’’کہاں جا رہے ہو؟‘‘ پانچ سو صحابہؓ کے تابعی امام شعبی نے اپنے سامنے آنے والے ایک بھلے مانس انسان سے پوچھا۔ ’’تجارت پیشہ ہوں، بازار جا رہا ہوں۔‘‘ نیک آدمی نے ایک ادا سے جواب دیا۔ آثار سعادت از جبینش ہویدا۔ امام شعبی نے ان کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا: ’’بھلے آدمی!کیا علما کی مجلس میں نہیں بیٹھتے ہو؟‘‘ عرض کیا: ’’نہیں!‘‘جلیل القدر امام شعبی نے فرمایا: ’’غفلت نہ کرو، تم علماء کی مجلس میں

بیٹھاکرو ، میں تمہارے چہرے میں علم وفضل کی درخشندگی کے آثار دیکھ رہاہوں۔‘‘ سعادت و نجابت کا یہ پیکر انسان حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تھے۔ علمی دنیا کی طرف آنے سے پہلے آپ بہت بڑے تاجر تھے۔ آپ نے ابتدائی ضروری تعلیم کے بعد تجارت کا میدان اختیار کرلیا تھا ۔ آپ ریشم کے کپڑے کی تجارت کرتے تھے ،حفص بن عبدالرحمن بھی آپ کے شریک تجارت تھے۔آپ کی تجارت عامیانہ اصول سے بالاترتھی۔آپ ایک مثالی تاجر کا رول ادافرماتے ،بلکہ یوں کہاجائے کہ تجارت کی شکل میں لوگوں پر جودوکرم کا فیض جاری کرنا آپ کا مشغلہ تھا ۔
یہ واقعہ پڑھتے اور لکھتے ہوئے سوچتا ہوں، کیا یہ ممکن ہے ایک تاجر ایک اعلی درجے کا مسلمان بھی ہو؟وہ سراپا دنیوی بکھیڑوں میں الجھے ہونے کے باوجود دنیا سے بالکل لاتعلق بھی ہوں۔ گویا رہے دریا میں اور کپڑوں پر پانی کی ایک چھینٹ تک نہ لگے۔ ایسا تاجر جس کا کل بزنس اللہ اور اس کی مخلوق کی خدمت کے مقصد کے تحت ہو۔ جو دنیا میں رہتا ہو، مگر دنیا نے اس کے دل میں ڈیرے نہ ڈال رکھے ہوں۔ وہ اچھا پہننے، اچھا کھانے، اچھا کھلانے، اچھی تعلیم اور اچھے اوصاف کے استعمال کے ذریعے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہتا ہو۔ اس کا وژن یہ ہو کہ اللہ کی مخلوق تک اللہ کا رزق پہنچانے کے لیے وہ اللہ کے وکیل کا کردار ادا کرسکے۔ جس کا مقصد ہووہ دنیا داری کے باوجود ہر سو پھیلی شیطنت کا مقابلہ ایمانی جرات سے کر ے گا۔ میں سوچتا چلا جاتا ہوں، مگر پھرمجھے معاشرے کی بے راہ روی مایوسیوں کی طرف دھکیل دیتی ہے۔ افسوس! میں ایک ایسے وطن میں رہتا ہوں جہاں کا تاجر دنیا بھر میں بدنام ہے۔ جہاں کا سرمایہ کار دھوکے، فراڈ، دو نمبری، ملاوٹ، ناپ تول میں ڈنڈی، جھوٹ، بے ایمانی وغیرہ کا دوسرا نام ہے۔ میری حسرت تب مزید دو چند ہو جاتی ہے جب مجھے بہت سے متشرع، متدین، مولوی، اسلامی وضع قطع کے حامل لوگ بھی اسی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔


٭…افسوس! میں ایک ایسے وطن میں رہتا ہوں جہاں کا سرمایہ کار دھوکے، فراڈ، دو نمبری، ملاوٹ، ناپ تول میں ڈنڈی، جھوٹ، بے ایمانی وغیرہ کا دوسرا نام ہے ٭…تجارت کی دنیا میں گام گام احتیاط اور نت نئے مسائل کی وجہ سے دین سیکھنے کی اہمیت کئی گنا ہو جاتی ہے ٭

