عظیم ’اسلم شیخوپوری‘ معمر والد نے دونوں پاؤں سے معذور اپنے جواں سال بیٹے پر نگاہ ڈالی۔ ان کے تن بدن میں سردی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ وہ ایسے دن کے تصور سے لرز گئے، جب ان کا بیٹا اپنی معذوری کے باعث گلی گلی بھیک مانگنے پر مجبور ہو گا۔ وہ اللہ کی رضا پر بصد جان راضی تھے، مگر وہ زمانے کے بے رحم تھپیڑوں سے شدید خوف زدہ بھی تھے۔ وہ آگے بڑھے، بیٹے کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ پھر اس کی نظروں میں جھانکتے ہوئے وصیت کی: ’’بیٹا! بھیک مانگنے کو اپنے اوپر ہمیشہ کے لیے حرام سمجھو۔‘‘ بیٹے کی آنکھوں میں عزم و ہمت کے کئی چاند جگمگا اٹھے۔ اس نے حیا سے نظریں میں نیچی کر لیں۔ اس کے ساتھ ہی ’’عظیم اسلم شیخوپوری‘‘ کا بیج پڑ گیا اور اس نے تہ خاک پرورش پانا شروع کر دی۔


عَاشَ سَعِیْداً ومَاتَ شَہِیْداً
مولانا محمد اسلم شیخوپوری کن مشکلات، کن مصائب اور کن گھاٹیوں کو عبور کرتے ہوئے بلند مقام تک پہنچے؟ یہ داستان نہایت عبرت آموز ہے اور حوصلہ افزا بھی۔ آپ رحمہ اللہ نے دین اور دنیا، علم اور عمل، دولت اور عزت اور کردار اور گفتار کو جمع کرنے کی جو مثال قائم کی، رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی۔ ’’عَاشَ سَعِیْداً وَ مَاتَ شَہِیْداً‘‘ یعنی ’’سعادتوں بھری زندگی اور شہادت والی موت‘‘ کا حضرت مولانا سے خوبصورت مصداق شاید ہی کوئی اور ہو۔

علم شریعت سے عمل تجارت تک
آپ ایک ہونہار طالب علم سے جید عالم تک کا سفر طے کیا۔ اس کے بعد علم و تحقیق اور درس و تدریس سے وابستہ ہو گئے۔اس کے ساتھ ساتھ کاروبار کی طرف قدم بڑھائے۔ اس حوالے سے آپ رحمہ اللہ کے خیالات بڑے دلچسپ تھے۔ آپ فرماتے تھے: ’’دین کا کام پوری آزادی کے ساتھ اور بغیر کسی کی محتاجی کے کرنے کی صورت یہی ہے کہ انسان کمائی کا کوئی پیشہ اختیار کرے۔‘‘ آپ رحمہ اللہ نے یہ بھی فرمایا تھا: ’’میں یہ محنت، مشقت اس لیے کرتا ہوں، تاکہ قیامت کے دن جب میرے بچے اٹھیں تو اللہ کہیں کہ یہ اپنے ہاتھوں سے محنت کرنے والے مزدور کے بچے ہیں۔‘‘ وہ یہ بھی سمجھتے تھے ایک عالم دین کو عام لوگوں کی نظر میں بے وقعت نہیں ہونا چاہیے۔

