مجھے ایک امریکی شخص ملا۔ کہنے لگا: میں بھی مسلمانوں کی طرح روزہ رکھتا ہوں۔ پیر ذوالفقار احمد نقشبندی دامت برکاتہم فرماتے ہیں: میں نے اس سے کہا: آپ تو غیر مسلم ہیں، پھر یہ روزے کا تکلف کیسا؟ کہنے لگا: سائنسی تحقیق سے ثابت ہوا ہے سال میں کچھ وقت انسان کو ایسا گزارنا چاہیے کہ وہ ’’ڈائٹنگ‘‘ کر کے اپنے نظام ہضم کو کچھ عرصہ فارغ رکھے۔ انسان کے اندر موجود رطوبتیں جو وقت کے

ساتھ ساتھ زہر میں تبدیل ہو جاتی ہیں،روزے کے ذریعے ختم ہو جاتی ہیں۔ ان خطرناک رطوبتوں کے ختم ہونے سے بہت سے پیچیدہ امراض کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ یوں نظام ہضم پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہو جا تا ہے۔ غیرمسلم نے مزید کہا:ـاب میں اور میری بیوی نے فیصلہ کیا ہے، ہر مہینے میں کچھ دن روزہ رکھ کر ’’ڈائٹنگ‘‘ کیا کریں گے۔ ‘‘
آپ مارکیٹ میں نظر دوڑائیے۔ مالک، ملازم، ورکر، پارٹنر، دکاندار، صارف، منیجر اور مختلف کاروباری معاونین کی ایک تعداد…اللہ بچائے… روزہ نہیں رکھتی۔ وہ ہمت ہار بیٹھتے ہیں۔ ہر طرح کے لوگ اور طرح طرح کے بہانے۔ نفس کبھی کمزوری کا بہانہ بنا کر تا ہے تو کبھی سفر کی مشقت ان کے سامنے لا کھڑی کرتا ہے۔ انہیں ایسی پوشیدہ قسم کی بیماریاں جکڑ لیتی ہیں، جو کسی بھی طبیب کی سمجھ سے باہر ہوتی ہیں۔ دفتر ، فیکٹری اور بازار کا ماحول بعض کے لیے باوجود روزے کی اہمیت سمجھنے کے رکاوٹ بن جاتا ہے۔ ذیل میں ذکر کرتے ہیں ان وجوہات کی حقیقت کیا ہے؟
٭…اس پر تمام اطبا تقریبا متفق ہیں روزہ کئی بیماریوں کا علاج ہے۔ ہیپاٹائٹس ، معدے کا السر، جگر کے امراض، گردے اور مثانے کی پتھری، ہائی بلڈ پریشر، لو بلڈ پریشر، سانس کے امراض، یرقان، ڈپریشن اور حاملہ خواتین کے مسائل… ایسے سب مریضوں کے لیے نہ صرف یہ کہ یہ امراض روزے کی راہ میں رکاوٹ نہیں، بلکہ روزے کے اندر ان کا بڑی حد تک علاج موجود ہے۔ انسان کا نظام ہضم اور اس میں شریک اعضا مسلسل استعمال میں رہتے ہیں۔ اللہ تعالی نے 24گھنٹے اور 12ماہ دائم حرکت میں رہنے والے اس نظام کے آرام کے لیے مسلمانوں پر روزے فرض کیے ہیں۔ یوں یہ روزے ہماری صحت کا اہم ذریعہ ہیں۔اسی طرح دن میں روزے کی حالت میں خون کی مقدار میں کمی واقع ہوتی ہے۔ یہ کمی دل کے عمل کے لیے مفید ہے۔ پٹھوں پر دباؤ یا بالفاظ دیگر ڈائسٹالک دباؤ دل کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ آج کا ماڈرن انسان کہیں زیادہ شدید تناؤ اور ’’ہائی پر ٹینشن‘‘ کا شکار ہے۔ رمضان میں ایک ماہ کے روزے خاص طور پر ڈائسٹالک دباؤ کم کر کے اس تناؤکی کیفیت کو ختم کرنے کے لیے بے حد مفید ہیں۔ان تمام تر طبی فوائد کا خلاصہ ایک حدیث پاک بتاتی ہے: ’’صُومُوا تَصِحُّوا … روزے رکھا کرو، صحت مند رہو گے۔‘‘(الطبرانی فی معجم الکبیر، رقم: 1190)۔ ایک مسلمان کے ماننے کے لیے یہی حوالہ کافی ہوتاہے کہ روزہ اللہ نے فرض کیا ہے۔ جس سے بڑھ کر ہمارا کوئی خیر خواہ نہیں ہو سکتا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس صریح حدیث اور مذکورہ تفصیل کے بعد شاید کوئی ایسا عذر باقی نہیں رہتا جو فرض روزہ چھوڑنے کا باعث ہو۔


