خالد کو ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی دس لاکھ روپے ملے۔ یہ رقم اس کی زندگی بھر کی جمع پونجی ہے۔ اسی پر باقی زندگی کا گزر بسر ہے۔ وہ اپنے دوست سے مشورہ کرتا ہے۔ اس کا دوست اسے کہتا ہے: اسے کسی بینک کے ٹرم ڈپاز ٹ میں رکھوا دو، ماہانہ اتنا نفع آتا رہے گا۔ تم آرام سے گزارا کرو گے۔ خالد کو یہ بات پسند آتی ہے، لیکن بینک میں رکھوانے سے پہلے اس نے اس معاملے میں اپنی مسجد کے امام صاحب سے مشورہ کیا۔


٭…سنن ابن ماجہ شریف کی روایت ہے: ’’صدقہ کا بدلہ اللہ تعالی نے 10 گنا اور قرض کا بدلہ 18گنا لکھا ہوا ہے‘‘ ٭… آپ کے پاس بچت کی رقم موجود ہے، آپ اسے قرض دیتے ہیں کہ آپ اپنے کاروبار میں لگا لیں، اس پر مقررہ فیصد سے نفع دیتے رہیں۔ یہ وہ صورت ہے جس کی شریعت قرض کے معاہدے میں اجازت نہیں دیتی

امام صاحب نے کہا: ’’بھائی یہ تو سودی معاملہ ہوجائے گا، سود تو اسلام میں بہت بڑا گناہ ہے۔ تم ایسا نہ کرو۔‘‘ خالد کے ذہن میں سوالات اٹھے۔ اس نے سوچاٹھیک ہے، میں مان لیتا ہوں کہ اسلام میں یہ معاملہ ناجائز ہے، میں یہ معاملہ نہیں کرتا لیکن:
1 میں یہ رقم جسے دوں گا وہ بھی تو اس سے کمائے گا، اس کمائی میں سے کچھ مجھے دے دے گا تو اس میں کیا مضائقہ ہے؟
2 میں کسی کو رقم دوں، میری رقم سے وہ کمائے، مزہ اڑائے لیکن مجھے اس پر اضافہ لینے سے کیوں روکا جارہا ہے؟ یہ تو میرے ساتھ ظلم ہے۔

یہ کشمکش صر ف خالد ہی نہیں بلکہ آج ہمارے معاشرے میں ہر دوسرے شخص کے ذہن کی آواز ہے۔ ہم میں سے کچھ تو علما سے پوچھ لیتے ہیں۔ کچھ اپنے عقیدے کے پختہ ہیں تو بس مان لیتے ہیں کہ معاملہ ناجائز ہے اورچھوڑدینا چاہیے۔ لیکن ایک جماعت مسلمانوں کی ایسی بھی ہے جو کہتی ہے: جب تک لوجک سمجھ نہیں آئے گی، ہم نہیں مانیں گے۔ اگرچہ یہ مطالبہ ایک مسلمان کو زیب نہیں دیتا، تاہم پھر بھی علمائے کرام نے احکامِ اسلام کی تشریح کے لیے ایسی محنت کی ہے کہ تمام مسائل کی لوجک بھی بیان فرمادی ہے۔یہ سوالات اسلام کے قرض کے بارے میں بنیادی تصور کے واضح نہ ہونے کی وجہ سے ہیں۔ آئیے! اس مضمون میں ہم اسلام کے قرض کے بارے میں تصور کو سمجھتے ہیں، اسے سمجھ لینے کے بعد ان شاء اللہ ہمارے ذہنوں کی الجھن دور ہوجائے گی۔

قرض کیا ہے؟
پہلا سوال تو یہ کہ قرض کیا ہے؟ قرض کہتے ہیں: ’’کسی چیز کواس شرط پر دینا کہ اس کی مثل متعین مدت کے بعد واپس کرے گا۔‘‘ قرض ان چیزوںمیںہوتا ہے جنہیں استعمال کرکے ختم کردیا جائے، جیسے پیسے،کھانے پینے کی اشیا وغیرہ۔ ایسی اشیا جو استعمال کے ساتھ فائدہ پہنچا سکتی ہوں لیکن ختم نہ ہوتی ہوں، جیسے: گھر، گاڑی، مشین وغیرہ انہیں اگر استعمال کے لیے دیا جائے تو اسے فقہ کی زبان میں ’’عاریت‘‘ کہتے ہیں، جس کا مطلب ہے: استعمال کے لیے مفت میں دے دینا۔ قرض کیوں دیا جاتا ہے؟
پہلا سوال آپ سے یہ ہے کہ آپ کسی کو قرض کیوں دے رہے ہیں؟ اسی سوال سے یہ بات واضح ہو جائے گی کہ آپ اس پر اضافہ کا مطالبہ کرسکتے ہیں یا نہیں؟
قرض دینے کے تین مقصد ہو سکتے ہیں:


