’’تم اس مارکیٹ کے نہیں ہو، میں تمہیں ادھار مال دے سکتا ہوں، لیکن مارکیٹ کا کوئی تاجر ایسا ہو جس سے میں تمہارا قرض وصول کرتا رہوں گا۔‘‘ فہیم اپنے بزنس کو پھیلانے کے لیے نئے سپلائر مزمل سے ملا۔ اس نے اسے ادھار مال سپلائی کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی، لیکن وہ یہ چاہتا ہے کہ اس ادھار کے مطالبے کے لیے بار بار فہیم سے رابطہ نہ کرنا پڑے، بلکہ اسی مارکیٹ کا کوئی تاجر فہیم کا ادھار اسے دیتا رہے۔


٭… مختلف احادیث میں اس بات کی ترغیب ملتی ہے کہ اگر کوئی تمہیں کسی مالدار کی طرف حوالہ کر دے تو تم اب اس مالدار سے اپنے قرض کا مطالبہ کرو۔ یعنی ’’حوالہ‘‘ کو قبول کر لو

فہیم کے ذہن میں آیا کہ اسی مارکیٹ کے ایک دکان دار ’’محمود‘‘ کو وہ تیار مال سپلائی کرتا ہے اور اس کے ساتھ بھی فہیم کا معاملہ ادھار کا چلتا ہے۔ کیوں نہ میں محمود کا مزمل سے سامنا کروا دوں؟ اس طرح مجھے محمود سے پیمنٹ لینے کے لیے یہاں آنا پڑتا ہے، وہ بھی بچت ہو جائے گی اور مزمل کا مطالبہ بھی پورا ہو جائے گا! محمود کو جو پیمنٹ مجھے دینی ہوتی ہے وہ مزمل کو دیتا رہے گا۔ اس طرح بزنس اچھے انداز میں چلتا رہے گا۔ فہیم مزمل سے کہتا ہے ’’میرا ایک جاننے والا دکاندار ہے محمود، جس کی دکان اسی مارکیٹ میں ہے۔ میں اس سے بات کر لیتا ہوں۔ آپ اس سے وقت مقررہ پر میرا ادھار لیتے رہنا۔‘‘ مزمل کہتا ہے: ’’ہاں! وہ تو میرا قریبی دوست ہے۔ اگر تم اس سے میرا سامنا کروا دو تو میں تمہیں ادھار مال دیتا رہوں گا۔‘‘

فہیم، محمود سے رابطہ کرتا ہے۔ فہیم مزمل اور محمود تینوں جمع ہوتے ہیں اور تینوں کا معاہدہ طے ہو جاتا ہے کہ فہیم کے ذمہ جو بھی قرض ہو گا، مزمل، محمود سے وصول کرتا رہے گا۔
اس قسم کے معاملات ہماری مارکیٹوں میں ہوتے ہیں۔ ایک کا قرض کوئی اور ادا کر رہا ہوتا ہے اور اصل قرض دار سے مطالبہ نہیں کیا جا رہا ہوتا۔ یہ معاہدہ شریعت میں ’’حوالہ‘‘ کہلاتا ہے۔ آئیے! دیکھتے ہیں کہ شریعت ہمیں اس سلسلے میں کیا تعلیمات دیتی ہے؟ تاکہ ہم اپنے معاملات کو شریعت کے مطابق کر کے دنیا و آخرت کی بھلائیاں سمیٹ سکیں۔ حوالہ کیا ہے؟

حوالہ کے ڈکشنری میں معنی ہیں: ’’منتقل کرنـا‘‘ اسی سے لفظ تحویل ہے، جو ہم اپنے روز مرہ کے الفاظ میں استعمال کرتے ہیں۔

فقہ کی زبان میں ’’حوالہ‘‘ ایک ایسا معاہدہ ہے جس میں قرضہ ایک کے ذمہ سے منتقل ہو کر دوسرے کے ذمہ میں چلا جاتا ہے۔‘‘

