سورۃ البقرہ کی آیت276 میں اللہ تعالی نے سودی معاملات اور صدقات کے بارے میں راہ متعین کی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:{ یَمْحَقُ اللَّہُ الرِّبَا وَیُرْبِی الصَّدَقَاتِ، وَاللَّہُ لا یُحِبُّ کُلَّ کَفَّارٍ أَثیمٍ۔} ’’اﷲ تعالی سود کو مٹاتا اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ اﷲ پاک ہر اس شخص کو ناپسند کرتا ہے جو ناشکرا اور گنہگار ہو۔‘‘ (2:276)

 سود جس کے لغوی معنی ہی بڑھنے (Excess)کے ہیں اور بظاہر گنتی میں سود بڑھتا ہوا نظر آتا ہے، لیکن اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ سود کومیں گھٹاتا ہوں اور دوسری جانب صدقات میں مال خرچ ہوتا ہوا اور کم ہوتا ہوا نظر آتا ہے، لیکن اللہ تعالی اس کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ اسے میں بڑھاتا ہوں۔

یہ بظاہر الٹ منطق(Logic) لگتی ہے کہ سود سے مال بڑھتا ہوا نظر آتا ہے، جبکہ صدقات سے کم ہوتا ہو ا نظر آتا ہے، لیکن اللہ تعالی جو کہ حاکم مطلق ہیں، ان کا اعلان اس کے برخلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد غلط نہیں ہوسکتا، ہماری نظر میں قصور ہوسکتا ہے۔ لہذا ایسا نہیں ہوسکتا کہ سود سے مال میں اضافہ ہوجائے یا صدقات سے مال میں کمی واقع ہوجائے۔ آئیے! جدید معاشی نظریات کی روشنی میں اس مسئلے کو حل کرتے ہیں۔


اللہ تعالیٰ کے فرمان:’’اللہ تعالیٰ صدقات کو بڑھاتا ہے‘‘ اس طرح سچا ہوتا نظر آتا ہے کہ معیشت میں جتنے زیادہ صدقات ہوں گے، اتنا ہی زیادہ معاشی نمو میں اضافہ ہوگا۔ جب کلی طور پر معیشت ترقی کرے گی تو اجزا و افراد پر بھی اس کے اثر ات پڑیں گے۔ روزگار کے مواقع (Employment Opportunities) میں اضافہ ہوگا۔

1930کی دہائی میں عالمی کساد بازاری(Great Depression) نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اس کساد بازاری کے حل کے لیے مختلف معیشت دانوں نے کام کیا،جن میں’’جان لارڈ کینز‘‘کے کام کو زیادہ پذیرائی ملی۔ اس کے حل کا لب لباب یہ تھا کہ اگر ہم معیشت سے کسادبازاری ختم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں صارفین(Consumers)کی طلب(Demand)کو بڑھانا ہوگا۔اس کے لیے حکومتی منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا گیا،جس کے نتیجے میں معیشت کو کنٹرول کرنے کی مالیاتی پالیسی (Fiscal Policy)اور زری پالیسی(Monetary Policy)کے نام سے باقاعدہ پالیسیاں بنائی جانے لگیںاور جب بھی معیشت میں کساد بازاری آتی ہے تو حکومتیں مختلف طریقوں سے صارفین کی طلب بڑھاتی ہے، جس کے نتیجے میں رسد (Supply) میں اضافہ ہوتا ہے اور معیشت کا پہیہ چلنے لگتاہے۔ ایسا ہی ماضی قریب میں امریکی حکومت نے معاشی بحران (Economic Crisis) سے نکلنے کے لیے کیا تھا۔

اسلام نے صدقات کی اہمیت پر زور دیا ہے ۔ قرآنی آیات اوراحادیث کا ذخیرہ اس پر شاہد ہے۔