1خیرخواہی
آپ کے دوست کے ساتھ کاروبار میں فراڈ ہوگیا۔ اسے کئی لاکھ روپے کا نقصان ہوگیا۔ اب اسے اپنے ملازمین کی ادائیگیاں بھی کرنی ہیں۔ اسے اپنے گھر کا گزارا بھی کرنا ہے۔ ساتھ ہی اپنے کاروبار کو جاری رکھنے کے لیے بھی فوراً رقم کی ضرورت ہے۔ وہ دوست آپ کے پاس آتا ہے، اپنے حالات بیان کرتا ہے۔ اس صورت حال میں آپ کے پاس دو آپشن ہیں: اس کی امداد کی جائے، یعنی گفٹ کی صورت میں جس کا واپسی مطالبہ نہ ہویا پھر اسے قرضہ دے دیا جائے۔ پہلی صورت شاید اس کے لیے بھی قابل قبول نہ ہو۔ عزت کا راستہ اس کے لیے یہ ہے کہ آپ اس کو قرضہ دے دیں اور جیسے ہی اس کے حالات بہتر ہوں، وہ واپس کردے۔

اس تمام صورت حال میں آپ کی نیت صرف ایک قریبی دوست کی مدد کرنا ہے۔ آخرت کے ثواب اور اچھی معاشرت نبھانے کے لیے آپ اس کی مدد کے لیے تیار ہیں۔اس وقت آپ کے دل میں اس کے لیے ایک خیرخواہی ہے، آپ کے دل میں کوئی کاروباری مقصد نہیں ہے۔

2 سرمائے کی حفاظت
آپ کا گھر ایک پر خطر علاقے میںہے۔ علاقے میں ڈکیتی کا ہونا معمول ہے۔ آپ کو ادارے کی جانب سے بیٹی کی شادی پر امداد کے طور پر5لاکھ روپے ملتے ہیں۔ اب یہ رقم اگر آپ گھر لے جاتے ہیں تو اس مال کی حفاظت مشکل ہے۔ آپ کا ایک دوست ایک کالونی میں رہتا ہے۔ یہ کالونی چار دیواری میں ہے، سیکورٹی کے بہترین انتظامات ہیں۔آپ سوچتے ہیں کہ کیوں نا اس کے پاس یہ رقم رکھوادی جائے۔جوں جوں ضرورت ہوگی، وہیں سے ادائیگیاں کرتے رہیں۔ آپ نے وہ رقم اپنے دوست کو دے دی کہ جیسے جیسے ضرورت پڑے گی، لیتا رہوں گا۔ دوست کہتا ہے: ٹھیک ہے یہ رقم مجھے دے دو۔ یہ رقم میرے ذمہ قرض ہوئی، آپ کو جب ضرورت ہو مجھ سے لے لینا۔

3 نفع کمانا
آپ خود ملازمت پیشہ ہیں۔ بچت شدہ رقم کو آپ نفع کمانے کے لیے لگانا چاہتے ہیں۔آپ کے دوست کا کمبل کا کاروبار ہے، سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی کمبلوں کی طلب میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ وہ آپ کے پاس آتا ہے، آپ سے قرض مانگتا ہے۔ وہ آپ کو آپ کے سرمائے پر 10فیصد تک نفع کی آفر کرتا ہے۔ آپ تیار ہو جاتے ہیں کہ چلو 10 فیصد تو کمائی ہوگی۔ یہاں آپ کا مقصد نفع کمانا ہے۔

عموماً ان تین مقاصد کے لیے قرض کا لین دین کیا جاتا ہے۔ آئیے! شرعی ہدایات کی روشنی میں ان کا جائزہ لیتے ہیں۔
قرض دینا ،ایک نیک عمل
قرآن پاک میں اللہ تعالی فرماتا ہے:
’’اچھے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو‘‘ مسند امام احمد کی ایک روایت کا مفہوم ہے: ’’قرض دینے والے کے لیے قرض کی پوری مدت میں روزانہ ایک صدقہ کا ثواب لکھا جاتا ہے۔ اگر مقروض مہلت مانگے اور یہ مہلت دے دے تو اب ہر دن دو صدقوں کا ثواب ملتا ہے۔‘‘ (جلد:1،صفحہ:327)

