٭۔۔۔۔۔۔ تصوراتی، انسانی اور تکنیکی مہارتوں پر محنت کر کے ایک عام ملازم ٹاپ مینجمنٹ تک پہنچ سکتا ہے

٭۔۔۔۔۔۔ ایک مسلمان منتظم یہ سب کام سنت نبویﷺ کی نیت سے کرے تو دنیا میں بھی ترقی کرے گا اور آخرت کے اچھے انجام سے بھی محروم نہ ہوگا

٭۔۔۔۔۔۔درمیانے درجے کے منیجرز پروموشن چاہتے ہیں تو ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان مہارتوں کو حاصل کریں

پروموشن (Promotion) حاصل کرنا ہر ملازم کے دل کی آواز ہے، لیکن اسے کمپنی کی مینجمنٹ کس نظر سے دیکھتی ہے ؟ ماہرین جدید نظمیات(Management Theorists) اس مسئلے سے متعلق کیا کہتے ہیں؟ان سوالات کے جوابات آپ کو ان شاء اللہ اس مضمون کے توسط سے مل سکیں گے۔ ایک منیجر کو پیچیدہ (Complex)اور مختلف الجہات(Multi Dimensional) فرائض(Jobs) کی ادائیگی کے لیے مختلف مہارتوں(Skills)کی ضرورت ہوتی ہے، جن کو ماہر نظمیات تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ 1 تصوراتی مہارت (Conceptual Skills) 2 انسانی مہارت (Human Skills) 3 تکنیکی مہارت (Technical Skills) تصوراتی مہارت تصوراتی مہارت سے مراد وہ علمی صلاحیت (Cognitive Abilities) ہے، جس کے نتیجے میں کوئی شخص تنظیم کو کلی(As a Whole) طور پر دیکھ سکے اور اس کے اجزا کے درمیان تعلقات (Relationships) سمجھ سکے ۔ اس مہارت میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت (Thinking abilities)،معلومات سے نتائج تک پہنچنے کی صلاحیت(Information Processing)،مستقبل کی منصوبہ بندی کی صلاحیت شامل ہے۔ جسے ہم مدبرانہ سوچ (Strategic Thinking)کہہ سکتے ہیں۔ جس آدمی میں یہ مہارت ہو وہ ایک شعبہ کا تنظیم (Organization)سے تعلق، تنظیم کا صنعت سے تعلق، مزید تنظیم کا بیرونی، تجارتی اور معاشرتی ماحول سے تعلق کو سمجھ سکتاہے۔


تصوراتی، انسانی اور تکنیکی مہارتوں پر محنت کر کے ایک عام ملازم ٹاپ مینجمنٹ تک پہنچ سکتا ہے۔ ایک مسلمان منتظم یہ سب کام سنت نبویﷺ کی نیت سے کرے تو دنیا میں بھی ترقی کرے گا اور آخرت کے اچھے انجام سے بھی محروم نہ ہوگا۔ درمیانے درجے کے منیجرز پروموشن چاہتے ہیں تو ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان مہارتوں کو حاصل کریں

 اسے سامنے رکھتے ہوئے تنظیم کے اہداف ومقاصد (Goals and Objectives)متعین کرتا اور پوری تنظیم میں موثر انداز میں پھیلاتا ہے۔ پھر ان اہداف و مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے، وسائل کی مختلف شعبہ جات میں تفویض (Allocation of Resources)کرتا ہے، نئے نئے منصوبے(Innovation) لے کر آتاہے۔ اگر ہم کامیاب منتظمین کی زندگیاں دیکھیں، جنہوں نے اپنے اداروں کو مارکیٹ لیڈر بنا دیا، ان میں بھرپور اور مکمل تصوراتی مہارت(Conceptual Skills) نظر آئے گی۔ ایسے لوگ ہی تنظیموں کی قیادت کرتے ہیں۔ یہ مہارت تمام درجوں(Levels) کے منیجرز میں پائی جا نی ضروری ہے، لیکن اعلی درجے پر فائز منیجرز (Top Management)کے لیے اس مہارت کی ضرورت بہت زیادہ ہے۔ اسی لیے بہت سے درمیانے درجے کے منیجرز(Middle Mangers) صرف اس صلاحیت کی کمی کی وجہ سے اپنے ادارے میں پروموٹ نہیں ہو پاتے۔ دوسری جانب ان کے ہم منصب کم تجربہ کار بعض اوقات ا س مہارت کے ہونے کی وجہ سے پروموٹ ہوجاتے ہیں۔ لہذا اگر درمیانے درجے کے منیجرز پروموشن چاہتے ہیں تو ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان مہارتوں کو حاصل کریں۔

 جس کے لیے مختلف ادارے مختصر دورانیے کے کورسز(Short courses) اور ورکشاپس (Workshops)کرواتے ہیں۔جس کے کرلینے کے بعد یہ مہارت حاصل ہوجاتی ہے۔ ان مہارتوں کے پیدا ہونے سے، درمیانے درجے کے منیجر(Middle Managers) کے اعلیٰ سطحی مینجمنٹ(Top Management) پر، پروموٹ کیے جانے کے امکانات روشن ہو جاتے ہیں۔ انسانی مہارت انسانی مہارت سے مراد لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی صلاحیت ہے، چاہے وہ ایک ٹیم ممبر ہونے کی حیثیت سے ہویاٹیم لیڈرہونے کی حیثیت سے۔اس مہارت کے ذریعے لوگوںکی حوصلہ افزائی (Motivation)، باہمی امداد(Facilitation)، تعاون(Coordination)، رہنمائی((Leading، پیغام رسانی(Communication) کی جاتی ہے اور آپس کے جھگڑوں کو نمٹایا (Conflict resolving) جاتاہے۔ اس مہارت والے منیجر اپنے ماتحتوں سے مشاورت کرتے ہیں۔ کاموں میں ان کو شامل(Encourage Participation) رکھتے ہیں۔ ماتحتوں کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔

 ان کے ساتھ رواداری اور بھائی چارے والا سلوک کرتے ہیں، مثلاً: کبھی ان کو کھانا خود کھلانا، ان کے اچھے کام پر تعریف کرنا، موقع محل کوپیش نظر رکھتے ہو ئے انعام وغیرہ دینا، جس کے نتیجے میں لوگ انہیں اور یہ لوگوں کو پسند کرتے ہیں۔ کسی بھی ادارے کی کامیابی کے لیے اس مہارت کی خا ص ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے مغربی دنیا میں اس مہارت کو حاصل کرنے پر زور دیا جارہا ہے ۔ ماہرین جدید نظمیات اس پر کتا بیں لکھ رہے ہیں، لیکن ہم اس نبی کے امتی ہیں جس نے ان سب باتوں کا حکم دیا اور عملاً کر کے دکھایا۔ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ ۔۔۔۔۔۔ جنہوں نے تقریباً دس سال جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی۔۔۔۔۔۔ فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی یہ نہ فرمایا کہ یہ کیوں کیا؟ یہ کیوں نہ کیا؟ یہ انتہا تھی خادموں ماتحتوں سے شفقت کی۔

 ایک مسلمان منتظم یہ سب کام سنت نبوی کی نیت سے کرے تو دنیا میں بھی ترقی کرے گا اور آخرت کے اچھے انجام سے بھی محروم نہ ہوگا۔ اس مہارت کی ضرورت ایک منیجر ہونے کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے۔ چاہے وہ مینجمنٹ کے درجات میں سے کہیں بھی ہو، اس لیے کہ اس مہارت کی بدولت آپ کے اندر قائدانہ صلاحیت (Leading abilities)پیدا ہوتی ہے۔ لوگ لگن کے ساتھ کام کرتے ہیں، اس کے نتیجے میں ادارہ ترقی کی منازل طے کرتا ہے۔ درمیانے درجے کے منیجرز کے لیے ان صلاحیتوں کا ہونا زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اس لیے کہ یہ نچلی اور اعلیٰ مینجمنٹ کے درمیان واسطہ ہیں۔ نچلی مینجمنٹ کے وہ لوگ جن میں یہ مہارت پائی جاتی ہے ، وہ جلد درمیانی مینجمنٹ میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ تکنیکی مہارت تیسری قسم کی مہارت تکنیکی مہارت ہے۔اس سے مراد کسی خاص کام کے طریقے کو سمجھنا (Understanding of Method) اور اس میں مہارت (Mastery)حاصل کرنا۔

 جیسے کسی کام کے طریقے، تکنیک یا کسی آلے کے استعمال میں طاق ہوجانا، کسی کام کے بارے میں اختصاصی علم (Specialized Knowledg)، تجزیہ کرنے کی صلاحیت ((Analytical Abilities، مسائل حل کرنے میں آلات اور ٹیکنالوجی کا موثر استعمال شامل ہے۔ یہ مہارت نچلی سطح کے منیجرز کے لیے زیادہ اہم ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو براہِ راست کام کروا رہے ہوتے ہیں، لہذا پیداواری عمل(Production Process)میںآنے والے مسائل کو یہ لوگ حل کرتے ہیں۔ اکثر نچلی سطح پر کام کرنے والے ملازمین میں سے، اچھی تکنیکی مہارت(Technical Skills) رکھنے والے ملازمین کو نچلی مینجمنٹ(Bottom Management)کے لیے پروموٹ کر دیا جاتاہے۔ مختلف ڈپلومے، ٹریننگ پروگرام اس مقصد کے لیے کروائے جاتے ہیں، جن کے ذریعے تکنیکی مہارت میں اضافہ ہوتا ہے۔

خلاصہ یہ کہ پروموشن کوئی ایسا خواب نہیں جو شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے، لائن اسٹاف اپنی ٹیکنکل اسکلز میں نکھار لاکر فرسٹ لائن مینجرز((First-line Managersمیں شامل ہوسکتا ہے۔ فرسٹ لائن مینجرز اپنی ہیومن اسکلز (Human Skills) بہتر بنا کر مڈل مینجمنٹ میں پروموٹ ہو سکتا ہے ۔ ایک مڈل مینجر اپنی (کنسپچولاسکلز (Conceptual Skills) بڑھا کر ٹاپ مینجمنٹ کا حصہ بن سکتا ہے۔ اس طرح تینوں اسکلز پر محنت کر کے ایک عام ملازم ٹاپ مینجمنٹ تک پہنچ سکتا ہے۔ اسلام ہمیں اپنی صلاحیتوں اور وسائل کو بہتر سے بہتر انداز میں استعمال کرنے کا حکم دیتا ہے، لہذا اگر ہم حسنِ نیت کے ساتھ اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کی فکر کرتے ہیں، یہ ہماری دنیا میں ترقی (Promotion)کاباعث ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ آخرت کے لیے بھی نجات کا باعث بن سکتا ہے۔