اگریہ سوال کیا جائے کہ ایک منتظم کو سب سے زیادہ کون سا کام کرنا پڑتا ہے؟اس کا جواب اس کے سوا نہیں کہ فیصلہ سازی (Decision Making)وہ عمل ہے جو ایک منتظم بار بار دہراتا ہے۔یہ فیصلہ سازی کبھی منصوبہ بندی کے لیے، کبھی اہداف کے تعین کے لیے تو کبھی حکمت عملی (Strategy)بنانے اور اسے نافذ کرنے کے لیے ہوتی ہے ۔اس طرح ایک منتظم کے فرائض عام طور پر فیصلہ سازی کے گرد گھوم رہے ہوتے ہیں۔ فیصلہ سازی ایک اہم ترین ذمہ داری ہے ۔ منتظم کا ایک اچھا فیصلہ ادارے کی ترقی کو چار چاند لگاسکتا ہے

تو ایک غلط فیصلہ ادار ے کو ڈبو بھی سکتا ہے۔اس لیے اس ذمہ داری کو اچھے طریقے سے نبھانا ایک اچھے منتظم کے لیے ضروری ہے۔ اس حوالے سے ماہرین جدید نظمیات کیا کہتے ہیں ؟ شریعت کیا آداب سکھاتی ہے؟ آئیے! سمجھتے ہیں۔
فیصلہ(Decision) جدید نظمیات کے مطابق: ’’مسئلے کے دستیاب متبادل حلوں میں سے بہترین حل کا انتخاب کرنے کا نام ہے۔‘‘مثال کے طور پر کسی پروڈکٹ کو پیدا کرنے کے لیے تین ٹیکنالوجی سامنے ہیں۔ان میں سے جس پر ابتدائی اخراجات (Initial Investment)زیادہ ہیں، اس کے پیداواری اخراجات (Operating Expenses)کم ہیں اور جن کے ابتدائی اخراجات کم ہیں ان کے پیداواری اخراجات زیادہ ہیں۔ان میں سے کون سی ٹیکنالوجی کو پیداوار کے لیے منتخب کی جائے ؟انتخاب کے اس عمل کو فیصلہ کرنا کہتے ہیں۔
فیصلہ سازی(Decision Making) مسائل(Problems) اور مواقع (Opportunities) کی تعیین اور انہیں حل (Solve)کرنے کے عمل کا نام ہے، جیسے: مذکورہ مثال میں پیداواری عمل کے لیے ٹیکنالوجی کا تعین ایک مسئلہ ہے ۔ اس کے لیے دستیاب حل دیکھنا کہ وہ تین ہو سکتے ہیں اور پھر ان میں سے بہترین کا تعین کرنا اوراسے منتخب کر لینا ،یہ مسئلے کے تعین سے لے کر حل کے انتخاب تک کا عمل فیصلہ سازی (Decision making Process)ہے۔ فیصلے کی اقسام (Types of Decisions)
ماہرین جدید نظمیا ت فیصلوں کو دو قسموں میں تقسیم کرتے ہیں:
1 طے شدہ فیصلے(Programmed Decision)
2 غیر طے شدہ فیصلے(Non-programmed)
طے شدہ فیصلے
ان سے مراد وہ فیصلے ہیں جو بار بار کرنے پڑتے ہیں،لہذا ان کو کرنے کے لیے ہدایات (Guidelines) اور طریقہ کار (Procedures)طے کر لیا جاتا ہے۔مثال کے طور پر کسی آسامی (Vacancy)کو پُر کرنے کے لیے کس قسم کا امیدوار درکار ہوگا؟ یہ فیصلہ طے شدہ ہو گا۔ اسی طرح کسی چیز کے اسٹاک کی کیا مقدار ہوگی تو دوبارہ آرڈر کیا جائے گا،اس کا فیصلہ بھی طے شدہ ہوگا۔اس قسم کے فیصلوں کے لیے درکار معلومات عموما موجود ہوتی ہیں ، ان فیصلوں میں خطرات بھی نہیں ہوتے اور مزید فیصلوں کے نتائج بھی یقینی ہوتے ہیں۔
غیر طے شدہ فیصلے


٭…فیصلہ سازی مسائل اور مواقع کی تعیین اور انہیں حل کرنے کے عمل کا نام ہے ٭… منتظم کا ایک اچھا فیصلہ ادارے کی ترقی کو چار چاند لگاسکتا ہے تو ایک غلط فیصلہ ادارے کو ڈبو بھی سکتا ہے ٭…ایک منتظم یا تاجر فیصلہ کرنے میں اسلام کے بتائے ہوئے اصول: مشورہ،استخارہ اور توکل کے اہتمام کو نہ بھولے ٭٭

