عبدالرحمن!یہ کیسی خوشبو اور یہ کیسا زعفران؟‘‘ بن عوف ؓ کی حالت میں نمایاں تبدیلی دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دل لگی کے انداز میں پوچھا۔ حضرت عبد الرحمنؓ مسکرا دیے۔ عرض کیا: ’’یارسول اللہ!میں نے ایک انصاری عورت خاتون سے شادی کر لی ہے۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ’’اسے مہر میں کیا دیا؟‘‘ عرض کیا: ’’ایک گٹھلی کے برابر سونا دیا ہے۔‘‘ آپ علیہ السلام نے ان کی خوشی میں مزید اضافہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’اب اس خوشی میں ایک

دعوت کرو، خواہ اس کے لیے ایک بکری ذبح کر لو۔ ‘‘اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مال اور تجارت میں برکت کی دعا فرمائی۔ اس دعا کی برکت سے ان کے مال اور تجارت کو بڑی ترقی نصیب ہوئی۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اس کے بعد جب اپنے کاروبار اور تجارت کا ذکر کرتے تو فرماتے: ’’آپ کی اس دعا کے بعدمیں پتھر بھی اٹھاتا تھا تو مجھے قوی امید ہوتی تھی مجھے اس کے عوض سونا یا چاندی ملے گی۔‘‘
اس حدیث پاک سے بڑی وضاحت کے ساتھ ہمیں وہ اصول ملتا ہے جسے آج مغربی دنیا ایک بڑی فلاسفی کے طور پر پڑھتی پڑھاتی ہے۔ایک انگریزی کتاب ’’دی ون منٹ منیجر‘‘ بہت مقبول اور مشہور ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے منیجر کیسے کسی بھی چھوٹے بڑے ادارے میں ملازمین سے بخوبی کام لے سکتے ہیں۔ کتاب میں پورا باب ایک منٹ کی تعریف پر مخصوص ہے۔ مصنف نے اداروں کے مالکان اور منیجرز پر زور دیا ہے وہ روزانہ اٹھتے بیٹھتے اچھا کام کرنے پر ملازمین کی تعریف کریں۔ اس چلن سے ملازمین کی نفسیاتی و جسمانی صحت پر خوشگوار اور مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مصنف نے اس ضمن میں درج ذیل تجاویز دیں:
٭ جب کوئی ملازم عمدہ کام کرے تو فوراً اسے سراہیں، ہفتہ واری یا ماہانہ میٹنگ کا انتظار نہ کریں۔ ٭ ملازمین پر واضح کریں کہ انہوں نے کون سا کام درست انجام دیا۔


٭…کوئی شخص کتنی بھی کامیابیاں حاصل کر لے، وہ اپنی تعریف سننے کا بھوکا رہتا ہے، اپنی تعریف سن کر ہی اسے خوشی حاصل ہوتی ہے ٭… حوصلہ افزائی کے لیے کی جانے والی تعریف اور خوشامد میں بڑا فرق ہوتا ہے، اس فرق کو ملحوظ رکھنے کے لیے عقل کو میزان بنانا ہو گا ٭

٭ ملازم کو بتائیں اس کی محنت سے آپ کو خوشی ہوئی اور یہ کہ عمدہ کام سے ادارے کو فائدہ پہنچا۔ ٭ ان کی حوصلہ افزائی کریں تا کہ وہ آئندہ بھی معیاری کام انجام دیں۔
تعریف و ستائش کئی خوبیاں رکھتی ہیں، مگر تعجب ہے بہت سے مالکان، باس، منیجرز وغیرہ اسے نہیں اپناتے۔ دراصل وہ تعریف کے ضمن میں تین چار خدشات میں گرفتار رہتے ہیں۔ انہیں خدشہ ہوتا ہے کسی ملازم کی تعریف کر دی تو وہ تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ کرے گا۔ بعض یہ ڈر رکھتے ہیں کہ ملازمین کو سراہا گیا تو وہ چاہیں گے کہ ان کے ہر معمولی کام کی بھی تعریف کی جائے۔ان خدشات کے باوجود حقیقت یہی ہے ہر ادارے میں وہی مالک یا منیجر مقبول ہوتا ہے جو وقتاً فوقتاً ملازمین کی تعریف کرے اور ان کی حوصلہ افزائی کرتا رہے۔
یہی بات ایک عرب عالم دین کے الفاظ میں کچھ اس طرح ہے: ’’کوئی شخص کتنی بھی کامیابیاں حاصل کر لے، وہ اپنی تعریف سننے کا بھوکا رہتا ہے، اپنی تعریف سن کر ہی اسے خوشی حاصل ہوتی ہے۔‘‘ دوسروں کے اچھے کاموں کو سراہنا، محنت اور کاوش کی تعریف کرنا اور خوش ذوقی کی داد دینا کتنا اہم ہے؟ اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ ہم میں ہر شخص احساس کرے جب وہ کامیابی کے کسی مرحلے پر پہنچے اور اس کے قریبی دوست پسندیدگی کا اظہار کر کے اس کی حوصلہ افزائی نہ کریں تو کس قدر بیزاری ہوتی ہے۔
محبت و مقبولیت کے اس بہت ہی سادہ مگر جادو اثر فارمولے کو لیجیے اور معاشرے میں اسے آزمائیے۔ آپ اپنے ملازم کے کام کی تعریف کیجیے اور اس کے کاموں میں ایک رونق اور ولولہ نظر آئے گا۔ اپنے دوستوں کی خوش ذوقی پر مدح سرائی کیجیے، محبت کا بندھن اور بھی اٹوٹ ہو جائے گا۔ عزیز و اقارب کے اچھے فیصلوں پر دل کھول کر داد دیجیے، آپ کسی بھی قسم کے حسد، کینہ اور عداوت سے بچے رہیں گے۔ اپنے ہم پیشہ، ہم کار اورہم منصب لوگوں کے لیے دل بڑا رکھیے، آپ کی ترقی کی راہ میں کوئی روڑہ اٹکانے کی جسارت نہیں کرے گا۔ آپ اپنی بیوی بچوں کی حوصلہ افزائی کیجیے، گھرانہ جنت نشان بنا رہے گا۔ سو، آپ ایک ایسا کام کرنے میں کیوں بخل کرتے ہیں، جس پہ خرچ کچھ بھی نہیں اور معاشرے میں اس کی ضرورت بہت زیادہ ہے۔
یہاں ایک وضاحت ضروری ہے حوصلہ افزائی کے لیے کی جانے والی تعریف اور خوشامد میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ اس فرق کو ملحوظ رکھنے کے لیے ہمیں اپنی عقل کو میزان بنانا ہو گا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا: ’’ایک دوسرے کی خوشامد اور بے جا تعریف سے بہت بچو، کیونکہ یہ توذبح کرنے کے مترادف ہے۔(سنن ابن ماجہ)اس فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے واضح ہوا کہ کسی انسان کے سامنے اس کی تعریف کرنا اس کو ذبح کردینے کے مترادف ہے ۔ ہوسکتا ہے وہ شخص خودپسندی اور تکبر کا شکار ہوجائے اور شیطان کی طرح گمراہ ہوجائے۔