اس نے دھڑلے سے قسم کھائی۔ جج نے جھٹ اس کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ وہ خوشی خوشی گھر جارہا تھا۔اس نے جھوٹی قسم کھا کر اللہ پاک کو یقینا ناراض کیا تھا۔ اس کے ساتھی نے اسے تنبیہ کی تو اس نے کہا: دیکھا جائے گا۔ اب 4کنال اراضی مل گئی ہے، اللہ اللہ، خیر صلا۔ یہی باتیں کرتے ہوئے گھر کے قریب پہنچا۔ اس کے گھر کے اردگرد کافی لوگ جمع تھے۔ ایک نوجوان بھاگتا ہوا آیا اوربتایا کہ اس کے بیٹے کو بجلی کا کرنٹ لگا ہے اور وہ فوت ہوگیا ہے۔

حلف اٹھانے والا بھاگ کر گھر پہنچا تو دیکھا کہ اس کا بیٹا مٹی میں دبا ہوا تھا اورفوت ہوچکا تھا۔ اس نے بیٹے کو مٹی سے نکالا۔ دیہاتوں میں جس کو کرنٹ لگتا ہے فوراً مٹی میں دبادیتے ہیں۔ تفصیل پوچھی تو گھر والوں نے بتایا: گھر کے اوپر سے 11 ہزار وولٹیج کرنٹ کی لائن گزرتی ہے۔ بیٹا اچانک چھت پر چڑھ گیا اور دیوار سے دوسری طرف دیکھنے لگا۔ توازن خراب ہوا تو اچانک ہاتھ گیارہ ہزار وولٹیج پر پڑا۔ اسی وقت جسم تاروں سے چمٹ گیا۔اس نے جب پوچھا : واقعہ کب پیش آیا؟ گھروالوں نے بتایا کہ ایک بجے کا وقت تھا۔ عجیب اتفاق کہ ایک بجے ہی اس نے جھوٹی قسم اٹھائی تھی۔ افسوس! اسے اراضی تو مل گئی مگر جوان بیٹا گنوا بیٹھا۔ دکان دار نے تھان اٹھایا، پھیلایا اور کپڑے کی خوبیاں شمار کرنے لگا۔ ’’صاحب! خدا کی قسم! خالص امپورٹڈ مال ہے۔ اللہ جانتا ہے، پوری مارکیٹ میں ایسا کپڑا کہیں مل جائے تو میرا نام بدل دینا۔ خدا گواہ ہے یہ قیمت صرف آپ کے لیے ہے، بس یوں سمجھو کہ مفت دے رہا ہوں۔ ‘‘ایک ہی سانس میں اس نے کئی قسمیں، خدا کے واسطے، مبالغے اور رٹے رٹائے جھوٹے سچے کئی جملے کہہ ڈالے تھے۔


٭… قسم کھانا دراصل، خدا کو اپنے عہد یا اپنی بات پر گواہ ٹھہرانا ہے ٭…موجودہ کاروباری ٹرینڈ کے برعکس جھوٹ، جھوٹی قسم اور بے جا مبالغوں سے بچنا چاہیے ٭


سمجھنے کی بات یہ ہے خریدوفروخت میں جھوٹ، جھوٹی قسم، بے جا مبالغہ اور بازاری قسم کے کئی ایک روایتی جملے ہم بولتے چلے جاتے ہیں۔ جن کا بولنا نہ تو جائز ہے اور نہ ہی ان کی چنداں ضرورت ہوتی ہے۔ دیکھا دیکھی، سنتے سنتے ہم بھی بولنے لگتے ہیں اور بالآخر ہماری عادت ثانیہ بن جاتے ہیں۔ یہ وہ کوتاہی ہے جسے عام طور پر گناہ سمجھا ہی نہیں جاتا۔ بلکہ بعض تو اسے اپنی مجبوری اور کاروباری ضرورت بھی بتلاتے نظر آتے ہیں۔ ایک طرف ہماری یہ رائے اور معمول ہے تو دوسری جانب اللہ کا حکم ہے۔ آئیے! دیکھتے ہیں ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے متعلق کیا ارشاد فرماتے ہیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے اسلام کے علاوہ کسی ملت پر جان بوجھ کر ’’جھوٹی قسم‘‘ کھائی تو وہ اپنے قول ہی کے مطابق شمار ہو گا۔ اگر اس نے کہا کہ میں (فلاں کام کروں تو مسلمان نہیں، بلکہ)یہودی ہوں گا تو وہ یہودی ہی شمار ہو گا اور اگر کہا کہ میں نصرانی ہوں گا تو وہ نصرانی ہی شمار ہو گا اور اگر کہا کہ میں مجوسی ہوں گا تو وہ مجوسی ہی شمار ہو گا۔ اور جس نے دنیا میں اپنے آپ کو کسی چیز سے قتل کیا تو وہ قیامت کے دن جہنم کی آگ میں اسی چیز کے ذریعے سے عذاب دیا جائے گا، اور جس نے کسی مومن پر لعنت کی تو یہ بات اسے قتل کر دینے ہی کی مثل ہے، اور جس نے کسی مومن پر کفر کی تہمت لگائی تو یہ بات بھی اسے قتل کر دینے ہی کی مثل ہے۔(صحیح بخاری، رقم: 5754) دوسری حدیث پاک میں ہے: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف (نظر رحمت سے)نہیں دیکھے گا ، نہ اسے (گناہوں سے) پاک کرے گا، بلکہ اس کے لیے دردناک عذاب ہے۔(وہ) جھوٹی قسم کھا کر اپنا مال بیچنے والا تاجرہے۔ (ترمذی:1132) تیسری حدیث ہے:جھوٹی قسم کھانا گناہ کبیرہ ہے۔(بخاری:6326)

جاننا چاہیے کہ قسم کھانا دراصل خدا کو اپنے عہد یا اپنی بات پر گواہ ٹھہرانا ہے۔ خدا پر سچا ایمان رکھنے کے بعد یہ ممکن ہی نہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کو کسی جھوٹے عہد یا جھوٹی بات پر لوگوں کے سامنے اپنا گواہ بنائے۔ اگر کوئی مسلمان ایسا کرتا ہے تو گویا اس کے ہاں خدا خوفی نام کی کوئی چیز موجود ہی نہیں۔ہمیں موجودہ کاروباری ٹرینڈ کے برعکس حضور صلی اللہ کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے قدم قدم پر جھوٹ، جھوٹی قسم اور بے جا مبالغوں سے بچتے ہوئے اپنا بزنس جاری رکھنا چاہیے۔