حوالہ حدیث میں
مختلف احادیث میں اس بات کی ترغیب ملتی ہے کہ اگر کوئی تمہیں کسی مالدار کی طرف حوالہ کر دے تو تم اب اس مالدار سے اپنے قرض کا مطالبہ کرو۔ یعنی ’’حوالہ‘‘ کو قبول کر لو۔

حوالہ کی ضرورت
حوالہ کے معاملے کی ہماری زندگی میں عام ضرورت پڑتی ہے۔ ایک اجنبی شخص کو قرض کی ضرورت ہے۔ قرض دینے والا اپنے قرض کی واپسی کو یقینی بنانے کے لیے مقروض سے یہ کہہ سکتا ہے کہ تم کسی قابل بھروسہ شخص کو سامنے کر دو۔ میں اس سے اپنے قرض کا مطالبہ کر سکوں۔ پھر تم جانو وہ شخص جانے۔ بعض اوقات ہم ایک شخص سے قرض لے رہے ہیں، لیکن کچھ لوگ وہ بھی ہیں جن کو ہمیں ادائیگی کرنی ہے۔ ایسی صورت حال میں سہولت اس میں ہے کہ جس سے ہمیں قرض وصول کرنا ہے، اسے ہم اپنے قرض خواہ سے ڈائریکٹ کر دیں۔ اب یہ معاملہ ’’حوالہ‘‘ کے ذریعے بہت بہتر انداز میں ہو سکتا ہے۔

حوالہ کا حکم
جب عقل و شعور رکھنے والے افراد کے درمیان حوالہ کا معاملہ ہو جائے تو اب مقروض درمیان سے نکل جاتا ہے۔ اس سے اب قرض کا مطالبہ نہیںکیا جا سکتا بلکہ وہ شخص جس کی طرف قرض منتقل ہوا ہے، وہی قرض کی ادائیگی کا ذمہ دار ہو جاتا ہے۔

اصل مقروض سے صرف اسی صورت میں مطالبہ کیا جا سکتا ہے جب اس دوسرے شخص سے ادائیگی ممکن نہ ہو۔ اس کی تین صورتیں ہو سکتی ہیں۔

ایک صورت تو یہ ہے کہ وہ شخص جس کی طرف قرض منتقل ہوا تھا، وہ حوالہ کے معاملہ سے انکار کر دے اور اس قرض خواہ کے پاس گواہ بھی نہیں ہیں کہ عدالت کے ذریعے اپنا حق وصول کر سکے۔ دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ وہ شخص جس کی طرف قرض منتقل ہوا تھا، اسے عدالت نے ڈیفالٹر قرار دے کر اس کے تمام قرض خواہوں کو اس سے قرض کے مطالبے سے روک دیا ہو۔

تیسری صورت یہ ممکن ہے کہ وہ شخص جس کی طرف قرض منتقل ہوا تھا وہ بالکل غریب ہو کر اس دنیا سے چلا گیا۔ اس کے ترکہ میں اتنا مال نہیں کہ اب اس سے قرض کی وصول یابی کی جا سکے۔ ان تینوں صورتوں میں قرض خواہ اصل مقروض سے قرض وصول کرے گا۔

حوالہ کی صورتیں
حوالہ کی دو صورتیں ہیں:
مشروط حوالہ
مشروط حوالہ وہ ہے جس میں وہ شخص جس کی طرف قرض منتقل ہو رہا ہے، وہ مقروض کے کسی ’’قرض‘‘ کو اس حوالہ کی بنیاد بناتا ہے۔ جیسے محمود کہتا ہے کہ چونکہ مجھے فہیم کا قرضہ دینا ہے چلو وہ میں مزمل کو دے دوں گا۔ تو یہاں محمود نے حوالہ کی بنیاد اس قرض کو بنایا ہے جو محمود نے فہیم کو دینا تھا۔