صحیح مسلم شریف کی روایت ہے: ’’جو کسی مسلمان کی پریشانی دور کرے گا، اللہ تعالی قیامت کے دن اس کی پریشانی دور فرمائے گا۔ اللہ تعالی اس بندے کی ضروریات پوری کرنے میں لگا رہتا ہے جو کسی مسلمان کی ضرورت کو پورا کرنے میں لگا رہتا ہے۔‘‘

سنن ابن ماجہ شریف کی روایت ہے: ’’صدقہ کا بدلہ اللہ تعالی نے 10 گنا اور قرض کا بدلہ 18گنا لکھا ہوا ہے۔‘‘ ان قرآنی آیت و احادیث سے قرض دینے کی فضیلت معلوم ہوتی ہے۔ اسی لیے مسلمانوں میں ہمیشہ قرض کے لین دین کا رواج رہا۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں قرض لینے کے واقعات ملتے ہیں۔ان قرضوں کا مقصد صرف ایک مسلمان کی ضرورت پوری کرنا ہوتا تھا، کوئی دنیاوی مقصد حاصل کرنا اس میں پیش نظر نہیں ہوتا تھا۔ آج یہ مقصد ہماری نظروںسے اوجھل ہوتا جارہا ہے۔ ہماری نظر صرف پیسے سے پیسہ کمانے کی تو ہے، اس پیسے سے آخرت کمانے کی سوچ کم ہوتی جارہی ہے۔ ہم اپنے مال میں سے صدقہ، خیرات کرکے آخرت کما سکتے ہیں۔اسی طرح ہم اپنے مال میں سے عزت دار ضرورت مندوں کو قرض دے کر بھی آخرت کما سکتے ہیں۔

قرض دینا:مال کی حفاظت کے لیے
قرض دینے کا ایک مقصد مال کی حفاظت بھی ہوسکتا ہے۔ مسلمانوں کی تاریخ میں بھی اس کی مثالیںملتی ہیں۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ ایک مالدار صحابی تھے۔ لوگ ان کے پاس اپنا مال رکھواتے تو یہ فرماتے: ’’یہ امانت نہیں قرض ہے۔‘‘جو کہ رکھوانے والے کے لیے زیادہ اطمینان کا باعث ہوتا تھا۔ موجودہ دور میں بھی بینکوں کے کرنٹ اکاؤنٹ کا مقصد مال کی حفاظت ہی ہے۔ قرض کا لین دین اس مقصد کے لیے بھی جائز ہے۔

نفع کمانے کے لیے قرض دینا
تیسری صورت جب قرض کا مقصد نفع کمانا ہے۔ آپ کے دوست کو اپنا کاروبارپھیلانے کے لیے پیسوں کی ضرورت ہے۔ آپ کے پاس بچت کی ہوئی رقم موجود ہے، آپ اسے قرض دیتے ہیں کہ آپ اپنے کاروبار میں لگا لیں، اس پر مقررہ فیصد سے نفع دیتے رہیں۔ یہ وہ صورت ہے جس کی شریعت قرض کے معاہدے میں اجازت نہیں دیتی، آپ قرض کے معاہدے سے نفع نہیںکما سکتے، اس صورت کو شریعت سود میں شمار کرتی ہے۔یہی صورت آج کل ہمارے معاشی نظام میں سب سے زیادہ رائج ہے۔

سرمایہ کاری کس طرح کی جائے؟
اس موضوع پر پہلے ایک مضمون میں تفصیل سے گفتگو ہو چکی ہے ۔ جب قرض کی بنیاد پر سرمایہ کاری نہیں ہو سکتی تو پھر اسلام ہمیں کیا راہ دیتا ہے۔ جس میں شرکت و مضاربت، وکالت، تجارت و باہمی امداد کی بنیادیں اور مواقع موجود ہیں، جن کی بنیادپر ہم اپنا زائد سرمایہ لگا کر حلال نفع لے سکتے ہیں۔
اب یہ سوال کہ قرض پر نفع کمانے کی ممانعت کیوںہے؟ اس پر مختصر گفتگو اگلے ہفتے ملاحظہ فرمائیے۔
(باقی آئندہ)