قناعت میں راحت

میں ایک طویل سفر پر تھا۔ راستے میں ایک تاجر دوست کے ہاں رات گزارنے کے لیے ٹھہرا۔ اس نے رات بھر مجھے سونے نہ دیا۔ اپنی تجارت کے قصے کہانیاں سناتا رہا۔ جب سب ایران توران کی سنا چکا تو آخر میں کہنے لگا: ’’میری تجارت پروان چڑھ گئی اور میری سب آرزوئیں پوری ہو گئیں۔ اب صرف ایک آخری سفر کرنے کا ارادہ ہے۔‘‘ شیخ سعدی رحمہ اللہ نے فرمایا:’’ اور وہ کیا؟‘‘ کہنے لگا: ’’میں یہاں سے

مزید پڑھیے۔۔۔

پورا تاجر، پورا مسلمان

’’کہاں جا رہے ہو؟‘‘ پانچ سو صحابہؓ کے تابعی امام شعبی نے اپنے سامنے آنے والے ایک بھلے مانس انسان سے پوچھا۔ ’’تجارت پیشہ ہوں، بازار جا رہا ہوں۔‘‘ نیک آدمی نے ایک ادا سے جواب دیا۔ آثار سعادت از جبینش ہویدا۔ امام شعبی نے ان کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا: ’’بھلے آدمی!کیا علما کی مجلس میں نہیں بیٹھتے ہو؟‘‘ عرض کیا: ’’نہیں!‘‘جلیل القدر امام شعبی نے فرمایا: ’’غفلت نہ کرو، تم علماء کی مجلس میں

مزید پڑھیے۔۔۔

اور کایا پلٹ گئی

پچھلی رات کو اس کی آنکھ اچانک کھلی۔ پہلی بار نہیں، کئی بار کے بعد ایک بار پھر۔ اس کی آنکھوں میں آنسو اتر آئے۔ ’’نہیں، نہیں! میں ہرگز کامیاب نہیں ہوں، میں دنیا کا ناکام ترین انسان ہوں۔‘‘ اس نے حسب معمول بڑبڑانا شروع کر دیا۔ وہ اٹھا۔ دروازے کو ایک ٹھڈا رسید کیا۔ اپنے عالی شان مکان سے یوں باہر کی طرف بھاگا جیسے وہ بھوت بنگلے سے نکلا جا رہا ہو۔ پھر وہ سڑک پر آیا۔ وہ چلاّ رہا تھا: ’’ہے کوئی جو مجھ سے میرا کاروبار، بنگلوں کی قطاریں، بینک بیلنس سب کچھ لے لے اور مجھے چند لمحے کا دلی سکون دے دے۔

مزید پڑھیے۔۔۔

قربانی۔ مالداروں پر عائد فریضہ

اِدھر چھری چلی، اُدھر ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ لوگوں نے بڑے میاں کو تعجب سے دیکھا۔ کئی سوالات ان کے دماغ پر ایک دم یلغار کر گئے۔ کیا ان کے دل میں گائے کی محبت گھر گئی تھی؟ کیا قربانی کو نظریاتی لحاظ سے گراں محسوس کر رہے تھے؟ کیا جانور پر خرچ شدہ مال اس لمحے ان کو ضائع ہوتا محسوس ہو رہا تھا؟سچ یہ ہے کہ ان میں سے کچھ بھی نہ تھا۔ شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمہ اللہ نے قربانی کے لیے ایک گائے پالی۔ اسے خوب کھلایا، پلایا۔ ہر روز عصر کے بعد اسے سیر کرانے لے جاتے۔ یوں قربانی کی اس گائے کے بارے میں ایک رحم کا جذبہ پیدا ہو گیا تھا۔

مزید پڑھیے۔۔۔

تعریف کرنا عادت بنائیے

عبدالرحمن!یہ کیسی خوشبو اور یہ کیسا زعفران؟‘‘ بن عوف ؓ کی حالت میں نمایاں تبدیلی دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دل لگی کے انداز میں پوچھا۔ حضرت عبد الرحمنؓ مسکرا دیے۔ عرض کیا: ’’یارسول اللہ!میں نے ایک انصاری عورت خاتون سے شادی کر لی ہے۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ’’اسے مہر میں کیا دیا؟‘‘ عرض کیا: ’’ایک گٹھلی کے برابر سونا دیا ہے۔‘‘ آپ علیہ السلام نے ان کی خوشی میں مزید اضافہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’اب اس خوشی میں ایک

مزید پڑھیے۔۔۔

ایک عید ایسی بھی

کالے خان پر ایک اور عید آئی ہے۔ کالے خان کا قصہ عجیب نہیںتو ’’ غریب‘‘ ضرور ہے۔ وہ آگ پر چل کر روزانہ صرف ڈھائی سو روپے کماتا ہے۔ وہ ایک بھٹہ خشت کا ملازم ہے۔ یہ تین نسلوں سے مقروض چلے آتے ہیں۔ ہر روزوہ اپنے پورے خاندان کے ہمراہ بھٹے پر پہنچتا ہے۔ بیگم گارا بناتی ہے۔ بیٹی دستی ریڑھی سے گارا ڈھونے والیوں میں شامل ہوجاتی ہے۔ ایک بچہ قریب بیٹھا چلّاتا رہتا ہے۔ کام کے دوران دودھ پیتے بچے کی چیخ سنائی دے جاتی ہے تو ماں کے لیے کام کو روک کر جانا مشکل ہو جاتا ہے۔ خود کالے خان بھٹے کی راہداریوں میں گھوم کر پکی ہوئی اینٹوں کو ترتیب لگاتا ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