ایسی صورت میں محمود زیادہ سے زیادہ اتنی ہی رقم ادا کرنے کا پابند ہو گا جتنی اسے فہیم کو ادا کرنی تھی۔ اگر کسی بھی وجہ سے اس پر سے فہیم کا قرض ختم ہو گیا، تو وہ مزمل کو قرض ادا کرنے کا پابند نہیں رہے گا۔

غیر مشروط حوالہ
ایسی صورت جس میں وہ شخص جس کی طرف قرض منتقل ہو رہا ہے، وہ مقروض کے کسی قرض کی بنیاد پر عقدِ حوالہ نہ کر رہا ہو۔ جیسے محمود، فہیم کا قرض اپنے ذمہ لے رہا ہے جبکہ محمود اس کی بنیاد کسی قرضے کو نہیں بناتا جو اسے فہیم کو ادا کرنا ہو، تو یہ غیر مشروط حوالہ ہو جائے گا۔ اس صورت میں بہرحال محمود کو فہیم کا قرضہ ادا کرنا ہو گا۔

حوالہ کس چیز کا ہو سکتا ہے؟
حوالہ صرف قرضوں کا ہو سکتا ہے، جیسا کہ مثالوں میں ذکر ہوا ہے۔ حقوق (Rights) یا اشیا کا حوالہ نہیں ہو سکتا۔ جیسے کوئی کہے کہ اس پارکنگ پلازہ میں مجھے گاڑی پارک کرنے کا حق ہے، یہ میں تمہاری طرف منتقل کرتا ہوں، یہ حوالہ نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح کسی چیز، گاڑی وغیرہ کا حوالہ بھی ممکن نہیں۔ جدید معاملات میں حوالہ کی چند مثالیں

چیک
کاروبار میں چیک کا استعمال عام ہے۔ ہم چیک لکھ کر دے دیتے ہیں۔ اس چیک کی حقیقت حوالہ ہی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جس بینک کے ساتھ میرا اکاؤنٹ ہے، اس بینک کے ذمہ میرے پیسے قرض ہیں۔ یہ قرض میرے مطالبے پر بینک ادا کرے گا۔ میں کسی کے نام چیک لکھ کر بینک سے حوالہ کا معاملہ کرتا ہوں کہ یہ قرض تم بجائے مجھے اس چیک ہولڈر کو دے دو۔ اکاؤنٹ کھلوانے کے ساتھ ہی بینک اس بات پر راضی ہو جاتا ہے اور میرا چیک وصول کرنے کے ساتھ ہی میرا قرض خواہ بھی اس پر راضی ہو جاتا ہے۔ اس طرح ایک حوالہ کا معاملہ طے پا جاتا ہے۔

بل آف ایکسچینج
ہمارے مالیاتی نظام میں بل آف ایکسچینج کا بھی کاروبار ہو رہا ہوتا ہے۔ بل آف ایکسچینج کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص / ادارہ، دوسرے شخص کو مخصوص رقم کی، متعینہ تاریخ کو ادائیگی کا حکم لکھ کر دے رہا ہوتا ہے۔ اس کی عام مثال یہ ہے کہ احمد کا گارمنٹس کا کاروبار ہے۔ اس نے آرڈر تیار کر کے حامد کو بھیج دیا، ساتھ ہی ایک بل بنا کر بھیج دیا۔ مزید اس نے رقم کی ادائیگی کا آرڈر ایک الگ قانونی کاغذ پر فیاض کے نام لکھ دیا۔ اس پر احمد نے دستخط اور مہر لگا دی۔ جب یہ کاغذ حامد کے پاس پہنچتا ہے، وہ بھی اس پر دستخط کر دیتا ہے اور مہر لگا دیتا ہے۔ یہ ایک بل آف ایکسچینج تیار ہو گیا۔ اس بل کے نتیجے میں بھی حقیقت میں حوالہ کا معاملہ ہوا کہ حامد کو جو قرض احمد کو ادا کرنا تھا وہ فیاض کی طرف منتقل کر دیا۔ مروجہ مالیاتی نظام میں بل آف ایکسچینج کا استعمال ہوتا ہے۔

