٭۔۔۔۔۔۔ ضرورت اس بات کی ہے مسلمان ہو نے کی حیثیت سے ہم مروجہ غیر شرعی کاروباری اخلاقیات کی روک تھام کریں اور نبوی اخلاق پر اپنے کاروباری اخلاقیات کی بنیاد رکھیں
٭۔۔۔۔۔۔ماہرین علم نظمیات کے مطابق کاروباری اخلاقیات 4 بنیادوں پرمتعین ہوتے ہیں: نظریہ افادہ، نظریہ ذاتی مفاد، نظریہ اخلاقی

حقوق اور نظریہ انصاف 
ایک منتظم اور تاجر کے فیصلے درحقیقت حتمی قوانین(CodifiedLaws)، انفرادی معیارات (Personal Standards) اورمعاشرتی معیارات (Social Standard) کے درمیان دائر ہوتے ہیں۔ حتمی قوانین(Codified Laws)سے مراد وہ قوانین جن پر صاحب اختیار کی جانب سے عمل ضروری ہے جیسے حکومت کی جانب سے ٹیکس کی ادائیگی اور ادارے کی جانب سے اوقات کار کی پابندی وغیرہ۔ دوسری جانب کچھ معاملات وہ ہیں جن پر صاحب اختیار خاموش ہے اور فرد اپنے فیصلوں میں مکمل آزاد ہے۔ اس پر نہ تو قانون کی گرفت ہے اور نہ ہی معاشرتی دباؤ، جیسے: کسی ادارے میں ملازمین کی تعداد، ملازمین کے لیے فرائض کا تعین وغیرہ۔ تیسرے وہ معاملات جو ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ہیں جس پر قانونی گرفت بھی نہیں ہے اور مکمل انفرادی آزادی بھی نہیں ہے، بلکہ فیصلے کے وقت معاشرتی دباؤ کو پیش نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے ۔ یہ وہ دائرہ ہے جس میں اخلاقیات کو پیش نظر رکھنا پڑتا ہے، جیسے: ایک مسلما ن آبادی میں ماڈلنگ کا بزنس یا ڈانسنگ اسکول کا قائم کرنا معاشرتی معیارات(Social Standards)کے خلاف ہوگا۔ یہیں سے کاروباری اخلاقیات متعین ہوتے ہیں جس سے مراد نیکی و بدی کے وہ معیارات ہیں جسے معاشرہ متعین کرتا ہے۔ ایک منتظم اپنے وہ فیصلے جن کا معاشرے سے تعلق ہے، مگر کوئی قانونی پابندی بھی نہیں ہے تو ایسے فیصلے وہ کاروباری اخلاقیات کی بنیا د پر کرتا ہے۔ یہ کاروباری اخلاقیات کس طرح متعین ہوتے ہیں؟ ماہرین علم نظمیات کے مطابق یہ کاروباری اخلاقیات 4 بنیادوں پرمتعین ہوتے ہیں: نظریہ افادہ، نظریہ ذاتی مفاد، نظریہ اخلاقی حقوق اور نظریہ انصاف۔
1 نظریہ افادہ (Utilitarian Approach):اس نظریے کے مطابق، فیصلہ کرنے والا فیصلے سے متاثرہ افراد کو حاصل ہونے والے افادے اور تسکین (Utility)کو دیکھتا ہے اور متبادل فیصلوں میں سے اُس پر عمل کرتا ہے جس میں کل افادہ زیادہ سے زیادہ ہو۔


قرآن مجید میں اللہ تعالی فرماتا ہے: ''اے ایمان والو!اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور تم میں سے جو لوگ صاحب اختیا ر ہوں، ان کی بھی۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی چیز میں اختلاف ہوجائے تو اگر واقعی تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اسے اللہ اور رسول کے حوالے کردو۔ یہی طریقہ بہترین ہے اور اس کا انجام بھی سب سے بہتر ہے ۔''(النسائ59/4:)

