کیا مطلب؟ یہ دنیا دار اور دین دار کی تفریق کیا ہے؟ کون ہوتا ہے دنیا دار اور کسے کہتے ہیں دیندار؟ سچ یہ ہے کہ مسلمان صرف مسلمان ہوتا ہے۔ اس کی زندگی میں دنیا دار یا دیندار کی تفریق نہیں۔ وہ اللہ کو مانتا ہے اور پھر اللہ کی مانتا ہے۔ وہ دنیا میں رہ کر دین پر عمل کرتا اور اپنی آخرت سنوارتا ہے۔ وہ دنیا کو آخرت کی کھیتی سمجھ کر زیرک کسان کی طرح اس میں سونا اگانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ دنیا کی کشتی میں بیٹھتا ہے مگر پانی کو اندر داخل نہیں ہونے دیتا۔ وہ اس دریا میں گھٹنوں ڈوب جاتا ہے، مگر کپڑوں کو قطرہ بھر پانی نہیں لگنے دیتا۔


جب دل میں عشق الہی کی چنگاری سلگ اٹھتی ہے تو مال و اسباب تقوی و طہارت کا زینہ بن جاتے ہیں۔ جب آنکھیں خدا آشنا ہو جاتی ہیں تو فلک بوس برج اور زر و جواہر کے ڈھیر اس کی نظر میں مٹی کی دھول سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے۔ جب شخصیت کی تعمیر اسوہ حسنہ کو دیکھ دیکھ کر کی جاتی ہے تو دنیاوی زندگی کا ہر دن اس کے ایمان میں ارتقا کا سبب بنتا ہے۔ جب آگے جانے کی فکر کسی کے دل میں جاگزیں ہو جاتی ہے تو وہ خزانوں کی ڈھیری پر بیٹھ کر بھی اپنی حقیقت کو نہیں بھولتا۔


٭…کیا ہی اچھا ہو اگر ہم اپنے مال کو وبال بننے سے بچائیں،ہم ایک مثالی مسلمان بننے کی کوشش کریں ٭… مسلمان صرف مسلمان ہوتا ہے، اس کی زندگی میں دنیا دار یا دیندار کی تفریق نہیں


آپ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیوں میں غور کیجیے۔ کیا انہوں نے ہر وہ کام نہیں کیا جو ضروریات زندگی سے تعلق رکھتا تھا؟ کیا وہ بھی ہماری طرح مختلف پیشوں اور شعبوں سے وابستہ نہیں تھے؟ کیا انہوں نے بزنس نہیں کیا؟ کیا وہ اونچے عہدوں پر فائز نہیں رہے؟ کیا دنیا ان کے قدموں میں سمٹ کر نہیں آ گئی تھی؟ اگر وہ ان دنیاوی پیشوں، عہدوں، خزانوں اور وابستگیوں کے باوجود ولایت کے اعلیٰ ترین مقام کے مستحق قرار دیے گئے تو یقیناً ہم بھی دنیاوی دھندوں میں پڑ کر بھی خدا کی معرفت کے جوہر سے محروم نہیں رہ سکتے۔

وہ راز وہ جوہر کیا ہے؟ ایک لفظ میں اسے ’’زاویہ نگاہ‘‘ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ انہوں نے ہر چیز کو آخرت کی نظر سے دیکھنا شروع کیا۔ ان کی دنیا دنیا نہ رہی، سراپا دین بن گئی۔ حضرت طلحہ بن عبید اللہ الفیَّاض رضی اللہ عنہ مشہور صحابی ہیں۔ آپ کی فیاضی کے قصے زبان زدِ خاص و عام تھے۔ ایک مرتبہ ان کے ذمے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے 50 ہزار درہم قرض ہو گئے۔ جب اتنامال ہاتھ میں آ گیا تو فوراً ادائیگی کی فکر دامن گیر ہوئی۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو مسجد جاتے راستے میں ملے اور عرض کیا: میرے پاس اتنی رقم آ گئی ہے کہ آپ کا قرض ادا کر سکوں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارے ذمے بہت سے لوگوں کے اخراجات ہیں، لہذا وہ رقم میری طرف سے تمہاری ہی نذر ہے۔ آپ اسے استعمال کیجیے۔

حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک زمین سات لاکھ میں فروخت کی۔ قیمت وصول ہوئی تو شام کا وقت ہو گیا۔ اس وقت وہ اسے فقرا میں تقسیم نہ کر سکتے تھے۔ رقم رات بھر ان کے پاس رہی اور وہ سخت بے چینی میں رہے۔ صبح اٹھتے ہی سب سے پہلے اس مال کو تقسیم کیا۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کی بیوی سُعدیٰ فرماتی ہیں: ایک مرتبہ انہوں نے ایک لاکھ تقسیم کیا۔ جبکہ اپنا حال یہ تھا کہ اس دن مسجد جانے میں اس وجہ سے دیر ہو گئی کہ ان کے کپڑے کو پیوند لگانے میں ذرا تاخیر ہو گئی تھی۔ اسی سے معلوم ہوا ان کے پاس اس کے سوا کوئی اور لباس موجود ہی نہ تھا۔ یہ ولایت و سخاوت کا انتہائی اعلی مقام ہے۔ مگر ہم اپنی استطاعت کے بقدر اس دور میں جتنا بھی اہتمام کر لیں گے، اللہ ہمیں ہماری توقعات سے بڑھ کر نوازے گا۔ ان شاء اللہ۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا بزنس، مالداری اور سخاوت مثالی ہے۔ آپ ان دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ہیں، جنہیں دنیا میں ہی جنت کی بشارت دے دی گئی۔ اس سب کے باجود یہ حال تھا کہ جب کسی قبر کے پاس کھڑے ہوتے تو اس قدر روتے کہ ڈاڑھی مبارک تر ہو جاتی۔ کسی نے سوال کیا: آپ جنت اور دوزخ کا تذکرہ سن نہیں روتے، جبکہ قبر کو دیکھ کر آپ خود پر قابو نہیں رکھ سکتے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے: بلاشبہ قبر آخرت کی پہلی منزل ہے، جس نے قبر کی مصیبت سے نجات پالی، اگلی منزلیں سب آسان ہو جائیں گی۔ اگر اس مصیبت سے نجات نہ پائی تو اس سے اگلی منزلیں اس سے زیادہ سخت ہیں۔ اور رسول اللہ علیہ و سلم نے یہ بھی فرمایا: قبر سے برا اور مصیبت والا منظر میں نے کوئی نہیں دیکھا۔ (ترمذی، ابن ماجہ)

حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کی گود میں سر رکھے لیٹے ہوئے تھے۔ اچانک کسی خیال سے رونے لگے۔ یہ منظر دیکھ بیوی بھی رونے لگی۔ پوچھا: تم کیوں روتی ہو؟ کہا آپ کو روتا ہوا دیکھ کر میں بھی رونے لگی۔ حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دراصل اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا تصور میں ذہن میں اتر آیا تھا:’’و ان منکم الاّ واردھا‘‘ جس کا مطلب ہے: تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کا دوزخ پر گزر نہ ہو۔ اس آیت میں ہر شخص کے پل صراط پر سے گزرنے کی خبر دی گئی ہے۔ اب سوچ رہا ہوں معلوم نہیں کہ پل صراط کو عبور کر کے جنت میں چلا جاؤں گا یا دوزخ میں گر جاؤں گا۔

حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک عورت کے ہاتھ میں سونے کی موٹی موٹی چوڑیاںتھی۔ آپ صلی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا: کیا تم ان کی زکوۃ ادا کرتی ہو؟ عرض کیا: نہیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: کیا تمہارا جی یہ چاہتا ہے کہ اللہ تمہیں قیامت کے روز آگ کی دو چوڑیاں پہنائیں۔ یہ سنتے ہی وہ کانپ گئیں۔ اسی وقت وہ دونوں چوڑیاں اتار کر خدمت اقدس میں پیش کر دیں اور فرمایا: ’’بس یہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔‘‘ یعنی ہم ایسی چیز کیوں اپنے پاس رکھیں جو آخرت میں وبال کا سبب بنے۔ (جمع الفوائد)

کیا ہی اچھا ہو اگر ہم اپنے مال کو وبال بننے سے بچائیں۔ اسے آخرت کا زینہ بنائیں۔ یہاں تک کہ ہم ایک مثالی مسلمان کا روپ دھار لیں۔ ایک ایسا مومن جو صرف اللہ کا بندہ ہو، جو دیندار یا دنیا دار نہ ہو۔