محمود واصف ایک معروف بزنس مین ہے۔ ایک فیکٹری پاکستان میں، دو کمپنیاں اٹلی میں ہیں۔ اس کا اکثر وقت پاکستان سے باہر گزرتا ہے۔ دوستوں نے اسے ’’غیررہائشی پاکستانی‘‘ کا نام دے رکھا ہے۔ وہ غیرمعمولی صلاحیتوں کا مالک ہے۔ جوانی میں ہی اس کی تیز رفتار ترقی بہت سوں کے لیے حسد کا باعث بن گئی ہے۔ ان میں معمر بزنس مین جاوید سعیدی پیش پیش ہے۔ جاوید نے محمود کے والدواصف صاحب کے ساتھ پارٹنر شپ کے طور پر کام شروع کیاتھا۔ وہ ایک حادثے میں جاں بحق ہوئے تو محمود نے ان کی جگہ لی۔ شروع میں اس نے جاوید صاحب کی سرپرستی میں کام کیا، پھر جلد ہی اپنے پاؤں پہ کھڑا ہو کر کاروبار کے ہمراہ اڑان بھری۔

اتنی اونچی کہ جاوید صاحب بس دیکھتے رہ گئے۔ یہ بات جاوید سعیدی کے لیے کبھی قابل برداشت نہ ہو سکی۔ وہ اب اپنا ملکی سطح کا کاروبارچلانے کے ساتھ محمود کی راہ میں روڑا اٹکانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ باشعور اولاد کی تلقین کے باوجود ان کی زندگی کا واحد مقصد محمود کی دشمنی کے تقاضے پورے کرنا رہ گیا ہے۔

|آج پھر جاوید سعیدی نے پورا گھر سر پہ اٹھا رکھا ہے۔ وہ جب بھی غصے میں آتے ہیں تو سب کی شامت آ جاتی ہے۔ یہ لمحات سبھی پر بڑے گراں گزرتے ہیں۔ اس کی وجہ ان کا مسلسل فرسٹریشن کا شکار چلے آنا ہے۔ بظاہر اس کی کوئی وجہ نہیں۔ بزنس ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے۔ قرضوں کا بھی کوئی بوجھ نہیں۔ گھر میں کوئی بیماری بھی نہیں۔ ان کے بڑے بیٹے انوار سعیدی نے ڈاکٹر سے مشورہ کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے مختصر جواب دیا: مسئلہ کچھ بھی نہیں، صرف ڈیپریشن۔ وہ بھی بلاوجہ۔ صرف کاروباری رقابت جسے جاوید صاحب نے انا کا مسئلہ بنا لیا ہے۔ انہیں کہیے: اس کا قطعی کوئی فائدہ نہیں۔ سراسر نقصان ہے۔ صحت کا بگاڑاور وقت کا زیاں ہے۔ انوار نے رات کو والد صاحب سے بات کی۔ وہ سنتے ہی ایک بارپھر آگ بگولہ ہو گئے۔ چلو! تم آئے بڑے مجھے سمجھانے والے۔ جاوید صاحب کے اسی رویے کے باعث گھر بھر کے لوگ ان سے کھنچے کھنچے سے رہنے لگے ہیں۔


٭نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگ ہمیشہ بھلائی سے رہیں گے جب تک وہ حسد سے بچتے رہیں گے ٭…حسد کئی نفسیاتی امراض کا باعث ہے، جیسے: غصہ، ڈپریشن، احساس کمتری، چڑچڑا پن وغیرہ


سوالات: کیا آپ بتا سکتے ہیں:
جاوید سعیدی اپنے کس عمل کے رد عمل کا شکار ہیں؟
جاوید سعیدی کی اپنی اور ان کے خاندان کی زندگی کیوں بے کیف ہو کر رہ گئی ہے؟
جاوید سعیدی کیا عمل اختیارکریں کہ ان جہنم زار سے نکل آئیں؟
اصل بات:بہت واضح ہے کہ بزنس کمپیٹیشن کے نام پر جاوید صاحب دشمنی اور حسد کا شکار ہو گئے۔ انہیں اپنے سے جونیئر کا یوں تیزی سے ترقی کرتے چلے جانا گوارا نہ ہوا۔ بالخصوص وہ جس نے کاروباری تربیت خود انہی سے لی تھی۔ حسد کی آگ نے ان کا من جلا کے رکھ دیا۔ سکون واطمینان ان سے روٹھ گیا۔ بات بات پر ان کا پارہ چڑھ جانا معمول بن گیا۔ گھر والوں کے لیے ان کی موجودگی ایک مصیبت سے کم نہیں۔ سچ یہ ہے ایک بظاہر چھوٹی سی بات نے ان سب کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔

حل کی بات:در اصل حسد اتنی خطرناک بیماری ہے کہ زمین پہ سب سے پہلا قتل ہی حسد کی وجہ سے ہوا۔ہابیل اور قابیل دونوں آدم علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ قابیل کی قربانی کو قبول نہیں کیا تھا۔ کیونکہ وہ پرہیزگار نہیں تھا۔ جب اس کی قربانی قبول نہ ہوئی تو اس کے دل میں اپنے بھائی ہابیل کے لیے حسد کی آگ پیدا ہوئی اور پھر نوبت قتل تک جا پہنچی۔حسد کی حقیقت یہ ہے کہ ’’کسی دوسرے شخص کی نعمت اور کامیابی کا ناگوار گزرنا اور یہ آرزو کرنا کہ یہ سب کچھ اس سے چھن کر مجھے مل جائے یا اگر مجھے نہ بھی ملے تو کم از کم اس سے تو چھن ہی جائے۔‘‘

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’مجھے اس کا ڈر بالکل نہیں ہے کہ تم میرے بعد مشرک ہو جاؤ گے، البتہ میں اس بات کا اندیشہ کرتا ہوں تم آپس میں ایک دوسرے سے دنیا کے مزوں میں پڑ کر حسد نہ کرنے لگو ۔‘‘ (صحیح بخاری)دوسری حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور نہ حسد کرو اور نہ غیبت کرو ،اور بھائی بھائی ہو کر رہو ، کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ جدا رہے (قطع تعلق کرے)۔‘‘(صحیح بخاری)تیسری حدیث پاک ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ لوگ ہمیشہ بھلائی سے رہیں گے جب تک وہ حسد سے بچتے رہیں گے۔‘‘(طبرانی فی الکبیر )

حسد کے دس نقصانات: حسد کے بے شمار دنیاوی اور اخروی نقصانات ہیں۔ ان میں سے چند درج ذیل ہیں:
٭ حسد نفرت کی آگ میں جلاتا ہے
٭ حسد کئی نفسیاتی امراض کا باعث ہے، جیسے: غصہ، ڈپریشن، احساس کمتری، چڑچڑا پن وغیرہ
٭ حسددشمنی اور دشمنی فساد کی جانب لے جاسکتی ہے جس سے گھر اورمعاشرے میں فساد پھیل سکتا ہے
٭ حسد دیگر اخلاقی گناہوں کا سبب بنتا ہے جن میں غیبت، بہتان، تجسس اور جھوٹ شامل ہیں
٭ حسد آخرت میں اللہ کی ناراضگی کا موجب ہے
تنبیہ الغافلین کے مصنف فقیہ ابواللیث سمرقندیؒ فرماتے ہیں: حسد کا اثر بد دشمن تک پہنچنے سے پہلے پہلے خود حسد کرنے والا پانچ آفتوں میں مبتلا ہوجاتا ہے:

1 مسلسل غم
2 ایسی مصیبت جس پر کوئی اجر نہیں
3 ایسی قابلِ مذمت حالت جس پر کبھی تحسین نہیں
4 اللہ تعالیٰ حسد کرنے والے پر ناراض ہوتے ہیں
5 توفیق کے دروازے اس پر بند ہو جاتے ہیں

براہ کرم اپنے احوال پر غور کیجیے۔ کہیں آپ بھی حسد میں مبتلا تو نہیں؟ اس کا طریقہ یہ ہے اگر آپ کو دوسروں کی تکلیف پر خوشی اور ان کی کامیابی پر دکھ ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ہی آپ اس کے نقصان کے متمنی اور اس کی نعمت چھننے کے منتظر ہیں تو آپ حسد میں مبتلا ہیں۔ سو، اپنی اصلاح کیجیے۔ روحانی معالجین (اولیاء اللہ )سے اس کا علاج کروائیے۔ ایک پرسکون زندگی آپ سے صرف ایک قدم کے فاصلے پر ہے۔