تجارت بھی، عبادت بھی
تجارت کے کارزار میں اترے تو بہت تھوڑے سرمائے اور کم سطح سے آغاز کیا۔ سب سے پہلے کتابیں فروخت کرنا شروع کیں۔ کتابوں کی منتقلی اور گاہک تک پہنچانا اپنی جسمانی معذوری کے باعث مشکل ہوتا۔ لہذا اس کام کو جاری نہ رکھ پائے۔ پھر مزدور ہوٹلوں کو مٹر نکال اور پیک کر کے فراہم کرنا شروع کیے۔ آپ کے رفیق کار قاری عبد المنان نے ذکر کیا کہ مولانا شہید اور ان کی اہلیہ فجر سے پہلے پیکنگ مکمل کر دیتے۔ پھر یہ تھیلیاں قاری عبد المنان اور ان کے بھائی کے ذریعے نماز فجر سے پہلے جھونپڑا ہوٹلوں کو سپلائی کی جاتیں۔ اگلے مرحلے کے طور پر تسبیح، رومال اور مسواک وغیرہ کی فروخت شروع کی۔ اس سے متعلق مولانا کا نظریہ یہ تھا کہ ایسا کاروبار کیا جائے جس میں خدمت اور عبادت کا پہلو بھی ہو۔ حلیمی پروڈکٹس اپنی تمام پروڈکٹس کا نام اپنے دوست مولانا مفتی محمد نعیم کے والد حضرت قاری عبدالحلیم کی نسبت سے ’’حلیمی‘‘ رکھا۔ ’’حلیمی مسواک‘‘ شروع کیا جو بہت مشہور ہوا۔ اس سے متعلق عجیب خواہش تھی کہ اللہ کرے میری یہ مسواک اتنی مقبول اور عام ہو جائے کہ میں حرم شریف کے گیٹ سے جا کر اپنی مسواک خریدوں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ خواہش پوری کی۔ ایک سفرِ حرمین میں اپنی مسواک کو حرم شریف میں فروخت ہوتے دیکھا اور اسے خریدا۔

 

تجارت برائے خدمت
حضرت مولانا کا ’’شربت امراض قلب‘‘ بھی خدمت خلق کا ہی پس منظر لیے ہوئے ہے۔ آپ کی مسجد کے ایک نمازی دل کے مرض میں مبتلا تھے۔ وہ ہر روز بڑی مشکل سے سیڑھیاں چڑھ کر صحن تک اور صحن سے ہال تک پہنچتے۔ مگر چند دنوں میں آپ نے دیکھا کہ وہ صحت مند نظر آ رہے ہیں۔ ان سے وہ نسخہ معلوم کیا جس کی وجہ سے انہیں افاقہ ہوا تھا۔ متعلقہ حکیم صاحب سے رابطہ کرنے پر معلوم ہو اکہ نسخہ ایک اور صاحب کے پاس ہے۔ بالآخر دس ہزار روپے میں انہوں نے وہ نسخہ عنایت کر دیا۔ مولانا نے نہایت خالص اشیا سے دوائی تیار کروائی۔ بہت کارگر ثابت ہوئی۔ ایک شخص کے دل کا ’’والو‘‘ بند تھا، اسی سے کھلا۔

شانِ محنت
آپ کی مصنوعات میں ’’حلیمی شہد‘‘ غیر معمولی طور پر مقبول ہوا۔ صرف دو کَین سے شروع کیا۔ آپ رحمہ اللہ کی شانِ محنت ملاحظہ ہوکہ آپ کراچی کے علاقے شیر شاہ جا کر خود بوتلیں خرید کر لاتے۔ پھر جمعرات شام سے جمعہ شام تک بوتلیں دھو دھو کر خشک بھی کرتے اور پیک بھی۔ صاف بوتلیں اس لیے نہ خریدتے کہ وہ مہنگی تھیں۔ اس طرح قیمت بہت زیادہ بڑھ جانے کا اندیشہ تھا۔ جس سے ظاہر ہے گاہک کا نقصان ہوتا۔ اپنے کاروبار میں طلبہ کو بھی شامل کر لیتے۔ انہیں کہتے: اپنے عزیز، رشتہ داروں کے لیے لے جائیں، جو نفع ہو وہ آپ کا۔ شہد کا یہ کاروبار دو کین سے شروع ہو کر دو ٹرک تک پہنچا، ہنوز بھی جاری ہے۔