بینک ڈرافٹ / پے آرڈر
عموماً رقوم کی یقینی منتقلی کے لیے یہ دو دستاویزات بھی بنوائی جا رہی ہوتی ہیں۔ ان کے بنوانے کے لیے بینک رقم وصول کر لیتا ہے اور اس کی ادائیگی بجائے آپ کے اس شخص کو کرتا ہے، جس کے نام پر یہ بینک ڈرافٹ یا پے آرڈر بنوایا جاتا ہے۔ اس کو اس طرح سمجھیں جیسے آپ کو کسی کمپنی سے کام کرنے کی آفر ہے لیکن کچھ رقم وہ آپ کی ضمانت کے طور پر وصول کرنا چاہتی ہے۔ کمپنی لاہور میں ہے اور آپ کراچی میں ہیں۔ آپ اپنے بینک سے اتنی رقم کا ڈرافٹ یا پے آرڈر بنواتے ہیں۔ یہ رقم آپ کے بینک نے قرض کے طور پر وصول کی اور آگے اپنی برانچ یا کسی دوسرے بینک جو اس علاقے میں موجود ہے، اس کی طرف یہ قرضہ منتقل کر دیا کہ وہ یہ قرضہ اس علاقہ میں ادا کرے گا۔ اس صورت میں بھی ڈرافٹ یا پے آرڈر بنانے والا بینک قرض کو دوسرے بینک یا برانچ کی طرف منتقل کر دیتا ہے جو حوالہ ہی کی ایک صورت ہے۔

ان صفحات پر شریعت کے مختلف معاملات کے ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم ان سے واقف ہو ں۔ معاملات کا کچھ خلاصہ ہمارے سامنے آ جائے۔ ہمارے اندر یہ جذبہ پیدا ہو کہ ہم تفصیلات کے لیے دار الافتائ، مفتیان کرام کی طرف رجوع کریں۔ ہمارے اندر علم دین سیکھنے کی تڑپ پیدا ہو۔ ہم اس بات کو سمجھیںکہ دین صرف عبادات تک محدود نہیں ہے بلکہ دین میں ہمارے لیے جس طرح عبادات کے احکامات ہیں، اسی طرح معاملات کے بارے میں بھی احکامات موجود ہیں۔ جس طرح عبادات کے دین پر عمل کرنا ہمارے ایمان کا تقاضا ہے، اسی طرح معاملات کے دین پر عمل کرنا بھی ہمارے لیے ضروری ہے بلکہ ایک لحاظ سے زیادہ ضروری ہے، کیونکہ حرام کا لقمہ کھانے والے کی عبادات بھی قبول نہیں۔ ہم قدم بڑھائیں، خود باقاعدہ علم دین سیکھیں، اپنے بچوں کو سکھانے کی فکر کریں۔ یاد رکھیے! علم سیکھنے کی کوئی عمر نہیں۔ ہم چاہے عمر کے کسی بھی حصے میں ہیں، ہم علم حاصل کر سکتے ہیں اور اپنی زندگی بدل سکتے ہیں۔ تو خود بھی فکر کریں، اپنے دوست احباب، اپنے رشتہ دار اولاد کی بھی فکر کریں۔ انشاء اللہ چراغ سے چراغ جلتا ہے۔ جب روشنی آتی ہے تو اندھیرا دور ہوتا ہے۔ ہم گمراہی، تاریکی کا شکوہ کرنے کے بجائے اپنے حصے کا چراغ ضرور روشن کر جائیں تاکہ کل اللہ کے سامنے کچھ تو پیش کر سکیں۔ اللہ پاک ہمارے نیک اعمال کو قبول فرمائے اور برائیوں سے در گزر فرمائے، آمین!