کالے خان پر ایک اور عید آئی ہے۔ کالے خان کا قصہ عجیب نہیںتو ’’ غریب‘‘ ضرور ہے۔ وہ آگ پر چل کر روزانہ صرف ڈھائی سو روپے کماتا ہے۔ وہ ایک بھٹہ خشت کا ملازم ہے۔ یہ تین نسلوں سے مقروض چلے آتے ہیں۔ ہر روزوہ اپنے پورے خاندان کے ہمراہ بھٹے پر پہنچتا ہے۔ بیگم گارا بناتی ہے۔ بیٹی دستی ریڑھی سے گارا ڈھونے والیوں میں شامل ہوجاتی ہے۔ ایک بچہ قریب بیٹھا چلّاتا رہتا ہے۔ کام کے دوران دودھ پیتے بچے کی چیخ سنائی دے جاتی ہے تو ماں کے لیے کام کو روک کر جانا مشکل ہو جاتا ہے۔ خود کالے خان بھٹے کی راہداریوں میں گھوم کر پکی ہوئی اینٹوں کو ترتیب لگاتا ہے۔

ان کوئلوں پہ چلتے چلتے کالے خان کی کالک بھی کئی چند ہو چکی ہے۔ یہ سب ذہنی، جسمانی اورنفسیاتی مشقت اٹھانا اس وجہ سے ضروری ہے کہ شام کو ڈھائی سو ملیں گے۔ جس سے دو وقت کی روٹی میسر آسکے گی۔ گفتگوکے دوران اس کا کہنا تھا: ’’ہم آج بھی غلامانہ زندگی گزار رہے ہیں۔ ہماری نہ زمین ہے نہ مکان۔ ہماری زندگی بھٹہ مالکان کے رحم وکرم پر ہے۔ ‘‘ پوچھا: ’’کیا آپ کی مجبوری اور مزدوری دوسروں سے مختلف ہے؟‘‘ کالے خان کا جواب تھا:’’دراصل میں نے یکے بعد دیگرے 5,6بچیوں کی شادی کی۔ قرض مالک سے لیا۔ ظاہر ہے اس کی ادائیگی جلد ممکن نظر نہیں آتی۔ سو، اب میں کیا، پورا گھرانہ ہی ان کا بے دام غلام ہے۔ ہمیں اپنے مالک سے دو وقت کی روٹی کے سواکسی چیز کی توقع نہیں ہوتی۔ ‘‘ وطن عزیز کی 18 کروڑ آبادی میں سے 5 کروڑ 87 لاکھ افراد خط غربت سے بھی نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔


٭…پیٹ کی خاطرریڑھی کھینچنے والی کسی بچی کے ناتواں بازووں پر آپ بھی رحم کرلینا، کسی بچوں والے کے چہرے پر آپ بھی مسکراہٹ بکھیر دینا ٭… عید کی خوشیاں سوالاکھ بار مبارک ،مگر اتنی سی درخواست ہے اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عید منانے کا انداز ضرور یاد رکھیے گا ٭٭

جس کا مطلب یہ ہے اتنے لوگ فی کس یومیہ 1ڈالر بھی نہیں کماپاتے۔ پاکستان کی غیر سرکاری تنظیم ’’سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ ‘‘کی یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے پاکستان کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی انتہائی مفلسی کا شکار ہے۔ کون بتائے پاک وطن کی ایلیٹ کلاس کو کہ آپ کے صوبہ بلوچستان کی آدھی سے زیادہ آبادی خط غربت سے تجاوز کرچکی ہے۔ یہاں کے 52فیصد لوگوں پر پاکستان میں غربت کی تعریف صادق آتی ہے۔ یہ عدد کسی بھی دوسرے صوبے سے زیادہ ہے۔ اس کے بعدسندھ بشمول کراچی میں غربت کا تناسب 33فیصد ہے۔ یہ لوگ روشنیوں کے شہر اور اسلام کے مرکز میں بیٹھ کر احساس کی کسی شمع کے منتظر ہیں۔ اس سے ملتی جلتی صوبہ خیبر پختونخوا کی صورت حال ہے۔ اس کی 32فیصد آبادی دو وقت کی روٹی کو ترستی ہے۔ ہر گلی ، ہر بازاراور ہر چوراہے میں اکا دکا نظر آنے والے یہ لوگ حقیقی تعداد میں بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ صوبہ پنجاب میں کس مپرسی کا شکار 19فیصد لوگ ہیں۔ایک اور رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 19فیصد آبادی خوراک کی کمی کا شکار ہے۔ ہر سال 4لاکھ بچے صحت کی سہولیات کی کمی کے باعث انتقال کر جاتے ہیں۔ ہر تیسرا شخص بلڈ پریشر، ہر چوتھا شخص شوگر اور ہر تیسری عورت کینسر اور ہر ساتواں آدمی ہیپاٹائٹس کا مریض ہے۔ باقی اڑتالیس، سرسٹھ، اڑسٹھ یااکہتر فیصد کو اللہ نے صاحب حیثیت بنا یا ہے، اگر وہ اپنے فرض منصبی کی پوری پاسداری کریں۔
ہم نہیں سمجھتے کہ آج جب ہم بیوی بچوں کے ہمراہ کئی طرح کی خوشیاں سمیٹے ہوئے ہیں،کالے خانوں کی اتنی بڑی تعداد خوشیوں کی ہلکی سی جھلک اپنے آنگن دیکھنے کے لیے کیسی منصوبہ بندی کررہی ہوگی؟ ماسی کیسے اپنی مالکن کو اپنی چھوٹی چھوٹی بچیوں کا واسطہ دے کر کچھ عطا کرنے پر آمادہ کرے گی۔ بچہ کون سی گلی کی نکڑ پر کھڑے ہو کر خدا کے نام پہ سوال کرے گا۔ باپ کس عید گاہ کے صدر دروازے کے باہر اپنی منڈلی جمائے گا۔ آپ کو عید کی سب خوشیاں سوالاکھ بار مبارک ہوں۔ اتنی سی درخواست ہے جب جب بھی ان ’’کالوں‘‘ کے پاس سے گزریں اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عید منانے کا انداز ضرور یاد رکھیے گا۔ان 87لاکھ ناداروں کوآپ مت
بھولنا۔ غربت کے ان ہوش ربا صوبائی اعداد وشمار کو نظر انداز نہ کرنا۔ پیٹ کی خاطرریڑھی کھینچنے والی کسی بچی کے ناتواں بازووں پر آپ بھی رحم کرلینا۔ کسی بچوں والے کے چہرے پر آپ بھی مسکراہٹ بکھیر دینا۔ کسی بے سہارا کو آپ بھی کہہ دینا:’’ آج کے دن محمد تیرا باپ اور عائشہ تیری ماںہے!!!‘‘