ذکر اِک اچھی غلطی کا

’’یہ کیسی بے ہودگی ہے؟ لاکھوں کا نقصان کر دیا اور ذرا پروا نہیں!؟ آپ فوراً سے پہلے میرے دفتر حاضر ہو جائیں!!‘‘ ادارے کا منیجر ٹیلی فون پر گرج برس رہا تھا۔ ’’جی سر! میں حاضر ہوتا ہوں۔‘‘ پرنٹنگ پریس کے مالک نے کہا اور چند منٹ بعد وہ وہاں موجود تھا۔ ’’آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارا ادارہ ملک کے چند نامور اداروں میں سے ہے۔ مسٹر پرنٹر! آپ نے ہمارا پانچ ہزار کا ایڈیشن برباد کر کے رکھ دیا ہے۔‘‘ منیجر نے بلاتوقف کہنا شروع کر دیا۔’’ یہ دیکھیے، اس کی کٹنگ کتنی غلط ہوئی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

اخلاق کی طاقت

کیا آپ اس بات سے اختلاف کریں گے کہ دنیا کی سب سے طاقت ور چیز ’’اخلاق‘‘ ہے؟ ’’حُسنِ اخلاق‘‘ ایسا وصف ہے جسے ہر عقل و شعور رکھنے والا پسند کرتا ہے۔ حتی کہ جانور بھی اس باعث انسان سے مانوس ہو جاتے ہیں۔ میرا خیال ہے آپ یقیناً اتفاق کریں گے۔ اخلاق کی اثر پذیری میں کوئی تقسیم، کوئی تفریق اور کسی قسم کا اسلام یا کفر کا بھی فرق نہیں۔ آگے بڑھتے ہوئے اس کی ایک مثال دیکھیے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تہذیب کے سودا گر

اگر یہ دو جذبے بیدار ہو جائیں،یعنی اپنی تہذیب کی حفاظت اور دینی حمیت اور ملی غیرت کا بھرپور مظاہرہ تو بلاشبہ ہم مغرب کے فرسودہ طرز تشہیر کو گندے انڈوں کی طرح اٹھا کر باہر گلی میں پھینک دیں

جب پردہ پوشی کی تشہیر پردہ دری کے ذریعے کی جائے، جب کفایت شعاری کا اشتہار خود ہوس کا سبق پڑھا رہا ہو، جب فلم اور شوبز کے سنسار سے تعلق رکھنے والوں کو ہیرو کے روپ میں لب بام لایا جا رہا ہو، جب غربت کدوں میں معیار زندگی کو بہتر کرنے کی آواز بلند کر کے قنوطیت کے بیج بوئے جا رہے ہوں اور جب عیاشی اور فحاشی کو دل لگی، زندگی اور زندہ دلی کا استعارہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہو… تو اس کا کیا مطلب ہو گا؟ یہ سوال آپ سے ہے۔ آپ جواب سوچیے! ہم ایک اور سوال پوچھتے ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

جو چاہو فائدہ اٹھا لو!

میں تمہارے پاس خدا کا مہان بن کے آیا۔ اب واپسی کے لیے پابہ رکاب ہوں۔ میں آیا ہوں ایسی آبادیوں پر جو عبرت کدے میں تبدیل ہو گئیں۔ ایسے گلستانوں پر جو خزاں کا لقمہ بن چکے۔ ایسے چشموں پر جن کے سوتے خشک ہو چکے۔ میں اترا ہوں ایسی بستی میں جس کے لوگ خود غرضی کا شکار ہیں۔ جس کے باسی باہم دست و گریباں ہیں۔ جس کے مکین ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوئے ہیں۔ جہاں منافقت کے ڈیرے ہیں۔ جہاں دکھلاوے کی عبادت ہے۔ جہاں شرافت کی موت ہے۔ جو روحانی مریضوں کی بستی ہے۔ جو معالجوں کو ترستی ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

روزہ صحت لاتا ہے

نفس و شیطان ہمیں روزوں سے محروم رکھنے کے لیے سو حیلے سکھاتے ہیں۔ ان میں سب سے بڑا بہانہ صحت کی خرابی ہے۔ حالانکہ جدید سائنس اور طب اس بات پر اتفاق کر چکی کہ روزہ سراسر صحت کا پیغام ہے۔ پھر روزہ ذاتی فیصلے سے چھوڑنا جائز بھی نہیں۔ انتہائی مہلک بیماری میں ماہر معالج کے کہنے پر اور ماہرین شریعت سے مشاورت کے بعد اس کی کسی قدر گنجائش ہوتی ہے۔ آپ درج ذیل طبی نکات پڑھیے اور عزم و ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے روزے رکھنے اور رکھوانے کا بھر پور اہتمام کیجیے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

سلامتی والا رمضان یہ 30دن کچھ خاص مقاصد کے لیے ہیں

آئیے مل کر غور کرتے ہیں
صرف اسی ماہ میں اللہ کی رحمتیں بطور خاص کیوں متوجہ ہوتی ہیں؟اس میں کئی ایک نئی عبادتوں اور ریاضتوں کا مطالبہ ہم سے کیوں ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم دوماہ قبل ہی اس مہینے کا انتظار کیوں فرمانے لگتے تھے؟ صرف اسی ماہ میں ہمارے سب سے بڑے دشمن ’’شیطان رجیم‘‘ کو پابند سلاسل کیوں کر دیا جاتا ہے؟ صرف انہی تیس دن میں جنت کے دروازے کیوں بند اور جنت کو بھر پور اہتمام کے ساتھ کیوں سجایا جاتا ہے؟

مزید پڑھیے۔۔۔