آپ کا خیال کبھی دوسرے کی چاہت سے ٹکرا جاتا ہے۔ دوسرے کی رائے کبھی آپ کے لیے قابل گوارا نہیں ہوتی۔ کبھی کوئی غلط فہمی دلوں میں بغض کی چنگاریاں بھڑکا دیتی ہے۔ دوسرے کی طوطا چشمی کبھی معاہدے اور وعدے کی خلاف ورزی کا باعث بنتی ہے۔کبھی دوسرے کی کامیابی ہماری حسد پرستی کا نشانہ بن جاتی ہے۔ یہ سب اسباب ہیں، جو کبھی بھی، کسی بھی طرح جھگڑے اور تنازع کو ہوا دے سکتے ہیں۔ انسان عقل رکھتا ہے اور اپنے فائدے نقصان کو بھی خوب سمجھتا ہے تو آرا کا تصادم عموما وجود میں آتا رہتا ہے۔ معاملات میں بے اعتدالیاں بھی انسانوں سے ہوتی رہتی ہیں۔

شیطان ان مواقع سے فائدہ اٹھاتا اور دو مسلمانوں بھائیوں کو باہم دست و گریبان کر دیتا ہے۔ مالی معاملات اور کاروباری حوالوں سے اس کی نوبت بکثرت پیش آتی ہے۔ اس لیے کہ ان معاہدات اور معاملات میں عموماً سمجھوتہ اور کمپرومائز نہیں کیا جاتا۔ چونکہ تنازع انسانی فطرت کے تقاضے سے ہے، لہذا دین فطرت زندگی کے ہر مرحلے کی طرح ’’معاملے کی صفائی‘‘ کے لیے بھی نہایت قابل عمل حل پیش کرتا ہے۔


٭…صلح ، باہمی تنازع کو دور کرنے کا نہایت بہترین طریقہ، بلکہ یہ اختلافات سے باہر آنے کا باعزت راستہ ہے ٭…فریقین جب دست و گریبان ہوتے ہیں تو سماج جو کہ فریق ثالث ہے، اس جھگڑے کو مٹا بھی سکتا ہے اور بڑھا بھی


تنازع یا صلح کی حقیقت یوں سمجھیے کہ فریقین اور سماج پر مشتمل یہ ایک تکون ہے۔ اس تکون کے تین کنارے آپس میں ملنے سے ہی تنازع یا صلح وجود میں آ تی ہے۔ فریقین جب دست و گریبان ہوتے ہیں تو سماج جو کہ فریق ثالث ہے، اس کو جھگڑے کو مٹا بھی سکتا ہے اور بڑھا بھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان تینوں کو دو قسم کے احکام عطا فرمائے ہیں: فریقین سے کہا گیا کہ اگر وہ کسی مسئلے میں ایک دوسرے کے قریب آنے اور خلیج کو پاٹنے کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں تو دونوں فریق اپنی صف میں سے کسی مخلص، دین دار، سمجھ دار اور معاملہ فہم آدمی کا انتخاب کریں۔ وہ اس کو اپنا حَکم اور ثالث تسلیم کریں۔ پھر وہ ثالث جو بھی فیصلہ کرے، یہ دونوں اسے دل سے تسلیم کر لیں۔ قرآن پاک کہتا ہے: اگر حکم طرف دار بنے بغیر نیک نیتی اور سچے دل کے ساتھ صلح کی کوشش کریں گے تو اللہ تعالیٰ ضرور ان کو کامیابی سے ہمکنار کریں گے۔ (النسائ، آیت:35)

صلح ، باہمی اختلاف کو دور کرنے کا نہایت بہترین طریقہ، بلکہ یہ اختلافات سے باہر آنے کا باعزت راستہ ہے۔ اس لیے کہ اس میں کسی فریق کی فتح ہے اور نہ کسی کی شکست۔ اس سے سماج میں بھی انسان کی عزت میں اضافہ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کی دولت ان سب سے بڑھ کر ہے۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنی ’’اَنا‘‘ کے خول سے باہر آئے اور بڑائی کے احساس سے اپنے ذہن کو فارغ کرے۔ اپنے بھائی کو حقیر نہ سمجھے۔ اس کے اندر حقائق کو قبول کرنے کی جرات ہو، اور اس کی نگاہ نوشتہ دیوار کو پڑھنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔

تیسرا طبقہ جو دو مسلمانوں کے باہمی اختلاف سے اپنے آپ کو الگ نہیں رکھ سکتا، وہ ہمارا سماج ہے۔ یہ سمجھنا کہ یہ فلاں اور فلاں شخص کا اختلاف ہے، ہمیں اس میں پڑنے کی کیا ضرورت؟ یہ صحیح فکر اور مثبت سوچ نہیں۔ مسلمانوں کا یہ فریضہ ہے کہ جب وہ دو افراد کے درمیان اختلاف اور تنازع کی کیفیت محسوس کریں تو ان میں صلح کرانے اور شکتہ دلوں کو جوڑنے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں، لہذا اپنے دو بھائیوں کے درمیان میل ملاپ کرا دیا کرو۔(الحجرات:10) یہ نہایت ہی اہم فریضہ ہے۔ افسوس!آج مسلمانوں کو اس کی اہمیت اور سماج کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کا ادراک ہے نہ ہی احساس۔

حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: میں تم کو روزے، صدقے اور زکوۃ سے بھی افضل چیز نہ بتاؤں؟ ہم لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ آپ نے فرمایا: وہ ہے باہمی خلش کو دور کرنا اور صلح کرانا، یعنی اصلاح ذات البین۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا: آپس میں تعلقات کو بگاڑنا مونڈ دینے والی چیز ہے۔ (الادب المفرد، حدیث :391) ’’مونڈ دینے والی چیز‘‘ سے مراد یہ ہے کہ یہ چیز صفایا کر دینے اور تباہ و برباد کر دینے والی ہے۔خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو مسلمانوں کے درمیان صلح کرانے اور ان کے باہمی اختلافات کو رفع کرنے کا کس قدر پاس و لحاظ تھا۔ اس کا اندازہ اس واقعے سے کیا جا سکتا ہے۔

نماز باجماعت کا اہتمام حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کس کو ہو گا؟ عین جنگ میں بھی غیر معمولی حالات کے بغیر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی جماعت نہیں چھوٹی تھی۔ مرض وفات میں اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے جماعت میں شرکت کا اہتمام فرمایا، جب خود چلنے کی طاقت بھی نہیں رہی تھی۔مگر دو مسلمانوں بھائیوں کے تنازع ختم کرنے کے لیے آپؐ نے جماعت میں تاخیر گوارا فرما لی۔ ہوا یوں کہ قبیلہ بنی عمرو بن عوف میں ایک جھگڑا رفع کرنے اور مصالحت کرانے کے لیے آپ اپنے رفقا کے ساتھ بہ نفس نفیس تشریف لے گئے۔اسی فریضہ مصالحت میں اتنی تاخیر ہو گئی کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امامت کے لیے آگے بڑھایا دیا۔ نماز شروع ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ تشریف لائے۔(بخاری حدیث:269) اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے آپ کی نگاہ میں مسلمانوں کے درمیان صلح کرانے کی کس قدر اہمیت تھی۔

بہرحال! مسلمانوں کے آپس میں بھائی بھائی ہونے کا سب سے پہلا تقاضا تو یہ ہے کہ ہم دوسرے کے حقوق کا بھر پور خیال کریں۔ حق لینے سے زیادہ دوسرے کا حق ادا کرنے کی فکر ہو۔ اگر زندگی کے کسی موڑ پر اونچ نیچ ہو جائے تو ایک دوسرے کے لیے سینہ کشادہ رکھا جائے۔ مسلسل معاف کرنے اور در گزر کرنے کو عادت ثانیہ بنا لیا جائے۔ صلح و صفائی میں مشکل پیش آ رہی ہو تو عدالتوں کی طرف بھاگنے کے بجائے کسی ثالث کے ذریعے شریعت کے مطابق فیصلہ کروا لیا جائے۔ اس سب سے بڑھ کر اسلامی بھائی چارے کے ناتے ہم اپنے کسی دو بھائیوں کے درمیان فاصلہ اور دوری دیکھیں تو آگے بڑھ کر ان کا معاملہ حل کرانے کی کوشش کریں۔ مارکیٹ میں بیٹھے ہوئے اس کی نوبت نوبت اکثر پیش آتی رہتی ہے۔ آپ ایسے مواقع پر ہمیشہ اللہ تعالی کا یہ فرمان یاد رکھیے: ’’اور صلح کر لینا بہتر ہے۔‘‘(النسائ: 128)