آپ شاید مجھ سے اتفاق نہ کریں۔ مگر یہ ایک ثابت شدہ حقیت ہے۔ ہم کم و بیش روزانہ ایک گھناؤنے فعل کا ارتکاب کرتے ہیں۔ صرف یہی نہیں، اس کے لیے ہم اپنے سگے بھائیوں تک کو معاف نہیں کرتے۔ آپ کو یقینا برا لگے گا، مگر وہ خصلت ہی ایسی ہے، ایک بار نہیں ہم یہ عمل دن میں بار بار دہراتے اور اس بہیمیت سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ تب ہم ذرا نہیں چوکتے اور یہ انتہائی گھناؤنی حرکت سرزد کرتے چلے جاتے ہیں۔ یقین مانیے، ایسا ہی ہے۔


آپ سوچیے! صبح دفتر آنے، فیکٹری پہنچنے اور اپنی دیگر مصروفیات میں لگنے کے بعد اپنے ساتھیوں سے متعلق ہماری زبان جو کچھ اگلنے لگتی ہے ، اسے غیبت کہتے ہیں۔ ہم عمومی طور پر اپنے ہم دفتر ساتھیوں،اپنے افسران اور اپنے پڑوسیوں وغیرہ کی برائی بیان کرتے رہتے ہیں۔ ہم ان سے متعلق ایسی گفتگو میں مشغول رہتے ہیں جو اگر ان کے سامنے کی جائے تو یقینا انہیں ناگوار گزرے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا تذکرہ (اس کی غیر حاضری میں) اس انداز سے کرو کہ (اگر اسے پتا چلے تو) اسے ناگوار ہو۔‘‘


غیبت ایسا گناہ ہے جب تک غیبت سے متاثرہ شخص سے معافی نہیں مانگ لی جاتی، یہ ہرگز معاف نہیں ہو سکتا


اس قسم کی گفتگو اللہ تعالی کو اس قدر ناگوار ہے کہ اسے اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کی مانند قرار دیا ہے۔ اللہ تعالی سورہ حجرات، آیت:12میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔ کیا تم میں سے کوئی پسند کرے گا کہ وہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟ اس سے تو خود تم نفرت کرتے ہو اور اللہ سے ڈرو۔ بے شک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا، بہت مہربان ہے۔‘‘

حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی فرماتے ہیں:’’ غیبت در اصل ایک نفسیاتی بیماری ہے۔ غور کرنے سے اس کی تہ میں کوئی نہ کوئی ضرور ایسا محرک نکلے گا جو کسی نہ کسی نفسیاتی روگ کی نشاندہی کرے گا۔ بعض اوقات اس کا محرک حسد ہوتا ہے۔ ہم کسی شخص کو آگے بڑھتا ہوا دیکھ نہیں سکتے اور اس کی برائی کر کے اپنے دل کو تسکین پہنچاتے ہیں۔ کبھی اس کا محرک احساس کمتری یا تکبر ہوتا ہے۔ ہم اپنے آپ کو دوسروں سے بڑا باور کرانا چاہتے ہیں۔ ہم اس شوق میں اس کی برائی بیان کرنے لگتے ہیں کہ ہمیں اس برائی سے پاک سمجھ کر اس سے افضل جانا جائے۔ کبھی اس کا محرک یہ ہوتا ہے کہ دوسروں کا مذاق اڑا کر ہم مجلس میں مقبولیت حاصل کرلیں۔ گویا ہم اپنی مقبولیت کی عمارت دوسرے کی آبرو پر کھڑی کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

آج ہم میں یہ بیماری اتنی رواج پا گئی ہے کہ اس کی قباحت ہی دلوں میں نہیں رہی۔ اس کی مثال یوں ہے جیسے کسی بیماری کی وجہ سے زبان کا ذائقہ خراب ہو جائے تو اسے کڑوی چیز میٹھی اور میٹھی چیز کڑوی لگنے لگتی ہے۔ پھر اس کڑوی چیز کو چھوڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لہذا اس کا علاج کرنے کی ضرورت ہے۔ جب علاج ہو جائے گا تو اس کی حقیقت ہمارے سامنے کھل جائے گی۔ ہم اس کی نہایت اذیت ناک اور زہر ناک کڑواہٹ محسوس کرنے لگیں گے۔ اس مقصد کے لیے اسی آیت مبارکہ کا تصور ذہن میں لے آئیے جسے اوپر ذکر کیا گیا۔ اللہ کے قرآن پر یقین رکھتے ہوئے ہم دوسروں کی غیبت اور برائی بیان کرنے کو اتنا ہی برا اور قابل نفرت سمجھیں جتنا اپنے مردہ بھائی کے گوشت کھانے کو سمجھتے ہیں۔ غیبت کے حوالے سے یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ یہ ایسا گناہ ہے جب تک غیبت سے متاثرہ شخص سے معافی نہیں مانگ لی جاتی، یہ ہرگز معاف نہیں ہو سکتا۔ ذرا سوچیے! اگر ہم دن بھر میں سو آدمیوں کی غیبت کرتے ہیں اور اسے روزانہ کا معمول بنا لیا ہے تو اتنے لوگوں سے معافی کیسے مانگیں گے۔اس ضمن میں کتنے لوگ وہ ہیں جو اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ ہم چاہیں بھی تو اب ان سے معافی نہیں مانگ سکتے۔

اس بیماری سے جان چھڑانے کے لیے سب سے پہلے تو اپنی زبان پر قابو پائیے۔ اس کو بے دریغ چلنے سے روکیے۔ کسی بھی مسلمان بھائی کی برائی بیان کرنے سے مکمل باز آجائیے۔ جن کی غیبت کی ہے، ذرا ہمت کر کے ان سے معافی مانگ لیجیے۔ جو اس دنیا سے جا چکے، ان کی مغفرت کے لیے اللہ تعالی سے خوب خوب دعا مانگیے۔ ہر وقت یہ سوچیے کہ دوسرا مسلمان بھائی مجھ سے زیادہ اللہ کا مقبول بندہ ہے۔ میرے اندر اس سے زیادہ عیب ہیں۔ بازار کے ماحول میں اس قسم کی آدم خوری کا یہ انتہائی بھیانک دھندا بہت کثرت سے ہوتا ہے۔آپ اپنی عموی اور بازاری زندگی میں خوداس سے بچیے، دوسروں کو بچنے کی تلقین کیجیے۔