ایک مسکراہٹ کا اضافہ

اگر ہم اپنے روز مرہ معاملات اور معمولات میں صرف ایک مسکراہٹ کااضافہ کرلیں تو’’ سنت، تجارت، سہولت اور برکت‘‘ کا ایک امتزاج سامنے آئے گا۔٭خادم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت انس رضی اللہ عنہ اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہیں: ’’آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف دنیاوی مفاد کی خاطر آتا تھا، مگر شام ہونے سے پہلے پہلے اسے دین اسلام دنیا وما فیہا

مزید پڑھیے۔۔۔

نام لے کرپکارو!

آپ جس گاہک کا نام لے کر پکاریں گے، وہ کبھی دوسری دکان پر نہیں جائے گامحبت کا ایک احساس دلادینا کیسی مضبوط تاثیری قوت رکھتا ہے؟اس کی اہمیت سے کوئی بھی ناآشنا نہیں ہو سکتا۔ آپ یہ خوشگوار احساس ہر دوسرے شخص کو دلا سکتے ہیں ۔ جس پر آپ کا کوئی خرچ بھی اٹھنے والا نہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

میرا طرز گفتگو کیسا ہو؟

نرم الفاظ، میٹھا اسلوب،مناسب تعبیر اور موقع شناسی آپ کی کلام کو سِحر بنادے گی۔ آپ بولیں گے تو رس گھولیں گے۔ یوں آپ کی زندگی آسان، مسائل حل اور معاملات خوشگوار ہوتے چلے جائیں گے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس کی سرعتِ استدلال، قوتِ بیان اور زبان کی مہارت دیکھی تو فرمایا: ’’بے شک، بعض بیان جادو اثر ہوتے ہیں،بے شک بعض بیان جادواثر

مزید پڑھیے۔۔۔

اسے اپنی زندگی کا اصول بنا لیجیے!

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پوری زمین سے ایک مٹھی میں مٹی لے کر بنایا ہے۔ اسی لیے ان میں کوئی سرخ ہے، کوئی سفید اور کوئی کالا، کوئی نرم ہے، کوئی سخت، کوئی خراب، کوئی اچھا٭حضرت عمرؓنے فرمایا: ’’خدا کے بندے! وہ میری بیوی ہے، میری زندگی کی ساتھی ہے، میرے لیے کھانا پکاتی ہے، میرے کپڑے دھوتی ہے، تو کیا میں اس کی بعض ناگوار باتوں کو برداشت نہکروں‘‘؟

مزید پڑھیے۔۔۔

اگرآپ کو خیالات پریشان کرتے ہیں

یہ بھی اب گویا ہماری زندگی کا حصہ بن چکا ہے کہ ہر وقت تفکرات کا ایک تانتا بندھا رہتا ہے۔ کاروباری الجھنیں، حساباتی گھن چکر اور پارٹنرز کی ہیراپھیریاں وغیرہ ہمارا دماغ چاٹ کھاتی ہیں جب تک انسان اپنے دل، اپنی زبان اور اپنے عمل سے مؤمن ہے، اسے مطمئن رہنا چاہیے۔ یہ خیالات اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے٭… دل جوپریشان سا رہتا ہے یہ دراصل دل کو اس کی غذا نہ ملنے کی

مزید پڑھیے۔۔۔

نرمی ہے ناگزیر

ایسا کیوں ہے کہ ہم جیسا سلوک اپنے لیے پسند کرتے ہیں، ویسا برتاؤ دوسروں کے ساتھ روا نہیں رکھتے؟ ایسا کیوں ہے کہ کبھی ہم اپنے راستے میں بے شمار پتھر اکٹھے کر لیتے ہیں، پھر ان رکاوٹوں کا رونا بھی رونے لگتے ہیں؟ ایسا کیوں ہے کہ ہم شریعت، نصیحت اور وعظ کے ایسے حصے پر بھی عمل نہیں کرتے جس میں خرچ کچھ بھی نہیں اور منافع بے حساب ہیں؟ ان سوالوں کا جواب آپ

مزید پڑھیے۔۔۔