میں ایک طویل سفر پر تھا۔ راستے میں ایک تاجر دوست کے ہاں رات گزارنے کے لیے ٹھہرا۔ اس نے رات بھر مجھے سونے نہ دیا۔ اپنی تجارت کے قصے کہانیاں سناتا رہا۔ جب سب ایران توران کی سنا چکا تو آخر میں کہنے لگا: ’’میری تجارت پروان چڑھ گئی اور میری سب آرزوئیں پوری ہو گئیں۔ اب صرف ایک آخری سفر کرنے کا ارادہ ہے۔‘‘ شیخ سعدی رحمہ اللہ نے فرمایا:’’ اور وہ کیا؟‘‘ کہنے لگا: ’’میں یہاں سے

فارسی گندھک لے کر چین جاؤں گا، پھر چین سے برتن خرید کر روم میں جا فروخت کروں گا۔ وہاں سے رومی کپڑے لا کر ہندوستان پہنچوں گااور ہندوستان سے فولاد خرید کر شام آؤں گا۔ شام سے شیشہ لا کر یمن میں فروخت کروں گا۔ وہاں سے یمنی چادریں لے کر واپس فارس آجاؤں گا۔ ‘‘ شیخ سعدی نے اس کے چہرے کو تاکا جہاں طویل عزائم اور بے حساب لالچ کی کئی ایک لکیریں نمودار ہو چکی تھیں۔اس نے ایک ہی سانس میں پوری دنیا کا ’’بس آخری‘‘ سفر کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ شیخ سعدی نے پوچھا: ’’اچھا،پھر کیا کرو گے؟‘‘ اس نے اطمینان کا ایک لمبا سانس لیا اور کہا: ’’بس اس ایک سفر کے بعد میں ’’قناعت‘‘ سے اپنی’’ دکان‘‘ پر بقیہ زندگی گزاردوں گا۔ آپ اس سب کی خیرو خوبی کے لیے دعا کر دیجیے۔‘‘گلستان سعدی نامی کتاب میں یہ واقعہ نقل کرنے کے بعد شیخ سعدی نے بس اتنا کہاہے: ’’دنیا دار کی تنگ نگاہ کو یا تو قناعت پُر کر سکتی ہے یا قبر کی مٹی اس کا علاج ہے، تیسرا راستہ کوئی نہیں۔‘‘
امریکی ریاست لاس اینجلس میں ایک بازار ہے۔ یہ دنیا کا مہنگا ترین بازار ہے۔ شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد تقی عثمانی فرماتے ہیں:میرا ایک دوست مجھے اس بازار میں لے گیا۔ اس نے مجھے بتایا، یہاں ہر چیز بہت مہنگی بکتی ہے۔ میں نے کہا: مثلا؟ وہ بتانے لگے : یہاں ایک موزے کی جوڑی کی قیمت 2ہزار ڈالر ہے۔ جس کا مطلب ہے پاکستانی تقریبا 2لاکھ روپے۔ ٹائی کی قیمت 3ہزار ڈالر،جبکہ سوٹ کی قیمت 10سے 20ہزار ڈالرتک ہے۔ اسی بازار میں گھومتے ہوئے ایک دکان کے پاس سے گزرے تو دوست نے بتایا: اس دکان کے دو حصے ہیں، ایک میں تو آدمی خریداری کے لیے جا سکتا ہے، دوسرے میں جب تک مالک دکان ساتھ نہ ہو، جانا ممکن نہیں۔ اس دوسرے حصے میں چیزیں نہیں بکتیں، بلکہ مالک بھاری معاوضے کے عوض صرف یہ بتاتا ہے کہ آپ کے جسم پر کون سا رنگ جچتا ہے اور آپ کے لیے کون سا ڈیزائن مناسب رہے گا۔ صرف اس مشورہ دینے کے وہ 10ہزار وصول کرتا ہے۔دوست نے مجھے یہ بھی بتایا: شہزادہ چارلس نے اس سے مشورے کے لیے وقت مانگا تو اس نے کہا تھا 6ماہ تک اس کے پاس کوئی وقت نہیں۔


