اِدھر چھری چلی، اُدھر ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ لوگوں نے بڑے میاں کو تعجب سے دیکھا۔ کئی سوالات ان کے دماغ پر ایک دم یلغار کر گئے۔ کیا ان کے دل میں گائے کی محبت گھر گئی تھی؟ کیا قربانی کو نظریاتی لحاظ سے گراں محسوس کر رہے تھے؟ کیا جانور پر خرچ شدہ مال اس لمحے ان کو ضائع ہوتا محسوس ہو رہا تھا؟سچ یہ ہے کہ ان میں سے کچھ بھی نہ تھا۔ شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمہ اللہ نے قربانی کے لیے ایک گائے پالی۔ اسے خوب کھلایا، پلایا۔ ہر روز عصر کے بعد اسے سیر کرانے لے جاتے۔ یوں قربانی کی اس گائے کے بارے میں ایک رحم کا جذبہ پیدا ہو گیا تھا۔

اللہ کے حکم پر جب اسے ذبح کرنے بیٹھے تو بے اختیار آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ اجازت دیجیے کہ میں اکابر کے اس عمل کے بعدقربانی کے حوالے سے صحابہ کرامؓ کی دلچسپی کی طرف بڑھوں۔ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا:’’یہ قربانیاںکیا ہیں؟‘‘
آپ علیہ السلام نے جواب دیا: ’’تمہارے والد ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ ‘‘ صحابہ نے مزید دریافت فرمایا:’’ہمارے لیے اس میں کیا ہے؟‘‘
آپ علیہ السلام نے فرمایا: ’’ایک بال کے بدلے ایک نیکی ہے۔‘‘ دوسرے سوال کے جواب میں فرمایا: ’’اون کے بھی ایک ایک بال کے بدلے میں نیکی ہے۔‘‘(الترغیب والترہیب)
آگے بڑھیے اور دیکھیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک اس کی اہمیت کس قدر ہے؟ اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ’’تم اپنی قربانی کے ذبح کے وقت موجود رہو، کیونکہ خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی انسان کی مغفرت ہو جاتی ہے۔‘‘ (الترغیب والترہیب) قربانی کو اہمیت نہ دینے والوں کے بارے میں برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ’’جو شخص قربانی کی گنجائش کے باوجود قربانی نہ کرے، وہ ہماری (ہم مسلمانوں) کی عید گاہ کے قریب بھی نہ پھٹکے۔‘‘(مسند احمد: 321/2)


٭…اللہ کو قربانیوں کے گوشت نہیں پہنچتے، نہ ان کے خون۔ بلکہ اسے تمہارے دل کی پرہیزگاری پہنچتی ہے ٭…ذی الحجہ کی 10تاریخ کو کوئی نیک عمل اللہ کے نزدیک قربانی کا خون بہانے سے بڑھ کر پسندیدہ نہیں ٭…بے تحاشا مہنگا جانور خرید کر ہم محلے میں تو ناک اونچی کر لیں گے، مگر اللہ کو دل کا تقوی مطلوب ہے، وہ ناپید رہے گا ٭

