٭…ادارے میں ایماندار، محنتی اسٹاف کا ہونا، کسی ادارے کے نظام ایماندار اور محنتی اسٹاف، نظام کی مضبوطی اور مالی استحکام، ادارے کی ترقی کے لیے ناگریز ہیں۔
٭…اسلامی تعلیمات میں اخلاق کا حصہ جس طرح تفصیل سے موجود ہے، جتنا مضبوط اور جس قدر عملی ہے، کسی اور مذہب اور زندگی گزارنے کے طریقے میں موجود نہیں

کاروباری اہداف کے حصول،مارکیٹ میں موجودگی کے لیے مقابلہ،ترقی یافتہ مستقبل کا حصول،ایک بہتر،قابل عمل،حقیقت پسندانہ حکمت عملی پر منحصر ہے۔ایک اچھی کاروباری حکمت عملی کیسے تیار کی جائے؟ علم جدید نظمیات کی روشنی میں تفصیل پیش خدمت ہے۔
1 صورتحال کا مکمل جائزہ لینا

صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اندرونی ماحول(Internal Environment) کا جائزہ لینا ہوگا اور بیرونی ماحول (External Environment)کا بھی بخوبی پیش نظر رکھنا ہو گا۔ادارے کے اندر اپنی قوتوں(Strengths) اور کمزوریوں (Weaknesses)کا جائزہ سب سے پہلے ہے ۔ قوتوں (Strengths)سے مرادادارے کی وہ مثبت 


٭…ادارے میں ایماندار، محنتی اسٹاف کا ہونا، کسی ادارے کے نظام ایماندار اور محنتی اسٹاف، نظام کی مضبوطی اور مالی استحکام، ادارے کی ترقی کے لیے ناگریز ہیں۔