اللہ کی پکار سنو! اسے آدھا تیتر، آدھا بٹیر والا مسلمان نہیں چاہیے۔ ہاتھ میں تسبیح اور بغل میں چھری ایسے رویے اسے شدید ناپسند ہیں۔ اللہ کہتا ہے: ’’اے ایمان والو! پورے کے پورے دین میں داخل ہو جاؤ۔‘‘باری تعالی تاجر برادری کو کیسا دیکھنا چاہتے ہیں، ارشاد گرامی ہے: ’’جو مال ودولت اللہ نے تمہیں دے رکھا ہے اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کرو اور دنیا میں اپنا حصہ فراموش نہ کرو اور لوگوں سے ایسے ہی احسان کرو جیسے اللہ نے تمہارے ساتھ بھلائی کی ہے۔اور ملک میں فساد پیدا کرنے کی کوشش نہ کرو کیوں کہ اللہ فساد کرنے والوں کو پسندنہیں کرتا ۔ (القصص: 77) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے کیسا نمونہ چھوڑ گئے اور ہم نے بازار کی روایات کو سنت کی ہدایات پر مقدم کر لیا! رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قبل از نبوت کا روباری معاملات طے کرنے والے افراد نے خود آپ کے امین ہونے کی گواہی دی ہے۔ رسول اللہ کے ایک کاروباری پارٹنر کی یہ گواہی پڑھیے۔ حضرت سائب رضی اللہ عنہ جب مسلمان ہوکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کی ۔ سیدنا سائب نے جواباً ان سے کہا کہ میں تم سے زیادہ ان کو جانتا ہوں، کیو نکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے شریک تجارت تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ معاملے کو صاف ہی رکھا ۔ (ابو داود)
پورا مسلمان بننے کے لیے پورا دین سیکھنا ہو گا۔ دین کی کوئی بات ہمیں معلوم ہے تو اس پر عمل نہ کرنا دہرا جرم ہے۔ اگر معلوم نہیں تو کل قیامت کے دن لاعلمی کا عذر نہیں چل سکے گا۔ مولانا منظور احمد نعمانی فرماتے ہیں: ’’ اصلی مسلمان بننے کے لیے دو باتوں کی ضرورت ہے:ایک یہ کہ ہم دین اسلام کو جانیں اور کم از کم اس کی ضرورت اور بنیادی باتوں کا ہمیں علم ہو۔ دوسرے یہ کہ ہم ان کو مانیں اور ان کے مطابق چلنے کا فیصلہ کریں۔اسی کا نام اسلام ہے اور مسلمان ہونے کا یہی مطلب ہے۔پس اسلام کا علم حاصل کرنا، یعنی دین کی ضروری باتوں کا جاننا مسلمان ہونے کی سب سے پہلی شرط ہے۔ اسی لیے حدیث شریف میں آیا ہے: ’’طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلیٰ کُلِّ مُسْلِمٍ (ابن ماجہ و بیہقی) یعنی علم دین حاصل کرنے کی کوشش اور طلب ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اور یہ بات ہمیشہ یاد رکھنے کی ہے کہ دین میں جو چیز فرض ہے اس کا کرنا عبادت ہے۔ اس لیے دین سیکھنا اور دینی باتیں جاننے کی کوشش کرنا بھی عبادت ہے اور اللہ کے یہاں اس کا بہت بڑا ثواب ہے۔ ‘‘
اس لیے ہم سب کو طے کر لینا چاہے کہ ہم دین سیکھنے کی اور اسلام کی ضروری باتوں کا علم حاصل کرنے کی ضرور حاصل کریں گے۔ہم کامل مسلمان کے طور پر اپنی شخصیت کی تعمیر کی کوشش کریں گے۔ یہ ایک حقیقت ہے مسجد اور دینی ماحول میں رہ کر شاید شرعی مسائل سیکھنے کی بہت زیادہ ضرورت نہ ہو، مگر تجارت کی دنیا میں گام گام احتیاط اور نت نئے مسائل کی وجہ سے دین سیکھنے کی اہمیت کئی چند ہو جاتی ہے۔ سب سے پہلے دین سیکھنے کی اہمیت دل میں بٹھائیے۔ پھر خصوصیت کے ساتھ وقت نکال کر اس کے حصول کا ہر ممکن ذریعہ اختیار کیجیے۔ علاوہ ازیں دین پر صحیح عمل اور طرح طرح کے فتنوں سے بچنے کے لیے کسی کامل، متبع شریعت اور قابل اعتماد پیر ومرشد سے مضبوط تعلق قائم کیا جائے۔ ان شاء اللہ ہم ایک مثالی مسلمان، مثالی تاجر اور مثالی انسان کی حیثیت سے حیات مستعار کے بقیہ ایام گزارنے کے قابل ہو سکیں گے۔