کھانچا لگانا۔ چونا لگانا۔ ٹوپی پہنانا۔ کچھ دے دلا کر جان چھڑانا۔ کچھ پان سگریٹ کا دے جانا۔ منہ میٹھا کرانا۔ مٹھی بھینچ کر کچھ نامعلوم تحفہ دے جانا۔ نیک تمناؤں کے اظہار کے ساتھ ایک لفافہ بھی تھما جانا وغیرہ۔ یہ سب رویے روزانہ ہماری نظروں سے گزرتے ہیں۔ یہ سب کیا ہے؟ اس طرف ہماری توجہ ہی نہیں جاتی۔ یہ رویے ظالم سماج نے اپنا معمول بنا لیے ہیں۔ ہم کبھی تو اس کا حصہ بنتے ہیں اور کبھی اس کا شکارہوتے ہیں۔ یہ رویے اللہ کے فرامین سے کھلی بغاوت کے مترادف ہیں۔ ان کے ذریعے ہم کسی کو دھوکہ دیتے ہیں تو کسی سے زیادتی کے مرتکب ہوتے ہیں۔

اس طریقے سے ہم مسلمان بھائیوں کے ساتھ کھلا ظلم کرتے ہیں۔ ان سب کا خلاصہ وہ ناجائز آمدن ہے، جسے ہم ’’اوپر کی کمائی‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ آپ کچھ دیر کے لیے حرص و ہوس کی اندھی دنیا سے باہر آئیے۔ ان رویوں کا ایک مسلمانی تجزیہ کرتے ہیں۔ یہ کیا ہیں؟ یہ کیوں ہیں؟ ان سے گلو خلاصی کیسے ممکن ہے؟ آئیے! پاک پیغمبر صلی اللہ و سلم کے در اقدس پہ حاضری دیتے ہیں۔ آپ کی ذات عالی سے پوچھتے ہیں: یا رسول اللہ! یہ ستم ظریقی کیا ہے؟ ایسے لوگ کس کے راستے پہ چل رہے ہیں؟ مجھے امید ہے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے فرامین ملاحظہ کر کے ضرور اپنے ان رویوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہوں گے۔


٭… آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: رشوت لینے والا اور دینے والا جہنمی ہے ٭…اس برائی کا احساس ذہنوں سے نکلتا جا رہا ہے، لوگ فخر سے اپنی تنخواہ اور ’’اوپر‘‘ کی آمدنی کا ذکر کرتے ہیں ٭


آج سرکاری اداروں اور دفاتر میں بیٹھنے والے کس دیدہ دلیری سے اور اپنا حق سمجھ کر ’’رشوت‘‘ وصول کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے قبیلہ بنو اسد کے ایک شخص کو زکوۃ کی وصولی کا عامل بنایا۔ انہوں نے واپس آ کر عرض کیا: یہ مال آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا ہے اور یہ لوگوں نے مجھے ہدیہ کیا ہے۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت ناگواری ہوئی۔ منبر اقدس پر کھڑے ہوئے اور لوگوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: جب ہم کسی شخص کو عامل بنا کر بھیجتے ہیں تو یہ کیا معاملہ ہے کہ وہ آنے کے بعد کہتا ہے کہ یہ تمہارا ہے اور یہ میرا ہے، وہ اپنے ماں باپ کے گھر میں تو بیٹھ کر دیکھے کہ اسے ہدیہ کیا جاتا ہے یا نہیں؟ (بخاری حدیث :7174) ایک موقع پر خاص اہتمام سے آپ نے فرمایا: تم میں سے جو شخص میری جانب سے خدمت پر مامور ہو، اور وہ ہم سے ایک دھاگہ بھی چھپائے تو وہ حرام ہے، جسے وہ قیامت کے دن لے کر آئے گا۔ (ابودؤد، حدیث:3581)

رشوت سراسر لعنت ہے۔ یہ ایک بڑی نحوست ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے جن برائیوں پر لعنت فرمائی ہے، ان میں ایک رشوت کا لین دین بھی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے رشوت لینے والے اور رشوت دینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ (ابوداؤد:3580) حضرت ثوبان رضی اللہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ رشوت کے معاملے میں جو شخص واسطہ اور دلال بنا، اس پر بھی لعنت ہو۔ (مجمع الزوائد:189/4) حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: رشوت لینے والا اور دینے والا جہنمی ہے۔ (مجمع الزوائد:199/4)

بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہماری تنخواہیں اتنی کم ہوتی ہیں کہ ’’اوپر‘‘ کی آمدنی بغیر زندگی گزر ہی نہیں سکتی، لیکن یہ محض اپنے آپ اور اپنے خدا کے ساتھ دھوکے کی بات ہے۔آپ ذرا ان لوگوں کو دیکھیے جن کی آمدنی آپ سے کہیں معمولی اور حقیر ہے، لیکن انہوں نے اپنا دامن حرام سے بچا رکھا ہے۔ان کا گزر اوقات بڑا اچھا ہو رہا ہے۔ اللہ نے ان کے تھوڑے میں بہت برکت رکھ دی ہے۔ اگر کوئی اور مثال ملنی دشوار ہو تو علما، مدارس کے اساتذہ اور مساجد کے ائمہ کو ہی دیکھ لیجیے۔ ان کو بہت سے لوگ دولت اور اقتدار کے نشے میں مخمور ہو کر اپنی کم نگاہی کی وجہ سے حقیر سمجھتے ہیں۔ ان کی آمدنی کس قدر کم ہوتی ہے، لیکن اس کے باوجود وہ حلال پر قناعت کے ساتھ خوشی خوشی اور بے فکری کے ساتھ اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔

رشوت ایسی بے ہودہ حرکت اور برا ہتھکنڈا ہے کہ اسے ہر مذہب میں حرام قرار دیا گیا۔اسلام کی نگاہ میں رشوت نہایت ہی قابل نفرت عمل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اپنے مال آپس میں باطل طریقے پر نہ کھاؤ اور مال حکام کے پاس نہ لے جاؤ کہ لوگوں کے مال کا ایک حصہ گناہ کے ساتھ کھا جاؤ۔ حالانکہ تم اس سے واقف ہو (البقرہ:188)‘‘ اس آیت میں خاص طور عدالت کی رشوت ستانی کی مذمت فرمائی گئی ہے۔

افسوس ناک بات یہ ہے کہ اب اس برائی کے برائی ہونے کا احساس بھی ذہنوں سے نکلتا جا رہا ہے۔ لوگ بے تکلف اپنی تنخواہ اور ’’اوپر کی آمدنی‘‘ کا ذکر کرتے ہیں۔ رشتہ مانگنے جاتے ہوئے لڑکے کی اوپر کی کمائی کو بھی فخر کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے۔ اگر کسی لڑکے کے بارے میں یہ بتایا جائے کہ یہ چور اور ڈاکو ہے تو شاید ہی کوئی شخص اس سے رشتہ کرنے کو تیار ہو، لیکن اس مہذب چوری اور ڈکیتی پر الٹا خوش ہوا جاتا ہے۔ اس حوالے سے والدین کا کردار دیکھیے کہ یہ جاننے کے باوجود کہ فلاں شخص کی اوپر کی آمدنی اتنی ہے، ماں باپ اسے بچے کی ہوشیاری اور ذہانت کا نام دے کر خوش ہوتے ہیں۔ آپ اللہ کی لعنت والے اس عمل سے خود بچیے۔ اپنی اولاد اور احباب کو بھی بچائیے۔ دین اور شریعت میں اس ’’اوپر‘‘ کی کمائی کی قطعا اجازت نہیں۔