خصوصیات(Positve Characteristics) ہیں جن کی مدد سے کاروباری اہداف کا حصو ل آسان ہو سکتا ہے،مثلا: کسی ادارے میں ایماندار ،محنتی اسٹاف کا ہونا،کسی ادارے کے نظام کا مضبوط ہونا اورکسی ادارے کی مالیاتی پوزیشن مستحکم ہونا…اس ادارے کے لیے قوت ہوسکتی ہے۔ان خوبیوں کا جائزہ اس حوالے سے لیں کہ ان خصوصیات کو ادارتی اہداف کے حصول کے لیے کیسے استعمال کیا جاسکتاہے۔دوسری جانب ادارے میں کمزوریاں (Weaknesses)بھی ہوسکتی ہے ،جو ادارے کی بہتر کارکردگی میں رکاوٹ ثابت ہوسکتی ہیں ۔خوبیوں کے ساتھ ساتھ ان کمزوریوں کا تجزیہ بھی ضروری ہے، مثلاً: کسی سروس فراہم کرنے والے ادارے کے لیے کسٹمر کئیر سسٹم کا خراب ہو نا ایک بڑی کمزوری ہوسکتی ہے۔ اسی طرح قرضوں کی مقدار کا زیادہ ہونا بھی ایک کمزوری ہو سکتا ہے۔اس بات کا اندازہ ہر تاجریا منتظم خود کر سکتا ہے کہ کیا چیز اس کے لیے کمزوری ہے اور کیا چیز اس کے لیے قوت ہے۔اس اندرونی تجزیے کے ساتھ اب بیرونی ماحول کا جائزہ لینا ہوگا۔
بیرونی ماحول(External Environment) میں ادارے کے لیے کارکردگی دکھانے کے مواقع بھی ہوسکتے ہیں، رکاوٹیں بھی مواقع(Opportunities) سے مراد بیرونی ماحول کی وہ خصوصیات ہیں جن کے نتیجے میں ادارے کے اہداف کے حصول میں مدد مل سکتی ہے،جیسے: ایک ادارہ اسلامی بینکاری کرتاہے۔مارکیٹ میں موجود تکافل کمپنیاں،اسلامی بینکاری کی تعلیم دینے والے ادارے اس ادارے کے لیے، اپنے اہدا ف کے حصول میں مدد فراہم کرسکتے ہیں ۔تکافل کمپنیاں بینک کی جانب سے کی جانے والے اثاثوں کی تمویل پر شریعہ کمپلائنڈ انشورنس فراہم کرسکتی ہیں تو اسلامی بینکاری کے تعلیمی ادارے اس کو مطلوب انسانی وسائل کی فراہمی کرسکتے ہیں ۔یہ سب اس ادارے کے لیے مواقع(Opportunities) ہیں۔
رکاوٹوں(Threats) سے مراد بیرونی ماحول میں موجود وہ چیزیں ہیں جو کسی ادارے کہ اہداف کے حصول میں مشکلات ڈال سکتی ہیں،جیسے: ایک وہ ادارہ جو اپنے تمام شعبوں کو اسلامی اصولوں کے مطابق چلانا چاہتا ہے، اس کے لیے سودی تمویلی اداروں کا موجود ہونا،تمام مارکیٹنگ کمپنیوں کا غیر شرعی انداز میں مارکیٹنگ کرنا،وغیرہ… وہ رکاوٹیں ہیںجو اس ادارے کو مارکیٹ میں چلنے اوراہداف کے حصول میں مشکلات ڈال سکتی ہیں۔ 2 ادارے کے لیے حکمت عملی تیار کرنا
سب سے پہلے پورے ادارے کے لیے حکمت عملی تیار کی جائے گی۔ادارے میں مختلف بزنس لائنز(Strategi Business Units)ہو سکتی ہیںجن کی پروڈکٹ، مشن،مقابل(Competitors) اور مارکیٹ ایک دوسرے سے مختلف ہوگی۔پورے ادارے کی حکمت عملی میں مرکزی حکمت عملی(ترقی Growth،استحکام Stability، تنزلی Retrenchment)وغیرہ کو سامنے رکھتے ہوئے ان بزنس لائنز(SBUs) کا جائزہ لینا ہوگا کہ وہ مارکیٹ شیئر(Market Shares)اور ترقی(Growth) کے حوالے سے کہاں کھڑے ہیں۔اسے ماہر نظمیات چار اقسام میں تقسیم کرتے ہیں۔
(الف)مارکیٹ شیئر اور ترقی دونوں میں اعلی:انہیں اسٹارز (Stars)کہا جاتا ہے کہ یہ وہ کاروباری لائنز ہیں جو ادارے کو کما کردے رہی ہوتی ہیں۔ان کی نفع رسانی(Profitablity) کو بڑھانا حکمت عملی شامل ہو گا،جیسے: ایک کمپیوٹر کا سامان بنانے والی کمپنی جو کمپیوٹر، لیپ ٹاپ اور ان کا سامان بناتی ہے۔ تو ہو سکتا ہے کہ ایل سی ڈیز کا بزنس اس کے لیے اسٹار ز میں ہو کہ اس کا مارکیٹ شیئر بھی زیا دہ ہو اور بزنس ترقی بھی کررہا ہو۔
(ب)مارکیٹ شیئر اعلی لیکن ترقی میں ادنی:ان کو کیش کاؤ(Cash Cows) کہا جاتا ہے، یعنی مزید ترقی تو نہیں کررہی لیکن مارکیٹ شیئر کی وجہ سے کمپنی کو کما کر دے رہی ہوتی ہیں اور مزید اخراجا ت بھی نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ان سے کما کر کمپنی اپنے اسٹارز اور کوئسچن مارک(Question Marks) بزنس یونٹس(SBUs) پر خرچ کر رہی ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ بزنس لائن اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔اب آہستہ آہستہ ان کو بند کرنے کی طر ف جانا ہوگا۔اس کمپنی کے لیے مانیٹرز کا بزنس کیش کاؤ ہو سکتا ہے کہ اس کا مارکیٹ شیئر تو ہے لیکن مزید ترقی نہیں کررہا۔
