اچھے اخلاق کا ذکر سن کر ہمارا ذہن صدیوں پیچھے چلا جاتا ہے۔ ہم سوچنے لگتے ہیں کسی زمانے میں روئے ارض پر کوئی مخلوق بستی ہو گی، جو ایسی ستودہ صفات کا اہتمام کیا کرتی ہوگی۔مگر شاید ہماری یہ سوچ درست نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ہر زمانے اور ہر شخص کے لیے ہیں۔ جو اور جب بھی انہیں اختیار کرے گا، انہیں ممکن العمل بھی پائے گا اور نہایت اثر انگیز بھی۔ آئیے! اسی زمانے کا ایک واقعہ ملاحظہ کر کے اپنی سوچ کو ایک نئے عزم اور ولولے کی تازگی بخشیں۔


حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین سے ظاہر ہے پڑوسی قریب قریب رشتہ دار جیسے سلوک کا مستحق ہے، آج کی مغربی قدروں نے ان اسلامی قدروں کی اہمیت گھٹادی ہے


حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہم نے اپنے دوست کے ساتھ بیتا ایک واقعہ ذکر کیا ہے۔ ایک مرتبہ وہ سعودی عرب کے ایک بازار میں خریداری کر رہے تھے۔وہ فرماتے ہیں: میںکپڑے کی دکان پر آیا۔ دکاندار نہایت خوش اخلاقی سے پیش آیا۔وہ تھان کے تھان پیش کرتا رہا اور میں انہیں دیکھتا رہا۔بالآخر مجھے ایک کپڑا پسند آ گیا۔ میں نے ریٹ کی بات کی۔ ہمارے درمیان نہایت خوشگوار ماحول میں ریٹ طے ہو گیا۔ میں نے اسے کپڑا کاٹنے کا کہا۔ مگر اس لمحے اچانک اس کا لہجہ تبدیل ہو گیا۔ اس نے نہایت معذرت خواہانہ انداز میں کہا: دوست! میں یہ کپڑا نہیں کاٹ سکتا۔ بعینہ یہی چیز میرے ساتھ والی دکان میں موجود ہے۔ بالکل اسی ریٹ پر آپ کو وہاں سے مل جائے گی۔ آپ براہ کرم وہاں تشریف لے جائیے۔

ظاہر ہے یہ بات میری سمجھ سے بالاتر تھی۔ میں نے اسے اس کی وجہ بتانے کا کہا۔ اس نے اپنی بات پر اصرار جاری رکھا اور کہا: بس آپ اس کی وجہ کو چھوڑیے اور جاکر وہاں سے خرید فرمائیے۔ جب میں نے یہ دیکھا تو میں بھی اپنی بات پر اڑ گیا۔ یا تو آپ وجہ بتائیں یا پھر میں یہیں سے خریدوں گا۔ بالآخر اس نے اس کی وجہ بتادی اور میں سن کر حیرت میں ڈوبتا چلا گیا۔ دکان دار نے کہا: بس اتنی سی بات ہے کہ یہ دکان دار میرا پڑوسی ہے اور میں کافی دیر سے دیکھ رہا ہوں کہ اس کے پاس کوئی گاہک نہیں آیا، جبکہ میرے پاس اتنے گاہک آ چکے ہیں کہ میرا گزارا چل جائے۔ میں نے سوچا: آپ کو وہاں بھیج دوں، تاکہ وہ پریشان بھی نہ ہو اور مایوسی سے بھی بچا رہے گا۔ اگر آپ وہاں سے جا کر خرید لیں تو اسی معیار، اسی قیمت کے ساتھ آپ کو کپڑا مل جائے گا۔ جس میں میرے اس بھائی کا فائدہ ہے اور آپ کو کچھ نقصان نہیں۔ پڑوسی سے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم چند احادیث ملاحظہ فرمائیے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’حضرت جبرئیل علیہ السلام مسلسل مجھے پڑوسی کے (حقوق)کے بارے میں وصیت فرماتے رہے۔ یہاں تک کہ مجھے یوں لگا کہ وہ عنقریب پڑوسی کو وراثت کا حق دار بھی ٹھہراد یں گے۔‘‘ ایک اور حدیث پاک میں ہے: ’’اللہ کی قسم! وہ شخص کامل ایمان والا نہیں،وہ شخص کامل ایمان والا نہیں،وہ شخص کامل ایمان والا نہیں۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: یارسول اللہ! یہ کون شخص ہے؟ ایسا شخص تو ناکام و نامراد ہو۔ فرمایا: یہ وہ شخص ہے جس کا پڑوسی اس کی اذیت سے محفوظ نہ ہو۔‘‘

تیسری حدیث کا مفہوم کچھ اس طرح ہے: ’’جوشخص خدا اوریوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو،وہ اپنے پڑوسی کو کوئی ایذا اور تکلیف نہ دے۔‘‘چوتھی حدیث میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:’’وہ مسلمان نہیں جو خود پیٹ بھرکر کھائے اور پہلو میں رہنے والا اس کا پڑوسی بھوکا رہے۔‘‘پانچویں حدیث بھی ملاحظہ فرمائیے۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’وہ آدمی جنت میں نہیں جائے گا جس کی شرارتوں سے اس کے پڑوسی مامون نہیں۔‘‘

ہمارا کولیگ ہمارا پڑوسی ہے۔ ہمارے ساتھ سفر کرنے والا ہمارا پڑوسی ہے۔ ہمارے ساتھ تھوڑی دیر بیٹھنے والا ہمارا پڑوسی ہے۔ ہمارا بازار کا ساتھی ہمارا پڑوسی ہے۔ ہماری دکان، کارخانے اور فیکٹری کے ساتھ کی دکان، کارخانے ، فیکٹری اور کمپنی والا ہمارا پڑوسی ہے۔ حدیث پاک کے مطابق ان سب کے حقوق ہمارے ذمہ لازم ہیں۔ ہمیں ان کی راحت کا خیال، اپنی راحت سے پہلے کرنا ہے۔ ہمیں ان کے حقوق کی ادائیگی کا خیال، حقوق کی وصولی سے زیادہ رکھنا ہے۔ ہمیں پڑوسیوں کے دکھ درد میں شرکت کو ایسے ہی لازمی سمجھنا ہے جیسے ہم رشتہ داروں کی خوشی غمی میں شریک ہونا ضروری سمجھتے ہیں۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین سے ظاہر ہے پڑوسی قریب قریب رشتہ دار جیسے سلوک کا مستحق ہے۔ آج کی مغربی قدروں نے ان اسلامی قدروں کی اہمیت گھٹادی ہے۔ اگر ہم پڑوسی کا حقوق کا خیال رکھنے لگیں، ہمارے مسائل حل ہوں۔ باہم حسد اور نفاق سے نجات حاصل ہو جائے۔ معاشرے میں خوشحالی کی معطر ہوائیں بکھر جائیں۔