٭…ایک تاجر کے لیے حکمت عملی کی اہمیت سمجھنا، اقسام کا جائزہ لینا، بنانا اور پھر عملا اس کا نفاذ ،طویل مدت تک کاروبار میں رہنے کے لیے نہایت ضروری ہے
٭…رمضان المبارک کے ماہ مغفرت میںہم اس بات کا عزم کریں کہ اپنے کاروبار کو اسلامی تعلیمات کے مطابق بنائیں گے
حکمت عملی بنانے سے زیادہ اہمیت، اس حکمت عملی کے نفاذ (implementation)کی ہے۔

کوئی حکمت عملی چاہے کتنی ہی اچھی ہو، لیکن اگر مناسب طریقے سے عملی طور پر نافذ نہ ہو سکے تو اس کی افادیت ختم ہو جاتی ہے۔ اس لیے ماہرین جدیدنظمیات اس بات کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں کہ حکمت عملی کا نفاذ بہتر انداز میں ہو نا چاہیے۔اگرچہ یہ ایک مشکل مرحلہ ہے لیکن ایک اچھا منتظم، اپنی قائدانہ صلاحیت، کمپنی کے ڈھانچے میں مناسب تبدیلی(Structural design change)، معلومات اور نگرانی کا مستحکم نظام(Informationa and controlling system) اور مطلوبہ افرادی قوت(Human Resource) کی مدد سے اس ذمہ داری سے اچھے انداز میں عہدہ برآ ہو سکتا ہے۔ مگرکس طرح؟ مرحلہ وار بیان کیا جاتا ہے۔
1 قائدانہ صلاحیت(Leadership)
قائدانہ صلاحیت سے مراد منتظم کا اپنے ماتحتوں سے مطلوبہ رویہ اختیار کرنے کے لیے ذاتی اثر کا استعمال ہے۔ لیڈرشپ میں اپنے ماتحتوں کو کام کرنے پر راضی کرنا(Persuasion)،کام کی لگن پیدا کرنا (Motivation)اور کمپنی کے کلچر اور اقدار(Values and Culture) میں تبدیلی کرنا شامل ہے۔ اس کے لیے منیجرملازمین سے تقاریر کرے گا، ہدایات جاری کرے گا، کام کے لیے جماعت بنائے گا، مزید درمیانی سطح کے منیجرز کو حکمت عملی کے نفاذ کے بارے میں راضی کرے گا۔ مثال کے طور پر ایک ادارہ جس کی مرکزی حکمت عملی ترقی (Growth)کی ہے، اسے پہلے تمام شعبوں کے سربراہوں کو حکمت عملی سے آگاہ کرنا اور اس کو نافذ کرنے کے لیے راضی کرنا ہوگا۔ پھر وہ اپنے اپنے شعبہ جات میں اس حکمت عملی کے نفاذ کے لیے اپنے ماتحتوں کو آگاہ کریں گے، انہیں اس پر عمل درآمد پر آمادہ اور متحرک کریں گے۔ اس کے لیے ہو سکتا ہے ہر شعبے کا سربراہ اپنے شعبے کے حوالے سے کو ئی میٹنگ رکھ لے، جس میں ماتحت عملے کو حکمت عملی (Strategy)اور اس کی اہمیت و افادیت بتا کر ان میں اس پر عمل کا جذبہ پیدا کردیا جائے۔ کاموں کی بنیاد پر اس میٹنگ میں جماعتیں (Teams)بنائی جاسکتی ہیں۔ مزید کاموں کے پورا ہو جانے پر انعام(Rewards) یا ایوارڈ(Awards) کا اعلان کیا جاسکتا ہے۔ یہ سب کام ایک منیجر اپنی قائدانہ صلاحیت کی بنیاد پر کرے گا۔ اس سے ماتحتوں میں حکمت عملی پر عمل پیر ا ہونے کا جذبہ اور تحریک پیدا ہو جائے گی۔
2تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلی(structural Design)