(ج)مارکیٹ شیئر ادنی اور ترقی حیرت انگیز:انہیں کوئسچن مارک(Question Marks) کہا جاتا ہے۔یعنی فی الحال مارکیٹ شیئر تو نہیں ہے لیکن بزنس ترقی پر ہے۔اس میں سرمایہ کاری کرنا پر خطر(Riskier) تو ہے، لیکن مستقبل میں یہ بزنس یونٹ کما کر دے سکتا ہے اور اسٹار ز(Stars) میں بدل سکتا ہے، اس لیے اس کے بارے میں حکمت عملی تیا ر کرنے میں توجہ کی ضرورت ہوتی ہے اور منتظمین کیش کاؤ(Cash Cows) سے کما کر اس پر خرچ کر رہے ہوتے ہیں۔جیسے یہی کمپنی اگر وائر لیس انٹر نیٹ ڈیواسسز متعارف کرواتی ہے ا ور اس کا مارکیٹ شیئر تو کم ہے لیکن ترقی حیرت انگیز ہو تو منتظمین کو اس کے بارے میں حکمت عملی بنانی ہوگی کہ اس کو کس طرح اسٹارز (Stars)میں تبدیل کیا جاسکتا ہے کہ مارکیٹ شیئر اور ترقی دونوں بہترین ہو جائیں۔ (د)نہ مارکیٹ شئیر نہ ہی ترقی: اسے ڈوگز(Dogs) کہتے ہیں ،اس کے بارے میں حکمت عملی بند کرنے کی ہی ہو سکتی ہے ۔ کہ یہ وہ بزنس یونٹ ہے جس کا نہ تو مارکیٹ شئیر ہے اور نہ ہی ترقی کررہا ہے۔
3 کاروباری لائنوں کے لئے حکمت عملی وضع کرنا
کاروباری سطح پر حکمت عملی میں بھی مرکزی حکمت عملی (ترقیGrowth، استحکامStability ، تنزلیRetrenchment)کو سامنے رکھتے ہوئے اس،کاروباری اکائیوں(Strategic Business Units) کے لئے حکمت عملی بنانا ہے کہ یہ کاروباری ادارے مارکیٹ میں کس طر ح مقابلہ کریں گے؟یہ حکمت عملی کو وضع کے لیے ماہر نظمیا ت پورٹر کا ماڈل پیش کرتے ہیں جس میں اس نے مختلف قوتیں جن کا ایک کاروبار کوسا منا کرنا پڑتا ہے اور حکمت عملی کا ذکر کیا ہے۔
زپورٹر ماڈل(Porter's Competitive Forces and Strategies):
یہ ماڈل مائیکل ای پورٹر (Micheal E. Porter)نے پیش کیا ۔اس میںاس نے پانچ قوتوں کا تعین کیا جن سے ایک کاروبار کو مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔
زمتوقع نئے کاروباروں کی آمد(Potential new Entrants): پہلی قوت جس کا مدنظر رکھنا ضروری ہوگا وہ نئے فرموں کا مارکیٹ میںآناہے۔کاروبار میں کم سے کم لاگت پر اشیا کا پیدا کرنا (Economies of Scale) یا کاروبار میں آنے کے لیے بڑی سرمایہ کاری کا درکار ہونا کسی کاروبار میں نئے مقابل کے داخلہ کے لیے رکاوٹ ہو سکتے ہیں۔اس لیے اس بات کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ کاروبار میں نئے فرموں کی آمد کتنی متوقع ہے۔
زخریدار کی بارگیننگ کی قوت(Bargaining power of buyers):صارف کو جتنی معلومات ہونگی وہ اتنا بااختیار ہو جائے گا ۔تشہیر کاری صارف کی معلومات میں اضافہ کرکے اس کی بارگیننگ پاور کو بڑھاتی ہے۔ زرسد دہندہ کی بارگیننگ کی قوت (Bargaining power of Suppliers):مارکیٹ میں کتنے سپلائرز موجود ہیں۔سپلائرز کا متبادل موجود ہیں یا نہیں۔اس سے رسد دہندہ کی بارگیننگ پاور متعین ہوتی ہے کہ فرم کو اپنی سپلائرزسے خام مال وغیرہ کس قیمت پر مل سکتاہے۔
زمتبادل اشیا کی موجودگی کاخوف(Threat of Substitute poducts): جب مارکیٹ میں کمپنی کی پروڈکٹ کا متبادل موجود ہو گا۔تو کمپنی اپنا بزنس کھو سکتی ہے۔اس چیز کا تجزیہ کاروباری حکمت عملی بنانے سے پہلے ضروری ہو گا کہ کمپنی کی پروڈکٹ کا کو ن کون سا متبادل ہے اور وہ کمپنی کے بزنس پر کتنا اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ زمقابل کاروباروں کی آپس کی دشمنی(Rivelry among cometitors):کاروباری مقابل اکثر آپس میں دشمنی کی سی کیفیت میں ہوتے ہیں ۔اس کے لیے تشہیر ی مہم،اور دیگر ذرائع سے مقابلہ کیا جاتا ہے جو ایک جنگ کی سی کیفیت کو جنم دیتا ہے۔

(باقی آئندہ)