’’معیار پر سمجھوتہ نہیں کر سکتے‘‘
ایک منجن بنا کر فروخت کرنا شروع کیا۔ اس کا نسخہ بہت مہنگا تھا۔ بہت نایاب چیزیں ڈلتی تھیں۔ آپ کے ایک اور رفیق خاص مولانا محمد طیب نے بتایا کہ جب وہ یہ نسخہ خریدنے پنساری کے پاس گئے تو وہ حیرت سے میرا منہ تکنے لگا۔ اس نے کہا آپ عجیب نسخہ خریدنے آئے ہیں۔ ہم طویل عرصے سے یہی کام کر رہے ہیں، اتناقیمتی اور مہنگا نسخہ ہم سے کبھی کسی نے نہیں خریدا۔ مولانا اسے بیچیں گے کیسے؟ اس نے مجھے کہا کہ آپ جا کر دوبارہ پوچھ آؤ۔ میں نے واپس آ کر مولانا سے بات کی تو فرمانے لگے: دیکھو! ہم معیار پر سمجھوتہ ہرگز نہیں کر سکتے۔ یہ بھی یاد رکھو! ہم چاہتے ہیں ہماری وجہ سے کسی کی صحت وغیرہ کا نقصان نہ ہو۔ میں دوبارہ پنساری کے پاس گیا تو وہ کہنے لگا: ’’جب تیار ہو جائے تو 5 ڈبیاں مجھے بھی فروخت کرنا، میں اسے اپنے گھر میں استعمال کروں گا۔ ایسی معیاری چیز تو کوئی نہیں بناتا، یہ تو صرف مولانا کا ہی دل ہے۔‘‘

علم اور تجارت ساتھ ساتھ
ایک ’’سنت گفٹ‘‘ شروع کیا۔ اس میں شہد کی بوتل، مسواک، عطر، تسبیح، سرمہ، بادام والی کھجور اور چھوٹا رومال وغیرہ شامل تھا۔ یہ بھی بہت مقبول ہوا۔آپ نے کئی ایک کاروبار کیے۔ مقامی سطح سے ایکسپورٹ، امپورٹ پہنچے۔ دوسری جانب آپ کے علمی اور اصلاحی مشاغل بغیر کسی انقطاع اور تعطل کے جاری رہے۔ آپ نے تدریس، تحقیق، تصنیف اور تفسیر قرآن میں غیر معمولی مہارت اور شہرت پائی تھی۔ یہ سب کیسے ممکن ہوا؟

فطری طور پر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ آخر یہ سب کچھ کیسے ممکن ہوا؟ سچ سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ آپ نے جن بنیادوں پر اپنے کاروبار کی اٹھان کی، وہ خود ہی کامیابی کی ضامن تھیں۔ خلوص، خالص چیزیں فراہم کرنا، معیار، اخلاق اور خدا خوفی… آپ کے مزاج اور معمولات میں یہ اوصاف رچ بس گئے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ کی انتھک محنت و کاوش نے آپ کو ہمہ گیر بنانے میں خصوصی کردار ادا کیا۔ آپ کے رفقا کے بقول: اللہ تعالیٰ نے مولانا کو بے انتہا ہمت و جرات دے رکھی تھی۔ خود گاڑی ڈرائیو کرتے اور بڑے بڑے امور انجام دیتے۔ آپؒ کے دوست حاجی عبد الرؤف عیسیٰ فرماتے ہیں: ’’میں مولانا کو معذور نہیں سمجھتا۔ اس لیے کہ معذور وہ ہے جو کم ہمت ہے، جو مشقت کا عادی نہیں ہے۔‘‘

کام، کام اور صرف کام
مولانا مفتی محمد نعیم فرماتے ہیں: ’’میں اس معذور شخص کو داد دیتا ہوں، جس نے معذوری کے باوجود محنت کر کے اپنے بچوں کو اس مقام تک پہنچایا۔‘‘ آپ کے رفیق مولانا محمد طیب فرماتے ہیں: ’’آپ تھکن کے نام سے ہی ناواقف تھے۔ کام، کام اور صرف کام۔ مسنون طریقے کے مطابق عشا کے بعد جلد سو کر صبح جلد اٹھ جاتے تہجد پڑھتے اور کئی پارے تلاوت فرماتے۔


اگر اہلیہ ساتھ نہ دیتیں
خصوصی اوصاف اور ذاتی محنت کے ساتھ ساتھ آپ کی کامیابی کا ایک اور اہم راز آپ کی سلیقہ شعار اہلیہ محترمہ ہیں۔ جنہوں نے انتہائی عسرت کے زمانے میں آپ کا ہر ممکن ساتھ دیا۔ مولانا مرحوم نے اپنے رفیق مولانا محمد طیب سے فرمایا: ’’میری ان کامیابیوں میں میری اہلیہ کا بہت عظیم کردار ہے۔ اگر وہ میرا ساتھ نہ دیتیں تو آج میں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل نہ ہوتا۔ اکثر کام وہی انجام دیتی ہیں۔‘‘ ’’میری دنیا کے لیے اپنی آخرت برباد نہ کرو‘‘