کمپنی کے مختلف تنظیمی ڈھانچے (Orgnisational Structure)ہو سکتے ہیں۔ جس میں عملے کی ذمہ داریوں (Resposibilities)اور اختیارات (Authorities)کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ حکمت عملی کے نفاذ کے لیے بعض اوقات تنظیمی ڈھانچے کو بھی تبدیل کرنے کی ضرورت پڑتی ہے، جیسے: ایک ادارہ جس کی حکمت عملی لاگتوں میں کمی کے ذریعے مارکیٹ میں مقابلہ کرنے کی ہے، تو ہو سکتا ہے اس حکمت عملی کو نافذ کرنے کے لیے عمودی تنظیمی ڈھانچہ (Vertical Structure)جس میں اختیارات کی ایک زنجیر(Chain of Authorities) اوپر سے نیچے تک ہوتی ہے اور ہر اوپر والا عملہ ماتحتوں پر بااختیار او ران کا ذمہ دار ہوتاہے۔ اس کے بجائے افقی ڈھانچہ(Horizantal Structure) جس میں تمام ملازمین اپنے کام کے بارے میں بااختیار اور ذمے دار ہوتے ہیں اور جنرل منیجرسب پر نگران ہوتا ہے، زیادہ موافق ہوتو تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلی کر کے حکمت عملی کا نفاذ کیا جاسکتاہے۔ کیونکہ اس میں ہر ایک اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے کام لگن کے ساتھ کرے گا۔ معلومات اور نگرانی کے نظام میں تبدیلی(Information and Control system)
اس سے مراد کسی بھی ادارے کا انعام کا نظام(Reward System)، بجٹ(Budgets)،وسائل کی تخصیص کا نظام(Resource Allocation system)،معلومات کا نظام(Information system)،ادارتی اصول(Rules)اور طریقہ کار کا نظام(Policy and Procedures) ہے۔ حکمت عملی کے نفاذ کے لیے ان نظاموں میں تبدیلیاں لانی ہوتی ہیں،جیسے: اگر ادارے کی حکمت عملی نئی پروڈکٹ کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے تو وسائل، شعبہ تحقیق و ترقی (Research and Development)پر مختص کرنے ہوں گے، تاکہ نئی سے نئی پروڈکٹ مارکیٹ میں کم عرصے میں لائی جاسکے۔


مشکل مرحلہ کیسے سر کریں ٭…ایک تاجر کے لیے حکمت عملی کی اہمیت سمجھنا، اقسام کا جائزہ لینا، بنانا اور پھر عملا اس کا نفاذ ،طویل مدت تک کاروبار میں رہنے کے لیے نہایت ضروری ہے ٭…رمضان المبارک کے ماہ مغفرت میں ہم اس بات کا عزم کریں کہ اپنے کاروبار کو اسلامی تعلیمات کے مطابق بنائیں گے

افرادی قوت میں تبدیلی(Human Resources)
کسی بھی ادارے کے شعبہ افرادی قوت کے بنیادی فرائض میں افرادی قوت بھرتی کرنا (Recruitment)، منتخب کرنا(Selection)،ان کی تربیت کرنا(Training)،ایک کام سے دوسرے کام پر منتقل کرنا(Transfer)،پروموشن کرنا(Promotion) اور فارغ کرنا(Termination) شامل ہے۔ حکمت عملی کے نفاذ کے لیے مناسب افرادی قوت کو بھرتی و منتخب کرنا (Recruitment and Selection)، ان کی تربیت کرنا (Training and Development)اور مزید پروموشن، ڈی موشن یا فارغ کرنے کے فیصلے اہم ہوں گے، جیسے: ایک ادارہ استحکام(Stability) کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، جس میں مقصد موجودہ کاروبار کو ہی مستحکم کرنا ہے، اس میں اضافہ مقصود نہیں تو اس صورت میں شعبہ افرادی قوت (Human Resource Department) کو نئی بھرتیوں کے بجائے موجودہ ملازمین کی، ان کے کام کے حوالے سے تربیت (Training)پر توجہ دینی ہوگی، تاکہ وہ اپنے کاموں کو بہتر انداز میں کرسکیں، جیسے: اکاؤنٹس کے عملے کی تربیت کے لیے کوئی ورکشاپ رکھنا، اسی طرح صارف کوخدمات(Custormer Care) فراہم کرنے والے عملے کی تربیت کے لیے پروگرام رکھنا یا اسی طرح پیداواری عمل میں شریک عملے کی تربیت کے لیے کوئی ٹریننگ سیشن رکھنا اس سلسلے کی کڑی ہوسکتی ہیں۔ شعبہ افرادی قوت ،حکمت عملی کے نفاذمیں اہم کردار ادا کرسکتاہے۔
ایک تاجر کے لیے حکمت عملی کی اہمیت سمجھنا، اس کی اقسام کا جائزہ لینا، اس کو بنانا(Strategy formulation) اور پھر عملا اس کا نفاذ کرنا(Implementaiton) ،طویل مدت تک کاروبار میں رہنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ ورنہ بہت جلد وہ تاجر مارکیٹ میں مقابلہ نہیں کرپائے گا۔ جس کا نتیجہ مارکیٹ سے اخراج ہے۔ ایک مسلمان تاجریا منتظم کو بھی مارکیٹ میں رہنے کے لیے مروجہ طریقوں کے مطابق ہی اپنے کاروبار کی انتظام کاری(Management) کرنی ہوگی ۔جس میں حکمت عملی بنانا اور نافذ کرنا جدید نظمیا ت میں ایک اہم جزو ہے۔ بصورت دیگر اس کے لیے بھی مارکیٹ میں اپنے وجود کو باقی رکھنا مشکل ہوجائے گا۔ البتہ مروجہ طریقوں کو اسلامی تعلیمات پر پرکھنا بہرحال ضروری ہوگا اور جو طریقے اسلامی تعلیمات کے مخالف ہوں گے، جیسے: مقابلے میں آکر اپنے مقابل پر بے بنیاد الزامات لگانا، اس کی پروڈکٹ کی ناجائز (Unfair)تحقیر کرنا، صارف (Customer) یا رسد کنندہ(Supplier) کی مجبور ی کا فائدہ اٹھانا، اپنی پروڈکٹ کی ناجائز تعریفیں کرنا، ملازمین کے ساتھ ناانصافی کرنا، لوگوں کے قرضے کھاجانا۔ ایسے معاملات کی ایک فہرست بن سکتی ہے، جو اس وقت رائج ہیں۔ لیکن اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔
ان پر ناصرف ایک مسلمان تاجر عمل نہیں کرے گا،بلکہ دوسرے مسلما ن تاجروں کو بھی اس بات پر راضی کرے گا کہ وہ اس پر عمل نہ کریں، بلکہ ہر حال میں اسلامی تعلیمات کو ہی اپنے معاملات میں فوقیت دیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ رمضان المبارک جو ماہ مغفرت ہے، اس میںہم اس بات کا عزم کریں کہ اپنے کاروبار کو اسلامی تعلیمات کے مطابق بنائیں گے اور مروجہ طریقوں میں سے جو بھی اسلام کے خلاف ہیں، انہیں اسلامی طریقوں سے بدلیں گے، خود بھی اسلامی تعلیمات پر عمل کریں گے اور اپنے تاجر بھائیوں کو بھی اسلامی تعلیما ت کے مطابق عمل کرنے کی دعوت دیں گے۔ یاد رکھیے! ایک مسلمان اپنے کاروبار کو چلانے اور پھیلانے کے لیے جدید علوم کی رہنمائی لے سکتا ہے، لیکن اس کی رو میں بہہ کر اسلام کے اصولوں کو بھول جانا اس کے لیے دنیا و آخرت کے خسارے کا سبب ہے۔