پچھلی رات کو اس کی آنکھ اچانک کھلی۔ پہلی بار نہیں، کئی بار کے بعد ایک بار پھر۔ اس کی آنکھوں میں آنسو اتر آئے۔ ’’نہیں، نہیں! میں ہرگز کامیاب نہیں ہوں، میں دنیا کا ناکام ترین انسان ہوں۔‘‘ اس نے حسب معمول بڑبڑانا شروع کر دیا۔ وہ اٹھا۔ دروازے کو ایک ٹھڈا رسید کیا۔ اپنے عالی شان مکان سے یوں باہر کی طرف بھاگا جیسے وہ بھوت بنگلے سے نکلا جا رہا ہو۔ پھر وہ سڑک پر آیا۔ وہ چلاّ رہا تھا: ’’ہے کوئی جو مجھ سے میرا کاروبار، بنگلوں کی قطاریں، بینک بیلنس سب کچھ لے لے اور مجھے چند لمحے کا دلی سکون دے دے۔

‘‘ رات کے پچھلے پہر اس کی پکار پر کان دھرنے والا کوئی نہ تھا۔ اس لمحے اس کی حالت ایسے لٹے پٹے شخص کی سی تھی، جو کسی اجنبی علاقے میں مارا مارا پھرتا ہو۔ اب اس نے انگلیاں کانوں میں ڈالیں اور پورے زور سے آواز لگائی: ’’لوگو! میری بے بسی کو دیکھو، میں اربوں میں کھیلتے ہوئے ایک لقمے کو ترس گیا۔ آؤ میرا تماشا دیکھو، میرا وجود خود میرا دشمن ٹھہرا۔ میرے خواب پورے ہو کر بھی ادھورے ہیں۔ سنو، چارہ گر ہو کر لا چار ہوں اور میں سب کچھ پا کر بھی سب کچھ کھو چکا ہوں۔ ہے کوئی جو مجھے میرا مرض بتلا دے، میرے دکھ کی دوا کرے … ہے کوئی! ہے کوئی!!‘‘ وہ ایسی جگہ پر نہ تھا کہ آوارہ کتے ہی اس کی چیخ کا جواب دے دیتے۔ وہ زندہ لوگوں کے قبرستان میں آوازیں دے رہا تھا۔ ایک ایسا محشرستان جہاں اس وقت بھی نفسا نفسی کا عالم تھا۔
دیوانہ وار چلتے چلتے اچانک اسے ٹھوکر لگی اور وہ وہیں دہرا ہو گیا۔ پاؤں میں موچ آئی تو دوسری طرف کانچ کا دل ٹوٹنے کی آواز اس سے بھی زیادہ بلند سنائی دی۔ وہ گھٹنوں میں سر دے کر رونے لگا۔ اس کی چیخیں ایسی بھیانک تھیں کہ شاید آسمان والے بھی جھانک جھانک کر دیکھنے لگے ہوں۔ وہ مسلسل روتا رہا۔ قلب میں لگی برسوں کی کالک، مدتوں کا غبار اور نوع بہ نوع رنگینیوں کا خمار آنکھوں کے راستے نکلتا رہا۔ وہ ایک ایسی چیز کا طالب تھا جس کے لیے اس نے زندگی بھر کا سفر کیا، محنتیں کیں، مگر وہ مل کے نہ دی۔ وہ واحد مقصود ومطلوب ’’سکون‘‘ نامی چیز تھی، جسے آج وہ رات بھر پکارتا رہا۔ ’’اللہ اکبر! اللہ اکبر!‘‘ آواز آئی۔ اس نے زندگی میں آج پہلی بار فجر کی اذان سنی تھی۔ بلکہ اس نے اذان بھی پہلی مرتبہ سنی تھی۔ ’’ارے، اوہ! شاید یہ وہی ہے۔نہیں، نہیں یہ وہ نہیں۔ہاں یہ وہی ہے۔ ‘‘ اذان سنتے سنتے اسے ایک غیر شعوری سا اطمینان محسوس ہوا۔ اسے لگا، کسی اجنبی قوت نے اسے تسلی دی ہے۔ اس کے جی نے کہا:’’تجھے کوئی بلا رہا ہے۔ چلو، ادھر چلو۔‘‘اس کے قدم بے اختیار مسجد کی طرف بڑھنے لگے۔ آج ایک مسلمان، پھر سے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے لیے اللہ کے گھر کو چلا تھا۔
