا لی جائے گی اور آخرت میں ملنے والا بے تحاشا اجر تو کہیں نہیں گیا۔ یہاں حضرت مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم کی یہ وضاحت ضرور پیش نظر رہے۔صبر کا یہ مطلب نہیں انسان کسی تکلیف یا صدمے پر روئے نہیں۔ صدمے کی بات پر رنج کرنا انسان کی فطرت میں داخل ہے، اس لیے شریعت نے اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔ جو رونا بے اختیار آجائے وہ بھی بے صبری میں میں داخل نہیں۔ البتہ صبر کا یہ مطلب ہے صدمے کے باوجود اللہ تعالی سے کوئی شکوہ نہ ہو۔ بلکہ اللہ تعالی کے ہر فیصلے پر انسان عقلی طور پر راضی رہے۔ (آسان ترجمہ قرآن: 90)