ایک بزنس مین کا سب سے بڑا امتحان کاروباری اخلاقیات کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔ اسی میں عمومی طور پر تاجر ناکام نظر آتے ہیں۔ مختلف قسم کی اخلاقی کوتاہیوں کے باعث ان کی کمائی حرام سے آلودہ ہو جاتی ہے اور انہیں احساس تک نہیں ہوتا۔ اس حوالے سے جیسی مثال مولانا شہید نے قائم کی، یہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی توفیق سے ہی ممکن ہے۔ اس حوالے سے چیدہ چیدہ احوال دیکھیے۔ ادھار عموماً نہیں لیتے تھے۔ نقد لین دین کی عادت تھی۔ انتہائی بے لوث رہ کر زندگی گزاری۔ اپنے کارکنوں سے کہہ رکھا تھا: جب پیسے آجائیں تو سب سے پہلے کوئی ادائیگی ذمے ہو یا قرض ہو تو وہ ادا کیا کرو۔ اس کے بعد جو بچے مجھے لا کر دیا کرو۔ آپ کی زبان پر لوگوں کو اس قدر اعتماد تھا کہ وہ ایک فون کال پر بڑے سے بڑا معاملہ طے کرنے پر تیار ہو جاتے۔ اپنے عملے سے کہا کرتے:’’ میری دنیا کے لیے اپنی آخرت ہرگز خراب نہ کرو۔ اگر کسی کو دھوکہ دیں گے تو چیزیں تو میری فروخت ہوںگی ، مگر آخرت آپ کی خراب ہو گی۔‘‘

سخت سست نہ گالیاں
’’باس‘‘، سربراہ اور پروٹوکول کا کوئی تصور آپ کے ہاں نہیں تھا۔ آپ اپنے ماتحتوں کے لیے ایک مشفق والد اور استاد کی طرح تھے۔ آپ کے ایک دوست اور رفیق ’’بھائی اسد خان‘‘ بتاتے ہیں: ’’مولانا شہید ایک مرتبہ سفر حج پر تھے۔ آپ کے کاریگر کو ایک آرڈر ملا۔ اس نے مجھ سے مسواک کی 80 ہزار تھیلیاں تیار کروائیں۔ آرڈر کے مطابق انہیں پیک کر دیا۔ اس میں تقریبا 4 لاکھ کا مال بھرا تھا۔ اسی دوران آرڈر والا بھاگ گیا اور اس نے وہ مال وصول نہ کیا۔ یہ بہت بڑا نقصان تھا۔ مولانا مرحوم حج سے واپس آئے تو یہ سن اور دیکھ کر بہت پریشان ہوئے۔ مگر اپنے کاریگر کو سخت سست کہا نہ ہی آرڈر دینے والے کو گالیاں دیں۔ صرف اس کے لیے ہدایت کی دعا فرمائی، مزید کچھ نہ کہا۔‘‘ بھائی اسد بتاتے ہیں: ان تھیلیوں کا نقصان میں نے خود برادشت کرلیا تھا۔ حضرت مولانا نے خوش ہو کر مجھے یہ دعا دی: اللہ تمہیں اتنا دے کہ تم سے سنبھالا نہ جائے۔‘‘
اسی حوالے سے مولانا محمد طیب اپنا ذاتی واقعہ ذکر کرتے ہیں: ’’مجھے کافی بڑی رقم دے کر فرمایا: اتنی رقم زکوۃ کی ہے اور بقیہ کتابوں کی مد میں خرچ کرو۔ یہ رقم دو لاکھ سے زائد تھی۔ میں سمجھ نہ سکا اور ساری رقم زکوۃ سمجھ کر صدقہ کر دی۔ آ کر مولانا مرحوم کو اطلاع دی تو بس اتنا فرمایا: اللہ قبول فرمائے۔ کوئی بات نہیں۔ یہ میری غلطی ہے، میں آپ کو صحیح طرح سمجھا نہ سکا تھا۔‘‘