درحقیقت صدقات کا عمل(Function) معیشت میں وہی ہے جس پر’’کینز‘‘ معیشت کوکساد بازاری سے نکالنے کے لیے زوردیتا ہے،بلکہ مختلف اعتبارات سے صدقات معیشت کو کساد بازاری سے بچاتے اورکساد بازاری سے تیزی سے نکالتے ہیں۔ حکومتی پالیسیوں میں صارفین کی طلب بڑھانے کے لیے عموماً ملک کے سرمایہ دار(Capitalist) طبقے کو مراعات(Incentives) فراہم کی جاتی ہیں جن سے ان کی جانب سے اشیا کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے اور نتیجتاً معیشت کا پہیہ چل پڑتا ہے۔ اس طریقے سے عموما اشیائے سرمایہ(Capital Goods) کی طلب میں اوّلًا اضافہ ہوتا ہے۔پھر اشیائے صرف (Consumption Goods) …جو حقیقتاً اشیائے ضرورت ہیں…کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے۔نتیجتاً معاشی نمو(Economic Growth)میں تبدیلی، غربت میں کمی (Poverty alleviation) نسبتاسست ہوتی ہے، جبکہ صدقات کے ذریعے ملک کے غریب طبقے کی براہ راست مدد ہوتی ہے جس سے غربت پر فورا مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ پھر اشیا کی طلب میں اضافے کے ساتھ معیشت میں نمو کے عمل پر اس کے مثبت اثرات پڑتے ہیں۔ اس طریقے سے اشیا صرف (Consumption Goods)کی طلب میں فوراً اضافہ ہوتا ہے،پھر اشیائے سرمایہ کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے فرمان:’’اللہ تعالیٰ صدقات کو بڑھاتا ہے‘‘ اس طرح سچا ہوتا نظر آتا ہے کہ معیشت میں جتنے زیادہ صدقات ہوں گے، اتنا ہی زیادہ معاشی نمو میں اضافہ ہوگا۔ جب کلی طور پر معیشت ترقی کرے گی تو اجزا و افراد پر بھی اس کے اثر ات پڑیں گے۔ روزگار کے مواقع (Employment Opportunities) میں اضافہ ہوگا۔ اشیا کی طلب میں اضافے سے اشیا کی اچھی قیمتیں (Fair Prices)ملیں گی۔ مارکیٹ کے حجم(Market Volume) میں اضافہ ہوگا۔ پیمانہ پیداوار(Production Scale) میں اضافہ کے باعث تاجروں کو جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے کفایتیں(Economies) ہوں گی، جس سے خود صدقہ کرنے والا شخص بھی مستفید ہوگا۔ اس طرح صدقات ایک مسلمان معاشرے کی معاشی ترقی اوراس کے پھلنے پھولنے کا باعث بنیں گے۔

دوسری جانب معاشی قانون ہے کہ ’’شرح سود جتنی زیادہ ہوگی سرمایہ کاری(Investment) اتنی کم ہوگی‘‘اور یہ بات بھی معاشی مسلّمات میں سے ہے کہ ’’معاشی نموپرسرمایہ کاری کا براہ راست اثر (Directly proportional) پڑتا ہے۔‘‘ جس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ شرح سود کے بڑھنے کے ساتھ ہی سرمایہ کاری کم ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں عمل پیداوار میں کمی واقع ہوتی ہے اور معیشت کا پہیہ رکنا شروع ہوجاتا ہے۔ جس کو معاشی کساد بازاری (Recession)کہاجاتا ہے۔ جب معیشت میں کساد بازاری آتی ہے تو جس طرح کلی (Macro) طور پرمعیشت متاثر ہوتی ہے اسی طرح معیشت کے عمل کاروں(Economic Agents) پربھی اس کے اثرات پڑتے ہیں جو افراط زر(Inflation)، بے روز گاری(Unemployment) اور عمل پیداوار میں کمی (Reduction in output) کی صورت میں منتج ہوتے ہیں۔

اس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان:’’اللہ سود کو گھٹاتا ہے‘‘ سچا ہوتا نظر آتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اللہ کے فرامین کو نہ صرف نظریاتی طور پر سچا مانیں،بلکہ عملی (Practical) طور پر ایک مسلمان کی طرح احکامات پر عمل کریںاوراپنی آمدنی میں سے ایک حصہ (Certain proportion)صدقات کے لیے مقرر کریں۔ نیز سود جیسی لعنت سے نہ صرف خود بچیں، بلکہ ایک ایسے نظام کو نافذ کرنے کی کوشش کریں جو سود سے پاک ہو۔ یاد رکھیں! ایسے معاشی نظام کے لیے کوشش کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔کل قیامت کے دن ہم سے باز پرس ہوگی۔