2 نظریہ ذاتی مفاد (Individualism Approach): اس نظریے کے مطابق ہر فرد اخلاقی فیصلہ سازی میں اپنے طویل مدتی مفادات کو مد نظر رکھتے ہو ئے فیصلہ کرتا ہے۔
3 نظریہ اخلاقی حقوق (Moral-Rights Approach) : اس نظریے کے مطابق یہ فیصلے اس طرح ہو نے چاہیےں کہ جس سے کسی کی دلی رضامندی (FreeConsent)، نجی زندگی (Privacy)، مذہبی آزادی (Freedom of Religious)، آزادی اظہارِ رائے (Freedom of Speech)، زندگی اور تحفظ(Life and Safety)، متاثر نہ ہوں۔
4 نظریہ انصاف (Justice Approach): اس نظریے کے مطابق اس قسم کے فیصلے انصاف (Equity)، شفافیت (Fairness) اور غیر جانبداری (Impartiality) کے تقاضوں کومد نظر رکھتے ہوئے ہونے چاہیےں۔ ایک مسلمان تاجر کے لیے تینوں قسم کے فیصلوں کے لیے کیا راہ عمل ہو؟
قرآن مجید میں اللہ تعالی فرماتا ہے: ''اے ایمان والو!اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور تم میں سے جو لوگ صاحب اختیا ر ہوں، ان کی بھی۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی چیز میں اختلاف ہوجائے تو اگر واقعی تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اسے اللہ اور رسول کے حوالے کردو۔ یہی طریقہ بہترین ہے اور اس کا انجام بھی سب سے بہتر ہے ۔''(النسائ59/4:)
حدیث پاک ہے:''خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔'' قرآن کی مذکورہ آیت اور حدیث ایک مسلمان تاجر اور منتظم کے لیے راہ عمل متعین کرتی ہے کہ اس نے اپنے فیصلوں میں ترجیحات کا تعین کس طرح کرنا ہے۔
شرعاً صاحب اختیار کی جانب سے لازمی قوانین پر عمل کرنا لازم ہے، لیکن کسی موقع پرلازمی قوانین (Codified laws) اگر قران و سنت کے خلاف ہوں تو نا صرف ان پر عمل نہیں کیا جائے گا، بلکہ ان پر عمل کرنا جائز بھی نہیں ہوگا ، نیز حسب استطاعت ان کے خلاف آواز اٹھانا لازم ہوگا۔ جیسے اگر ادارے کی جانب سے سود پر قرضے لینے دینے کا رواج ہو تو ناصرف ایک منیجر ہونے کی حیثیت سے آپ یہ کام نہیں کرسکتے، بلکہ اس کے خلاف آواز بھی اٹھانی ہوگی، لیکن اگر کوئی ایسا قانون ہے جس کا شریعت سے تصادم نہیں ہے تو اس پر عمل کر نا شرعاً لازم ہو گا، جیسے ادارے کی جانب سے اوقات کار مقرر ہیں تو ان اوقات کار کے مطابق عمل کرنا شرعا ًبھی لازم ہوگایا ادارہ ہونے کی حیثیت سے معاملات میں حکومتی قوانین کی پابندی وغیرہ۔
دوسرے وہ فیصلے جن میں صاحب اختیا رکی جانب سے کوئی پابندی نہیں ہے، فرد اپنی ذاتی ترجیحات کے مطابق کام کرسکتا ہے۔ ان میں ایک مسلمان حسن نیت سے دنیا و آخرت کی بھلائیاں سمیٹ سکتا ہے، جیسے کاروبار کے انتخاب میں ایک تاجر آزاد ہے اور وہ معاشرے کی کسی ضرورت، مثلاً: خوراک پورا کرنے کی نیت سے فلور مل لگالے تو اس حسن نیت کی وجہ سے کاروبار کے ذریعے دنیاوی منافع بھی کما رہا ہے اور آخرت میں ان شاء اﷲ اچھے انجام سے بھی محروم نہیں ہوگا۔
تیسری قسم کے فیصلے جن میں معاشرتی اخلاقیات کا ایک اہم کردار ہے۔ ایک مسلمان تاجر کے لیے سنّتِ نبوی کی روشنی میں واضح ہدایات موجود ہیں۔ جو ہر اعتبار سے جدید نظمیات کے نظریات سے عملی لحاظ سے بہتر ہیں، بلکہ معاشرتی اثرات کے حوالے سے زیادہ موثر اور کاروبار کے پھلنے پھولنے کا ذریعہ ہیں۔
اخلاق نبوی میں، نرم مزاجی، عفو و درگزر، حلم و بردباری، محبت والفت، عدل واحسان، رجوع الی اللہ، شرم وحیا، سخاوت، اﷲ کی راہ میں خرچ، حسن نیت و اخلاص، باہمی محبت اور رحمدلی، سچ گوئی اور ایفائے عہد، دینداری و امانتداری، صبر و شکر، اخوت اسلامی اوربھائی چارہ، قناعت پسندی، ایثارومحبت، پردہ پوشی، فکرآخرت اور عدل وانصاف جیسے اخلاقی فضائل واضح نظر آتے ہیں جن پر عمل کرنے کے نتیجے میں معاشرے میں چین اور سکون کی فضا قائم ہو سکتی ہے اور ایک مسلمان آخرت میں سرخرو ہو سکتا ہے۔
ایک مسلمان کے اخلاقی فیصلوں کے لیے بنیاد نہ تو نظریہ افادہ (Utilitarian Approach) ہو سکتا ہے نہ ہی نظریہ ذاتی مفاد (Individualism Approach)، نظریہ اخلاقی حقوق (Approach Moral-Rights) یا نظریہ انصاف (Justice Approach) ، بلکہ اس کے لیے بنیاد صرف اور صرف نبوی اخلاق ہیں، جن پر عمل اس کا ایمانی تقاضا بھی ہے اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا ضامن بھی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے مسلمان ہو نے کی حیثیت سے ہم مروجہ غیر شرعی کاروباری اخلاقیات کی روک تھام کریں اور نبوی اخلاق پر اپنے کاروباری اخلاقیات کی بنیاد رکھیں۔
یا د رکھیں! صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم اور بعد کے مسلمان تاجر انہی اخلاقیات کا پرچار کرکے دنیا کے قائد بنے اور آج ہم بھی انہی اخلاقیات کو عام کرکے ہی مارکیٹ لیڈ کر سکتے ہیں۔