٭…کچھ دیر بھوک برداشت کرنے کی برکت سے اللہ خوشی اور رزق کی ایسی فراوانی نصیب کرتے ہیں کہ روزے کی مشقت اس کے سامنے ختم ہو کر رہ جاتی ہے ٭… نہ صرف تمام طرح کے امراض روزے کی راہ میں رکاوٹ نہیں، بلکہ روزے کے اندر ان کا بڑی حد تک علاج موجود ہے ٭٭

 

٭…روزے کے بے شمار فضائل ہیں۔ ایک ایک فضیلت ایسی ہے جس کے حصول کے لیے انسان سے جس قدر بھی محنت کا مطالبہ کیا جائے، اس کے لیے کچھ مشکل نہ رہے۔ پھر روزہ تو کوئی بڑی مشقت نہیں۔ بس کچھ وقت کے لیے انسان کھانے سے رکتا ہے، اس کی برکت سے اللہ خوشی اور رزق کی ایسی فراوانی نصیب کرتے ہیں کہ روزے کی مشقت اس کے سامنے ختم ہو کر رہ جاتی ہے۔ ایک حدیث پاک ملاحظہ ہو۔ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جنت کے دروازوں میں ریان نامی ایک دروازہ ہے، جس سے صرف روزہ داروں کو پکارا جائے گا۔روزہ دار اس دروازے سے جنت میں داخل ہوں گے۔اور جو اس دروازے سے داخل ہو جائے گا، اسے کبھی بھی پیاس نہیں لگے گی۔(ترمذی: 765، باب فضل الصوم) آپ گرمی کے ان روزوں کی چند روزہ مشقت برداشت کیجیے، اللہ موت اور حشر کی اُن سختیوں سے بچا لے گا، جن کی شدت کا تصور کرنا بھی آج محال ہے۔
٭…اس کے علاوہ سستی کی ایک وجہ روزے کی فرضیت اور روزہ چھوڑنے پر ملنے والے عذاب سے ناواقفیت بھی ہے۔رمضان شریف کا ایک روزہ ایسا قیمتی ہے کہ حدیث پاک کے مطابق اس کے بدلے میں اگر عمر بھر بھی روزہ رکھتا رہے رمضان کے برابر ثواب نہیں مل سکتا۔ نیز اگر جان بوجھ کر چھوڑ دیا تو اس کا کفارہ بہت ہی سخت ہے۔ رمضان کا ایک روزہ توڑ دینے کا کفارہ یہ ہے کہ دوماہ تک لگاتار روزے رکھے۔ اگر کسی وجہ سے بیچ میں ایک روزہ چھوٹ گیا تو اب پھر نئے سرے سے شروع کر کے 60روزے رکھنے پڑیں گے۔ حتی کہ اگر 59رکھ کر60واں چھوٹ گیا تو اب پھر ایک سے شروع کرے گا۔ اس کے بغیر چارہ نہیں۔ ہم غور کریں کئی کئی روزے بلاوجہ چھوڑ کر کتنا بڑا بوجھ ہم اپنی گردن پر لادے چلے جارہے ہیں۔ اگر کسی میں روزہ رکھنے کی استطاعت نہ ہو تو اس کے مسائل الگ ہیں، ضرورت بڑنے پر مستند مفتیان کرام سے رجوع کیا جا سکتاہے۔