اسلام جن احکام و مسائل کا گلدستہ ہے ان میں سے بطور خاص مال داروں پر عائد فریضہ قربانی کا ہے۔ اس کے فضائل بے شمار اور فوائد بے حد و حساب ہیں۔ ایک ایسا حکم جس کا ثبوت قرآن و حدیث، اجماع امت اور تعامل امت چاروں سے ثابت ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالی فرماتے ہیں:’’نماز پڑھیے اور اپنے رب کے لیے قربانی کیجیے۔‘‘ (الکوثر:2)نیز فرمایا گیا: ’’ہر امت کے لیے ہم نے قربانی کا طریقہ مقرر کیا ہے، تاکہ ان چوپائے جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو ہم نے دے رکھے ہیں۔ ‘‘(الحج: 34)تیسرے مقام پر ارشاد گرامی ہے: ’’اللہ کو قربانیوں کے گوشت نہیں پہنچتے، نہ ان کے خون۔ بلکہ اسے تمہارے دل کی پرہیزگاری پہنچتی ہے۔‘‘(الحج: 37) ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول نقل کیا ہے۔ فرمایا: ’’ذی الحجہ کی 10تاریخ کو کوئی نیک عمل اللہ کے نزدیک قربانی کا خون بہانے سے بڑھ کر پسندیدہ نہیں۔اور قیامت کے دن قربانی کرنے والااپنے جانور کے بالوں، سینگوںاور کھروں کو لے کر آئے گا۔‘‘یعنی یہ چیزیں اجروثواب کا باعث بنیں گی۔ نیز فرمایا: ’’قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالی کے نزدیک شرف قبولیت حاصل کر لیتا ہے، لہذا تم خوش دلی کے ساتھ قربانی کیا کرو۔‘‘(ترمذی:180/1)حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل فرمایا: ’’عید کے دن قربانی کا جانور خریدنے کے لیے پیسے خرچ کرنا اللہ تعالی کے یہاں اور چیزوں میں خرچ کرنے سے زیادہ افضل ہے۔‘‘ (طبرانی، دار قطنی) ہم کیوں قربانی کریں؟
ہم قربانی کے بجائے کچھ اور ہی کرلیں؟
ہم کس نوعیت کی قربانی کریں؟
ہم کیسے قربانی کریں؟
قربانی کے دن قریب آتے ہی ٹی وی پروگرام، رسائل و جرائد اور اخبارات اس مسئلے پر بحثوں کا آغاز کرتے ہیں۔ ہم اپنے علاقائی اور رواجی ماحول کے تحت ان سے مستفید یا متاثر ضرور ہوتے ہیں۔ مذکورہ قسم کے کئی ایک سوالات ہمارے دل و دماغ میں کبھی شک کا بیج بو دیتے ہیں تو کبھی ہمت کو پست کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ بہت سے مناظر ایسے بھی سامنے آتے ہیں کہ قربانی پر بے تحاشا خرچ کیا جاتا ہے۔ یہ بھولتے ہوئے کہ ہم اتنے بڑے خرچ کے بعد مقصد بھی حاصل کر رہے ہیں یا نہیں؟ مذکورہ آیات و احادیث کے ذیل میں ’’کیوں ‘‘ کا جواب یہ ملا کہ بس اللہ کا حکم ہے۔ اور اس شخصیت کی یاد میں ہے جنہوں نے اللہ سے کوئی وجہ پوچھے بغیر اور عقل کے تمام تر تقاضوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اپنے بیٹے کو چھری کے نیچے لٹا لیا تھا۔ ’’قربانی کے بجائے کچھ اور‘‘ کا سوال ہی جڑ سے کٹ گیا کہ اللہ کو اس دن بس یہی مطلوب ہے کہ خون بہایا جائے اور اس کے گوشت میں معاشرے کے نادار لوگوں کو شریک کیا جائے گا۔’’کس نوعیت‘‘ کے استفسار کے ذیل میں اس طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ اپنی استطاعت کے دائرے میں عمدہ جانور ضرور خریدا جائے، مگر اسراف سے بچا جائے۔ بچوں کا اصرار اور گھروالوں کی چاہت میں خدا کونہ بھولنا چاہیے۔ بے تحاشا مہنگا جانور خرید کر ہم محلے میں تو ناک اونچی کر لیں گے، مگر اللہ کو دل کا تقوی مطلوب ہے، وہ ناپید رہے گا۔ یوں اتنا بڑا خرچ بغیر فائدے کے رہ جائے گا۔ ’’کیسے کریں‘‘ کے لیے ایک ہی اصول ہے کہ مستند مفتیان اور مستند کتب ہی ہماری توجہ کا مرکز ہونی چاہییں۔ کسی مسئلے کو مشکوک نہ چھوڑا جائے۔
عید قربان میں چند دن باقی ہیں۔ آپ خود بھی اہتمام کیجیے اور اپنے احباب کو بھی اس جانب متوجہ کیجیے۔ حدیث کے مطابق نیکی کی طرف متوجہ کرنے والا اس نیکی کے برابر اجر کا مستحق ہوتا ہے۔