دھوکہ دینے والے
آپ کے ایک دوست نے آپ کا یہ قول نقل کیا: ’’میرا پیسہ جن لوگوں نے کھایا، بظاہر وہ دینی حلیہ رکھنے والے لوگ تھے۔ ان سے ایسی حرکت کی ہرگز توقع نہ تھی۔‘‘ مولانا طیب کے بقول: مگر مولانا مرحوم کی یہ کرامت بھی تھی کہ جس نے بھی آپ کا پیسہ کھایا، اللہ نے اسے در در کا بھکاری بنا دیا۔ ایک صاحب اچھے خاصے بزنس مین تھے۔ مولانا کو دھوکہ دیا۔ بعد میں ہوٹل میں ٹیبلوں پر کپڑا لگاتے نظر آئے۔ ایک اور صاحب اس قدر مالی بحران کا شکار ہوئے کہ قرض خواہوں نے ان کا مکان اپنے نام کروا لیا۔ ’’میں ٹیکس چور نہیں‘‘

آپ کا کاروبار جب اور جس قدر بھی رہا، ٹیکس پابندی سے ادا کیا۔ ایک مرتبہ ایک پلاٹ خریدنے کا ارادہ کیا۔ علاقے کے صاحب اقتدار نے رکاوٹیں ڈالیں۔ خود اس کے پاس پہنچے۔ جب اس نے قیل قال کی تو اس کے سامنے رسیدوں کی تھیلی الٹ کر اسے بتایا کہ الحمد للہ! میں ٹیکس چور نہیں ہوں، یہ دیکھہ لو! میں نے ہمیشہ ٹیکس ادا کیا ہے۔ ہے کوئی؟


مولانا مرحوم نے جس طرح آئینے جیسی شفاف زندگی گزاری، ہم میں سے ہر ایک اس میں اپنا چہرہ دیکھ کر اپنی اصلاح کر سکتا ہے۔ تاجر برادری خوب جانے کہ آج کے اس دور میں ،انہی حالات میں شریعت کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے، کاروباری تقاضے پورے کرنا صرف ممکن ہی نہیں، نہایت کامیاب حکمت عملی بھی ہے۔ مولانا شہید کی کامیاب زندگی کے ان خطوط پر چل کر ہم بھی دنیا، آخرت کی کامیابیاں اپنے نام کر سکتے ہیں۔

ہے کوئی اس آواز پر لبیک کہنے والا؟؟
٭…کاروبار کے ساتھ ساتھ آپ کے علمی، اصلاحی اور تصنیفی مشاغل بغیر کسی انقطاع کے جاری رہے ٭…خلوص، خالصیت، معیار، اخلاق اور خدا خوفی،یہ آپ کی کاروباری زندگی کے بنیادی اصول تھے ٭…مولانا مرحوم کی آئینے جیسی شفاف زندگی میں ہم اپنا چہرہ دیکھ کر اپنی اصلاح کر سکتے ہیں

مفتی محمد طیب، مہتمم جامعہ اسلامیہ امدادیہ، فیصل آباد
کاروباری طبقے کے معاملات کو دین کے تابع بنانے کے لیے ممکنہ اقدامات میں سے یہ مبارک ہفت روزہ بھی ایک قدم ہے۔ حق تعالیٰ آپ کی پوری ٹیم کو مزید اخلاص، قبولیت اور جذبہ عمل سے سرشار فرمائیں آمین۔ اللہ کرے یہ مبارک رسالہ ملک اور بیرون ملک کے ہر تاجر کے ہاتھ میں نظر آنے لگے، آمین۔

مفتی حامد حسن، دارالعلوم کبیر والا
مذکورہ کاوش جہاں ایک طرف تاجر برادری کے لیے غنیمت ہے کہ وہ اس سے رہنمائی لے کر اپنے کاروبار کوشریعت کے دائرے میں لا سکیں، وہاں علماء کے لیے بھی یہ رسالہ نعمت عظمی ہے۔ وہ بھی جدید تجارتی معاملات پر نظر رکھ سکتے ہیں، کیونکہ عالم کے سامنے جب تک کسی مسئلے کی صورت واقعہ نہیں ہو گی، اس وقت تک صحیح جواب دینا مشکل ہوتا ہے۔