اسے زندگی میں پہلی بار سکون ملا تھا۔ وہ بھی ایک سادہ مسجد کی پرانی دری پر چند لمحے سر ٹکانے سے۔ ایک سجدے نے اس کے سامنے پر تکلف کھانوں، پر تعیش رہائش گاہوں، پر بہار جوانیوں، آنکھوں کو خیرہ کرتے کریڈٹ و ڈیبٹ کارڈاور ملکوں ملکوں کے سیر سپاٹوں کو بے حقیقت ثابت کر دیا تھا۔ واپس پلٹا۔ اپنے بنگلے پر ایک نگاہ ڈالی اور نفرت سے تھوک دیا۔ ’’ہونہہ! تو کنکریٹ سے نہیں، سود کی آلائش سے تیار ہوا ہے۔‘‘ وہ صحن تک پہنچا۔ گھر بھر پر نیند کا سحر طاری تھا۔ ’’اف! یہ میرے عیال دھوکہ دہی اور خیانت سے پلے بڑھے ، انہیں کہاں نماز کا خیال آئے گا۔‘‘ وہ اپنی تجوری کے پاس آیا۔ ’’ناسور! تو نے کبھی غریبوں کا حق ادا نہ کیا اور مجھے بچھووں کی مانند کاٹتا رہا۔‘‘ اس نے ایک نظر اپنی نافرمان اولاد پر ڈالی۔ ’’ستیاناس تمہاری دنیا کا اور میری آخرت کا۔میں خود ڈوبا اور تمہیں بھی لے ڈوبا۔‘‘ اس نے اپنی کاروں کی قطار پر نگاہ دوڑائی۔ ’’کیا تم پہ بیٹھ کر میں پل صراط پار کر سکتا ہوں؟ہرگزنہیں! پھر تمہارا کیا فائدہ؟‘‘ وہ اپنے آفس میں آبیٹھا۔ ’’اف یہ کروڑوں کی گنتی اور لاکھوں کا حساب !! میں اللہ کے آگے، ایک روپے کا حساب دینے کے بھی قابل ہوں کیا؟‘‘ وہ آئینے کے سامنے آیا۔ اپنی اڑی رنگت، خستہ حالت، دھنسی آنکھیں اور بالوں سے عاری سر کو اس نے آج ایک نئی نگاہ سے دیکھا۔ ’’میری دولت نے مجھے ٹینشن کے سوا کیا دیا؟ ‘‘اس نے ایک تصویری البم نکالا اور اپنے دوستوں کی ایک طویل قطار کو دیکھتا چلا گیا۔ ’’سب کے سب مطلبی!!!‘‘ اس نے سر کی جنبش سے ان کی نفی کی۔’’میں بھی خود غرض!‘‘ اس نے خود کو بھی پوری دیانت سے اسی لائن میں کھڑا لیا۔
دن گزرتا رہا، وہ تحلیل ہوتا رہا۔ اس کے من کے شہر میں توڑ پھوڑ جاری رہی۔ وہ کئی بار ٹوٹ کے بکھرا اور بکھر کے پھر ٹوٹا۔ شام تک وہ کرچی کرچی ہو چکا تھا۔ بالآخر اس نے وہ ٹکڑے جمع کیے، ایک گٹھڑی میں باندھے اور اپنے آلودہ ضمیر کی یہ کرچیاں قریب کی نہر میں بہا دیں۔ جب وہ پلٹا تو کایا پلٹ چکی تھی۔ اس لمحے اس نے خود کو نئی ایک زندگی کے پہلے دن میں لا کھڑا کیا۔ وہ اب ایک بار پھر بچہ تھا۔ اس نے بڑی احتیاط کے ساتھ اپنی تربیت شروع کی۔ وہ اپنی تعمیر میں ہمہ تن منہمک ہو گیا۔ اسے اب پھونک پھونک کر قدم اٹھانے تھے۔ ایک نئے جہاں کی طرف، ایک نئی زندگی میں۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں سود کا ایک روپیہ بھی جہنم کی آگ ہے، ایک ایسی زندگی جس میں چین ہی چین، امن ہی امن اور سکون ہی سکون ہے۔