٭… قناعت کی دولت عطا ہو جائے تو چٹنی روٹی میں وہ لذت ملتی ہے جو بڑے بڑے بنگلوںاور اعلی کھانوں میں میسر نہیں ہوتی ٭… دل کی بے چینی، ہاتھ کی کھجلی، آنکھوں کی بھوک اور زیادہ کی مسلسل حرص و ہوس قناعت کا وصف عنقا ہونے کے سبب ہے ٭

بزنس کا اولین مقصددولت کا حصول اور دولت سے راحت مطلوب ہوتی ہے۔ مگر یہ مقصد کبھی حاصل نہیں ہو پاتا جب تک انسان کو دل کا غنا، نہ عطا ہو جائے۔ دل کی بے چینی، ہاتھ کی کھجلی، آنکھوں کی بھوک اور زیادہ کی حرص و ہوس کے وہی نتائج ہوتے ہیں، جو ان قصوں کے توسط سے سامنے آئے۔ اس دلی آسودگی اور ذہنی سکون کا نام ’’قناعت‘‘ ہے۔ یعنی جو کچھ اللہ تعالی نے عطا کیا ہے، انسان اس پر راضی اور خوش ہو جائے۔دوسرے کا اچھا مکان، گاڑی اور تعلقات کو دیکھ کر آنکھیں خیرہ ہو جائیں اور دل لالچ سے امڈ آئے، پھر راتوں رات اس ٹارگٹ کے حصول کے لیے آدمی انسانیت کے لیے بے رحم اور شریعت سے بے باک ہو کر لپک پڑے۔ یہ سبھی کچھ اسی قناعت کی دولت سے محروم ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اللہ پاک سے قناعت کی یہ دولت مانگنے کی ضرورت ہے۔ ایک حدیث پاک میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص اس حالت میں صبح کرے کہ اس کو تین چیزیں حاصل ہوںتو اس کو گویا پوری کی پوری دنیا اسباب کے ساتھ جمع کر کے دے دی گئی۔ پہلی چیز یہ کہ وہ اپنے سر چھپانے کی جگہ میں بے خوف ہواور اسے کسی دشمن یا ظالم کا خوف نہ ہو۔ دوسرے اس کے بدن میں کوئی تکلیف نہ ہو، وہ صحت و عافیت کی حالت میں ہو۔ تیسرے اس کے پاس ایک دن کے کھانے کا انتظام موجود ہو۔ ایسے شخص کے پاس گویا اللہ کا دیا سب کچھ ہے، اس کی ضرورت پوری ہو گئی ہے۔ ‘‘ (مفہوماً ازترمذی، ابواب الزہد)
لہذا ہم قدم بقدم اللہ کا شکر ادا کریں۔ اگر اتنی چیزیں مہیا ہیں تو خود کو دنیا کا سب سے بڑا خوش نصیب تصور کریں۔ دنیا کے معاملے میں اپنے سے اوپر والے پر ہرگز نظر نہ رکھیں۔ حلال پر قناعت اور حرام سے مکمل اجتناب کرتے ہوئے تجارت کریں تو ہمیں حقیقی راحت نصیب ہو گی۔ اگر آدمی کو قناعت کی دولت عطا ہو جائے تو پھر چٹنی روٹی میں وہ مزا ملتا ہے جو بڑے بڑے بنگلوںاور اعلی کھانوں میں میسر نہیں ہوتا اور اگر یہ وصف ہم سے عنقا ہے تو اللہ بچائے پھر حرص و ہوس کی کوئی حد نہیں۔ قناعت کے حصول کے لیے ہر مسلمان بالخصوص تاجر حضرات کو یہ دعا کرنی چاہیے: ’’اَللّٰھُمَّ قَنِّعْنِیْ بِمَا رَزَقْتَنِیْ وَ بَارِکْ لِیْ فِیْہِ۔‘‘ یعنی اے اللہ! جو کچھ آپ نے مجھے رزق عطا فرمایا ہے اس پر مجھے قناعت عطا فرمائیے اور اس میں میرے لیے برکت عطا فرمائیے۔
کوشش کیجیے، اب سے ہماری کوئی دعا اس مختصر جملے سے خالی نہیں ہونی چاہیے۔ ایک ایسی دعا جس میں ہمارے تمام تر مسئلوں کا حل پوشیدہ ہے۔