منتظم کی ذمہ داریوں میں پہلی ذمہ داری کاروبار کی منصوبہ بندی کرنا ہے۔ قرآن و سنت کی ہدایات سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ایک مسلمان کی زندگی نظم وضبط، منصوبہ بندی اور مقررہ اہداف کے حصول کی تگ و دو سے تعبیر ہے۔ اسلام فضول کاموں کی سختی سے حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اعمال کا دارو و مدار نیتوں پر

ہے۔'' (بخاری و مسلم) مزید فرمایا: ''کسی شخص کے اسلام کا حسن یہ ہے کہ وہ فضول کاموں کو چھوڑ دے۔'' (موطا امام مالک) اس لیے ہر مسلمان کو اپنی خانگی، کاروباری اور معاشرتی زندگی کے لیے اچھے اہداف مقرر کرنے چاہیےں اور ان کی تکمیل کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ اس طرح اس چند روزہ زندگی میں زیادہ سے زیادہ دنیاوی و اخروی نفع کمایا جاسکتا ہے۔ ماہرین نظمیات کاروباری اہداف کو 4 اقسام میں تقسیم کرتے ہیں۔


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اعمال کا دارو و مدار نیتوں پر ہے۔'' (بخاری و مسلم) مزید فرمایا: ''کسی شخص کے اسلام کا حسن یہ ہے کہ وہ فضول کاموں کو چھوڑ دے۔''

