یہ قصہ ہے پرانے زمانے کا۔ ایک بادشاہ نے کسی بات پر خوش ہو کر ایک آدمی کو یہ اختیار دیا کہ وہ سورج غروب ہونے تک جتنی زمین کا دائرہ مکمل کر لے گا، اتنی زمین اسے الاٹ کر دی جائے گی۔ اور اگر وہ دائرہ مکمل نہ کر سکا اور سورج غروب ہو گیا تو اسے کچھ نہیں ملے گا۔

یہ سن کر وہ شخص چل پڑا ۔ چلتے چلتے ظہر ہو گئی تو اسے خیال آیا کہ اب واپسی کا چکر شروع کر دینا چاھیے، مگر پھر لالچ نے غلبہ پا لیا اور سوچا کہ

تھوڑا سا اور آگے سے چکر کاٹ لوں، پھر واپسی کا خیال آیا تو سامنے کے خوبصورت پہاڑ کو دیکھ کر اس نے سوچا اس کو بھی اپنی جاگیر میں شامل کر لینا چاہیے۔

الغرض! واپسی کا سفر کافی دیر سے شروع کیا ۔ اب واپسی میں یوں لگتا تھا جیسے سورج نے اس کے ساتھ مسابقت شروع کر دی ہے۔ وہ جتنا تیز چلتا اسے یوں لگتا، جیسے سورج بھی اُس قدر تیزی سے ڈھل رہا ہے۔ عصر کے بعد تو سورج ڈھلنے کے بجائے گویا لگتا تھا پِگھلنا شروع ہو گیا تھا۔


٭…آدمی بوڑھا ہو جاتا ہے لیکن اس کی دو چیزیں جوان رہتی ہیں مال کی حرص اور عمر کی حرص ٭…ابن آدم کے پیٹ کو قبر کی مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی ٭


وہ شخص دوڑنا شروع ہو گیا کیونکہ اسے سب کچھ ہاتھ سے جاتا نظر آ رہا تھا۔ اب وہ اپنی لالچ کو کوس رہا تھا، مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔ دوڑتے دوڑتے اس کا سینہ درد سے پھٹا جا رہا تھا،مگر وہ تھا کہ بس دوڑے جا رہا تھا ۔

آخر سورج غروب ہوا تو وہ شخص اس طرح گرا کہ اس کا سر اس کے ’’اسٹارٹنگ پوائنٹ‘‘ کو چھو رہا تھا اور پاؤں واپسی کے دائرے کو مکمل کر رہے تھے، یوں اس کی لاش نے دائرہ مکمل کر دیا تھا۔ جس جگہ وہ گرا تھا، ہیں اس کی قبر بنائی گئی اور قبر پر کتبہ لگایا گیا، جس پر لکھا تھا: ’’اس شخص کی ضرورت بس اتنی جگہ کی تھی جتنی جگہ اس کی قبر ہے۔‘‘ انسانی فطرت کے اس پہلو پر نظر ڈالنے کے بعد اب ذرا دیر کو اپنے گریبان میں جھانکتے ہیں۔ دبئی کے ایک ٹیکسی ڈرائیور کی کہانی، اسی کی زبانی سنیے۔

میرا تعلق پاکستان سے ہے۔ میں دبئی میں ٹیکسی چلاتا ہوں۔ شیخ فلاح التھانی کا تعلق قطر سے ہے۔ وہ اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ چھٹیاں گزارنے جب بھی دبئی آتے ہیں تو مجھے ہائیر کرتے ہیں۔ انہیں ساتھ لے کر میں حتا روڈ پر سبزی مارکیٹ کے بعد دبئی انٹرنیشنل سٹی کے پہلو میں موجود ڈریگن مال گیا۔ جہاں سے واپسی پر انہوں نے تاج پیلس کھانا کھایا اور پھر واپس ان کی رہائش گاہ پر پہنچایا ۔

آج شیخ سے باتیں کرتے کرتے ان کی ایک بات نے مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔ کہنے لگے: تم پاکستانی ہو میری بات کا برا مت ماننا، اب اگر مجھے کوئی کہے کہ کسی پاکستانی سے کچھ تجارت کی چیز منگواؤ تو میں کبھی ایسا نہیں کروں گا۔ لہذا مجھے یہ سوال پوچھنا پڑا کہ آخر کیوں؟؟

کہنے لگے:99فیصد پاکستانی تاجر لالچی ہوتے ہیں اور پہلی ہی ڈیل میں ساری کسریں نکالنا چاہتے ہیں۔ جیسے پھر کبھی کاروبار ہی نہ کرنا ہو۔ میری کمپنی کے پاس قطر کی فوج کے یونیفارمز بنانے کی ذمہ داری ہے۔ ہم نے کپڑے کا نمونہ منگوایا تو سب سے بہترین نمونہ پاکستان کی ایک کمپنی نے بھیجا۔ ان کی قیمتیں بھی بہت مناسب تھیں۔ ہم نے منظور کر کے انہیں مال بھجوانے کا آرڈر دے دیا ۔

مال آنے پر جب ہم نے کنٹینرز کھولے تو ر دی ترین مال نکلا۔ ہمیں بعد میں کھلے بازار میں تھانوں کے حساب سے انتہائی ارزاں قیمت پر اسے بیچنا پڑا۔ اس ایک ڈیل میں ہم نے سوا تین ملین ریال کا نقصان اٹھایا ۔ مگر اچھا ہوا، ہمیں! آئندہ کے لیے نصیحت ہو گئی کہ کسی بھی صورت میں کبھی بھی کسی پاکستانی کمپنی سے مال نہیں خریدنا …

دنیا کی ہر چیز خصوصاً مال و دولت کو ضرورت سے بہت زیادہ حاصل کرنے کی خواہش رکھنے کو لالچ کہتے ہیں۔ یہ بہت بری خصلت ہے۔ حرص انسان کو بے شمار مصائب میں مبتلا کر دیتی ہے کیونکہ لالچی شخص کسی بھی مقدار پر مطمئن نہیں ہوتا۔ لالچ بے شمار گناہوں کا سر چشمہ ہے۔

حدیث شریف میں ہے:’’ اگر آدمی کے پاس دو وادیاں بھر سونا ہو جائے تو پھر بھی وہ تیسری وادی کو طلب کرے گا کہ وہ بھی سونے سے بھر جائے، اور ابن آدم کے پیٹ کو قبر کی مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی، اور جو شخص اس سے توبہ کرے اللہ تعالی اس کی توبہ کو قبول فرما لے گا۔‘‘ (مشکٰوۃ) حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:’’ آدمی بوڑھا ہو جاتا ہے لیکن اس کی دو چیزیں جوان رہتی ہیں: مال کی حرص اور عمر کی حرص۔ ‘‘(بخاری شریف ) حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ مرتبے کے لحاظ سے قیامت کے روز سب انسانوں سے بدتر وہ بندہ ہو گا جس نے دوسرے کی دنیا کی خاطر اپنی عاقبت برباد کر لی۔‘‘ ( ابن ماجہ ) لالچ کا علاج اگلے ہفتے عرض کریں گے۔ان شاء اللہ!