ڈیل کارنیگی نے ایک بزنس مین کا واقعہ لکھا ہے۔ بزنس مین سی آئی بلیک وڈ خوش و خرم زندگی گزار رہا تھا۔ اسے اچانک بہت سی پریشانیوں نے آن گھیرا۔ وہ ہر وقت گم صم رہنے لگا۔ وہ اپنے آنے والے متعلق پریشان رہتا۔ مگر عجیب بات کہ جن مسائل کی وجہ سے وہ دن رات دل گیر رہتا تھا، کچھ بڑے نہ تھے۔ بلیک وڈ کہتا ہے: ایک دن میں اپنے دفتر میں بیٹھا اپنے مسائل کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ مجھے خیال آیا کہ کیوں نہ اپنی پریشانیوں کو ایک کاغذ پر لکھ لوں۔ کیونکہ میرے خیال میں اس وقت مجھ سے زیادہ مسکین اور کوئی نہ تھا۔ شاید میں اپنے مسائل حل بھی کر لیتا، اگر مجھے موقع ملتا۔

لیکن یہ سب کچھ میرے اختیار میں نہ تھا۔ تب میں نے وہی کیا جو میرے بس میں تھا۔ میں اٹھااور اپنے ان مسائل کو ٹائپ رائٹر پر اتار لیا۔ وقت یوں ہی گزرتا رہا۔ میرے وہ انتہائی پریشان کن مسائل زندگی سے نکلنے کے بعد میرے حافظے سے بھی اتر گئے۔ تقریبا اٹھارہ ماہ کے بعد مسائل کی وہ لسٹ اچانک میرے سامنے آ گئی۔ میں نے ان مسائل کو بڑی دلچسپی سے پڑھا۔ وہ مسائل یہ تھے: میرے بزنس کالج میں طلبہ کی تعداد کا بے تحاشہ اضافہ، زمین کے چھن جانے کا خوف، گاڑی کا ٹائر پھٹنے کا ڈر، بیٹی کی تعلیم سے متعلق معمولی مسائل اور بیٹے کی جنگ میںشمولیت، جسے ابھی تک ایک چوٹ بھی نہ آئی تھی۔


٭…تجارت اللہ کے بھروسے پر مبنی ہے اور یہی توکل علی اللہ انسان کے با طن کی عظیم تربیت کرتا ہے ٭…توکل کا وصف پیدا کرنے کے لیے بس ایک چیز کی ضرورت ہو۔ وہ چیز اللہ تعالی پر پختہ یقین کرنا ہے ٭


واقعہ ذکر کرنے کے بعد کارنیگی نے لکھا ہے: آپ اپنے کل سے متعلق پریشان کیوں ہوتے ہیں؟ آپ کا کل در اصل آپ کا آج ہی ہے۔ اگر آج درست طریقے سے گزر گیا تو کل خود بخود اچھے انداز میں گزرے گا۔ سو، کل کیا ہونے والا ہے؟ اس سے متعلق پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

قارئین! اہل مغرب اپنی الجھنوں سے نجات کے لیے جس مذکورہ ’’تکنیک‘‘ کا سہارا لے رہے ہیں، مسلمان اسے ’’توکل‘‘ کہتے ہیں۔ توکل اللہ پر بھروسہ کرنے کا نام ہے۔ آدمی اپنے مسائل سے متعلق، اپنی آمدن سے متعلق اور اپنی ضروریات سے متعلق اللہ تعالی پر بھروسہ کرے۔

ایک تاجر کی زندگی کا لمحہ لمحہ توکل کی مرہون منت ہے۔ حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی فرماتے ہیں: ’’اللہ نے تجارت کو ایک ایساذریعہ بنایا ہے جو انسان کی خود تربیت کرتا ہے۔ ویسے دنیا میں بہت سے پیشے ہیں، لیکن تجارت کے اندر اللہ نے بہت عظیم خصوصیات رکھی ہیں۔تجارت میں اللہ پر توکل ہوتا ہے۔ اگر ایک آدمی کسی جگہ پر ملازمت کرتا ہے تو اس کو معلوم ہے مہینے کے ختم پر مجھے اتنی تنخواہ ملنی ہے اور اسے اس کا پکا یقین ہوتا ہے، مگر تاجر جب تجارت کرتا ہے تو اس کو یقین کے ساتھ کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ کیاحاصل ہوگا ، لہذا اس کی ساری تجارت اور سارا کام اللہ کے بھروسے پر مبنی ہے اور یہی توکل علی اللہ ایک ایسی چیز ہے جو انسان کے با طن کی عظیم تربیت کرتی ہے۔‘‘(خطبات دورہ ہند)