مشن (Mission)
مشن سے مراد، ادارے کے قیام کا بنیادی مقصد ہے۔ مشن کا تعین تمام اہداف سے پہلے ہو گا، کیوں کہ باقی اہداف مشن کی بنیاد پر طے کیے جاتے ہیں۔ایک مسلمان کی زندگی کا حتمی مشن اللہ تعالی کی رضا اور آخرت کی کامیابی حاصل کرنا ہے۔ لہٰذا ایک مسلمان تاجر کو اپنے کاروبار ی مشن کے تعین میں اسے مرکزی حیثیت دینا ہوگی۔ یاد رکھیے! اپنے مشن میں آخرت کی کامیابی کو مدنظر رکھنے سے آپ کا بزنس کم نہیں ہو گا، لیکن آخرت کی کامیابی یقینی ہوجائے گی۔ کاروبار کا مشن عموماً زیادہ سے زیادہ نفع کمانا اور اس سے متعلقہ خصوصیات ہوتی ہیں ،لیکن ایک مسلمان تاجر اپنے مشن میں حلال نفع کمانے کے ساتھ ساتھ اسلامی کاروباری اخلاقیات(Islamic Business Ethics) کی ترویج کو اپنا مشن بنا سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں آپ کی آمدنی کم نہیں ہو گی، لیکن آپ کا یہ مشن آپ کے دیگر اہداف پر اثر انداز ہو گا اور آپ ایک بھلائی کی بنیاد بن کر آخرت میں بے شما ر اجر کے مستحق ہو جائیں گے۔
ادارتی/ طویل مدتی اہداف (Strategic goals)
آپ ادارے کو مستقبل میں کہاں دیکھنا چاہتے ہیں؟ ادارے کے بحیثیت ادارہ اہداف (Orgnization as a Whole)، ادارتی اہداف کہلاتے ہیں۔ یہ اہداف عام طور پر طویل مدت کے لیے مقرر کیے جاتے ہیں۔ ماہر نظمیات پیٹر ڈرکر
(Peter Drucker)حوالوں سے ادارے کے اہداف مقرر کرنے پر زور دیتا ہے:
منڈی میں حیثیت (Market Standing)، جدیدیت (Innovation)، پیداواری صلاحیت (Productivity)، وسائل کی مقدار (Physical and financial)، حصول کے ذرائع (Resources)، منافع (Profitability)، انتظامی کارکردگی (Managerial (Performance)، ملازمین کی کارکردگی اور رجحانات (Worker performance and Attitude) اور معاشرتی ذمہ داری (Public Responsibility) کے لحاظ سے ادارہ مستقبل میں کہاں ہونا چاہیے؟ ان تمام پہلوؤں پر ''ادارتی اہداف'' میں غور کیا جاتا ہے۔ مشن اور ادارتی اہداف کا تعین کرنا ٹاپ مینجمنٹ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
مشن درحقیقت پورے ادارے پر اثر انداز ہوتا ہے، جب مسلمان کے مشن میں مد نظر صرف دنیا نہیں، بلکہ آخرت بھی ہو گی تو اس کے ادارتی اہداف کا تعین بھی اسی کے مطا بق ہو گا۔ لہٰذا ایک مسلمان منتظم ''پیٹرڈرکر'' کے ذکر کردہ حوالوں سے تو اہداف مقرر کرے گا، مگر اس کے ساتھ ساتھ اسلامی ہدایات کو سامنے رکھے گا، جس کے اثرات جدیدیت (Innovation)، انتظامی کارکردگی (Managerial Performance)، ملازمین کی کارکردگی اور رجحان (Worker performance and Attitude)اور معاشرتی ذمہ داری (Public Responsibility) پر مثبت انداز میں پڑیں گے، مثلاً: جدیدیت (Innovation) کے نتیجے میں اہدف معاشرے کی ضروریات پوری کرنا ہوں گی نہ کہ اپنا نفع بڑھانا۔ جس سے وہ اشیا مارکیٹ میں لائے گا جن کی معاشرے کو ضرورت ہو، چاہے اس میں نسبتاً منافع کم ہی کیوں نہ ہو۔ اسی طرح انتظامی کارکردگی (Managerial Performance) میں اسلامی اخلاقیات کی ترویج کے اہداف مقرر کیے جائیں گے، جن سے یقینی طو ر پر انتظامی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔ ملازمین کی اخلاقی و دینی تربیت کے لیے اہداف مقرر کیے جائیں گے، جن سے ملازمین میں اچھے اخلاق پیدا ہوں گے اور ان کی کارکردگی اور رجحان پر بھی اچھا اثر پڑے گا۔
شعبہ جاتی اہداف (Tactical Goals)
یہ اہداف مقرر کرنا مڈل مینجمنٹ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ شعبہ جاتی اہداف کا مقصد ادارتی اہداف کی تکمیل ہے۔ لہٰذا جب ادارتی اہداف میں اصل ہدف یعنی آخرت کو ترجیح دی جائے گی تو شعبہ جاتی اہداف میں ان کا موجود ہونا ظاہر ہے۔ لہٰذا ایک منتظم اپنے شعبے کے وہ اہداف جن سے ادارے کے نفع کے لحا ظ سے ہدف پورے ہوتے ہوں، وہ تو مقرر کرے گا ہی، اس کے ساتھ ساتھ ملازمین کی اخلاقی و دینی تربیت، شعبہ جات میں اسلامی احکام کی پاسداری بھی اس کے اہداف کا لازمی جزو ہوںگی، جیسے مارکیٹنگ کے شعبہ میں غیر شرعی ذرائع تشہیر سے بچنا، مالیات کے شعبہ میں سودی و غیر شرعی معاملات سے بچنا کو بھی مد نظر رکھا جائے گا۔
عملی اہداف (Operational Goals)
روز مرہ کے کاموں کے حوالے سے وہ اہداف جن کو حاصل کرنے کے نتیجے میں شعبہ جاتی اہداف پورے ہوتے رہیں، عملی اہداف کہلاتے ہیں۔ یہ قابل پیمائش اہداف ہوتے ہیں، جیسے روزانہ100 اشیا فروخت کرنا، 50 فیصد فروخت نقد کرنا وغیرہ۔
عملی اہداف کا مقصد شعبہ جاتی اہداف کی تکمیل ہوتا ہے۔ لہٰذا جس طرح شعبہ جاتی اہدا ف میں دنیاوی اہداف کے ساتھ ساتھ اخروی اہداف بھی مقرر کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح عملی اہداف میں بھی ان کا خیا ل رکھاجائے گا، جیسے شعبہ جاتی ہدف میں یہ بات شامل تھی کہ مارکیٹنگ والے غیر شرعی ذرائع تشہیر کا استعما ل نہیں کریں گے۔ اس کے لیے عملی ہدف یہ ہے کہ ان کو مارکیٹنگ کی شرعی و غیر شرعی صورتوں کے بارے میں ٹریننگ دی جائے۔ اسی طرح شعبہ مالیات کے اہداف میں شامل تھا کہ کوئی سودی یا غیر شرعی معاملہ نہیں کیا جائے گا تو اس کے لیے عملی ہدف یہ ہو سکتا ہے کہ جب بھی کوئی نیا معاہدہ کیا جائے تو اس کی شرعی جانچ پڑتال کے لیے علمائے کرام سے رجوع کیا جائے یا مختلف اوقات میں مفتیان کرام سے تمام ڈپارٹمنٹ کا شرعی آڈٹ کروا لیا جائے۔
ایک ادارہ اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنے اہداف کا تعین کرے تو اس سے نہ صرف آخرت میں سرخرو ہو گا، بلکہ دنیا میں بھی اس کی تجارت پر اس کے مثبت اثرات پڑیں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے ہم قدم بڑھائیں اور مارکیٹ میں رائج حرص و ہوس، لالچ سے بھر پور اہداف کے بجائے آخرت کو مقصد بناتے ہوئے تمام سطح پر اہداف کا تعین کریں، اسلامی اخلاقیات کا عملی نمونہ بن کر ظلمت کے ماحول میں روشنی کی کرن بن جائیں۔