آپ کاروبار کا آغاز کرنے جا رہے ہیں۔ سراسر رسک۔ ضروری اسباب جمع کیجیے اور اس میدان میں کود جائیے۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:’’جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا۔‘‘(الطلاق)

خسارے کا سامنا کرنا پڑ گیا تو اللہ سے دعا کر کے ضروری اسباب کی طرف متوجہ ہوجائیں۔ پھر مزید پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ایک مومن کی بس یہی ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا:’’تم اگر مومن ہو تو تمہیں اللہ تعالی ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ ‘‘(المائدہ)دوسری جگہ فرمایا:’’اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو اسی پر توکل کرو، اگر تم مسلمان ہو۔‘‘(یونس) گھریلو مسائل زندگی اجیرن کر دیتے ہیں۔ ہم طرح طرح کی حیلوں حوالوں میں لگ جاتے ہیں۔ جھاڑ پھونک، تعویذ گنڈے، جعلی عامل اور جانے کیا کیا۔ ایسے موقع پر ہمیں سب سے آخر میں جس کی یاد آتی ہے، اس ذات پاک کا نام اللہ ہے۔

حالانکہ یہ رویہ اسلامی تعلیمات کے مطابقت نہیں رکھتا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’میری امت کے ستر ہزار آدمی بلا حساب وکتاب جنت میں داخل ہوں گے، صحابہ کرام نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا:یہ وہ لوگ ہوں گے جو جھاڑ پھونک نہیں کرواتے، بدفالی نہیں لیتے، آگ سے نہیں دغواتے اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔‘‘ (مسلم)

توکل کا وصف پیدا کرنے کے لیے بس ایک چیز کی ضرورت ہو۔ وہ چیز اللہ تعالی پر پختہ یقین کرنا ہے۔ ہمارے دوست بتا رہے تھے: ’’ایک صاحب پریشان حال تھے۔ میں نے تفصیل پوچھی تو کہنے لگے: فلاں نے ہمیں دھوکہ دیا، کسی نے بھی ساتھ نہ دیا، ہمارا تو’’ بس‘‘ اللہ ہی ہے۔ ‘‘ ہمارے پاس گویا کچھ بھی نہیں ہے یہ اللہ پر پختہ یقین کی کمی کا نتیجہ ہے۔ اللہ نے خود فرمایا ہے: ’’کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں؟‘‘ (الزمر) آخر میں اللہ کی ذات عالی پر کامل یقین سے متعلق ایک واقعہ ملاحظہ کیجیے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نجد کی طرف غزوہ ذات الرقاع سے واپس آرہے تھے کہ ایک جھاڑی والی وادی میں دوپہر کو قیلولہ کے لیے اترے۔ جس کو جہاں جگہ ملی ادھر ادھر آرام کرنے لگے۔ آپ بھی ایک ببول کے درخت کے نیچے سوگئے اور اپنی تلوار اس درخت پر لٹکادی۔ جب سارے لوگ سوگئے تو بے خبری میں موقع کو غنیمت جان کر ایک مشرک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور درخت سے تلوار اتار کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا ہوگیا ۔ اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھل گئی۔ اس کافر نے بڑے تکبر سے کہا:اے محمد!آپ کو مجھ سے کون بچا سکتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے اطمینان وسکون سے جواب دیا:اللہ!!! یہ سننا تھا کہ تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی، آپ نے اٹھالی اور اس کافر سے فرمایا:اب بتاؤ تم کو مجھ سے کون سکتا ہے؟ اس نے کہا:کوئی نہیں!آپ نے اسے معاف کردیا اور اسے چھوڑ دیا۔ (بخاری)