ایسے کسی معاملے میں فیصلہ کرنا جو بار بار پیش نہیں آتا، بلکہ اپنی نوعیت میں منفرد (Unique) ہے۔ کوئی متعین طریقہ اس فیصلے کے لیے طے نہیں کیا جاسکتا، غیر طے شدہ فیصلے کہلاتے ہیں، مثلا: کسی کاروبار کو نئے علاقے میں متعارف کرانے کا فیصلہ، ایک ایسا فیصلہ ہے جو دوبارہ مستقبل میں ہونا مشکل ہے اور اپنی نوعیت کا منفرد فیصلہ ہے۔اسے غیر طے شدہ فیصلہ کہا جائے گا۔ان فیصلوں کے لیے درکار معلومات کا حصول مشکل ہوتا ہے اور فیصلے کے نتائج بھی مبہم (Ambigous)ہوتے ہیں، نیزمستقبل میں خطرات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ بعض فیصلوں کے نتائج کبھی تو بہت بہتر ہوتے ہیں، لیکن کبھی وہ مطلوبہ نتائج دینے میں کامیاب نہیںہوتے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس کے باوجود کہ ایک منیجر فیصلہ سازی کے لیے مقررہ طریقہ اپناتا ہے۔ماہرین نظمیات اس کے تین اسباب بتاتے ہیں:
1 فیصلہ سازی کے لیے پیش مسئلے کا غیر واضح اور مبہم ہونا :
اکثر تو مسئلہ واضح ہوتا ہے، لیکن کسی صورت حال میں مسئلہ مبہم (Ambigous)بھی ہو سکتا ہے، جیسے: ایک مضبوط نظام برائے نگرانی ِمعیار (Quality Control System)کے باوجود غیر معیاری اسٹاک کا مارکیٹ میں پہنچ جانا اور اس کی شکایات موصول ہونا۔ اس صورت حال میں ذمہ دار آدمی کی نشاندہی ،اصل مسئلے کی نشاندہی ،کمپنی کی ساکھ کی حفاظت… ان مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے یہ دیکھنا کہ اب فیصلہ سازی کس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کی جارہی ہے، ایک مشکل کام ہو گا۔ تاہم ایسی صورت حال کا سامنا عموما کم ہوتا ہے، بلکہ اکثر مسئلہ واضح ہوتا ہے ۔ بہرحال! کسی فیصلے کے نتائج تک نہ پہنچنے کی ایک وجہ مسئلے کا واضح نہ ہو نا ہو سکتی ہے۔
2 مطلوبہ معلومات مہیا نہ ہونا:
حقائق کی دنیا میں ایک فیصلے کے لیے درکار مکمل معلومات کا حاصل ہونا مشکل ہو جاتا ہے، مثلا: کسی نئی پروڈکٹ کے بارے میں فیصلہ کرنا کہ بنائی جائے یا نہیں؟ اس کے لیے درکار معلومات (Required Information)میں اس پر آنے والی لاگت (Cost)ہو سکتی ہے۔اس کی مارکیٹ میں متوقع طلب (Expected Demand)ہوسکتی ہے۔ اسی طرح اس کو بنانے کے لیے درکار سرمائے(Required Capital) اور اس کے مہیا ہونے (Source of Finance)کے بارے میں معلومات ہو سکتی ہیں۔اب یہ تمام معلومات سو فیصدایک منیجر کو حاصل ہونا مشکل ہیں۔ ان میں سے کچھ معلومات حاصل ہو جائیں گی کچھ نہیںہوں گی۔ ان کے بارے میں منیجر اپنے تجربے کی بنیا د پر مفروضہ (Assumption) قائم کرے گا اور فیصلہ کرلے گا۔ایسا فیصلہ جس کی بنیا د سو فیصد صحیح معلومات پر نہیں ہے ، اس کے مطلوبہ نتائج تک پہنچنے کے امکانات بھی کم ہوں گے ۔
3 مسئلہ کے مختلف حلوں کے نتائج کا علم نہ ہونا:
بعض اوقات مسئلے کے حل کے لیے دستیاب متبادل تو ایک منیجر کے سامنے ہوتے ہیں، لیکن ان کے نتائج کا حتمی علم نہیں ہوتا، جیسے: بازار میں نئی پروڈکٹ متعارف کروانی ہے۔ اس کے لیے چار متبادل پروڈکٹ(Alternate Products)،شعبہ تحقیق و ترقی(Research and Development) نے پیش کیے،ان میں سے ہر ایک کی مارکیٹ میں کیا طلب ہوگی؟ یہ تخمینہ (Estimates) تو ہو سکتا ہے ،حتمی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔اس صورت حال میں شماریاتی آلات کی مدد سے نتائج کے قریب پہنچنے کی کوشش کی جاتی ہے ،تاکہ فیصلہ بہتر سے بہتر ہوسکے۔
ایک مسلمان تاجریا منتظم کے لیے لائحہ عمل
جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے ایک بہترین قائد و منتظم تھے ۔ایسا مشکل ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں فیصلہ سازی کے حوالے سے ایک مسلمان تاجر کے لیے کوئی رہنمائی نہ ملے، چنانچہ تین اصول قرآن مجید اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ سے ہمیں ملتے ہیں :
1 مشورہ
مشورہ سے مراد معاملہ فہم ،ذی شعور اور خیر خواہ آدمی سے مسئلے کے ممکنہ حل کے بارے میں رائے لینا۔ اللہ تعالی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دے رہے ہیںکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ لیں۔ سورۃ آل عمران آیت 159میں ارشاد باری تعالی ہے:’’ ان کو معاف کردو،ان کے لیے مغفرت کی دعا کرواورا ن سے (اہم) معاملات میں مشورہ لیتے رہو۔پھر تم رائے پختہ کرکے کسی بات کا عزم کرلو تواللہ پر بھروسہ کرو۔اللہ یقینا توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘ اسی طر ح حدیث پاک میں آتا ہے : ’’جس نے مشورہ کیا وہ نادم نہ ہوگا۔‘‘اس سے معلوم ہوتا ہے ایک عام مسلمان کی زندگی میں جب بھی کوئی اہم معاملہ درپیش ہو تو مشورہ کرنا اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے۔کاروباری فیصلہ سازی بھی کاروباری معاملات میں ایک اہم ترین ذمہ داری ہے، لہذا اس میں بھی ایک مسلمان تاجر کوہر اہم معاملے میں مشورہ کرنے کو اپنا اصول بنانا چاہیے۔ اس سے اس کے کاروباری معاملات بھی بہتر سے بہتر ہوں گے اور قرآن و سنت کے اصول پر عمل کی برکت سے دنیا و آخرت کی بھلائیاں بھی ملیں گی۔
2 استخارہ
دوسرا اہم اصول کاروباری فیصلہ سازی کے حوالے سے ہمیں اسلامی تعلیما ت میں استخارہ کا ملتا ہے۔استخارہ کے معنی ہیں: اللہ تعالی سے خیر طلب کرنا ۔استخارہ کا ایک طریقہ تفصیلی ہے جسے ایسے مواقع پر اپنانا چاہیے، جن میں فیصلہ کرنا آپ کے طویل مدتی مستقبل کو متاثر کرسکتا ہے۔اسے ہم علمائے کرام سے سیکھ سکتے ہیں ۔ دوسرا مختصر طریقہ ہے ۔ جب بھی کسی معاملے میں فیصلہ کرنا ہو تو حدیث میں موجود مختصر دعا ’’اَللّٰھُمَّ خِرْ لِیْ وَاخْتَرْ لِیْ‘‘ پڑھ لی جائے ۔ اسے پڑھنے کے بعد جس طرف رجحان ہو اس کے مطابق فیصلہ کرلیا جائے۔اگر عربی دعا یا د نہ ہوسکے تو صرف زبان سے یا دل ہی دل میں اللہ تعالی سے یہ دعا کر لی جائے کہ ’’یااللہ! یہ معاملہ درپیش ہے، سیدھی راہ کی طرف میری رہنمائی فرما دیں۔‘‘ان شاء اللہ جو بھی فیصلہ ہو گا، اللہ تعالی اس میں بھلائی ڈال دیں گے ۔ حدیث کے مطابق اس استخارے کی برکت سے کبھی اپنے فیصلے پر شرمندگی نہ اٹھانی پڑے گی۔
3 توکل
تیسرا اصول ہمیں اسلامی تعلیمات سے’’ توکل‘‘ کا ملتا ہے ۔ اوپر سورۃ آل عمران کی آیت سے معلوم ہوا کہ جب مشورے (اور استخارے) کے نتیجے میں دل کا کسی فیصلہ کی طرف رجحان ہو جائے تو اب ا س کے ثمر آور (FruitFul) ہونے کے لیے اللہ پر بھروسہ رکھیں۔ یہ سوچیں کہ یہ سب اسباب کے درجے میں تھا ۔ کسی بھی سبب میں اثر ڈالنا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے ایک مسلمان تاجریا منتظم اپنے کاروبای معاملات میں بھی اسلام کی دی ہوئی آفاقی تعلیمات کو سامنے رکھے ۔جہاں تک معاملہ فیصلہ سازی کا ہے، جس کا سامنا ایک مسلمان تاجر کو قدم قدم پر رہتا ہے۔ اسی طرح صبح ،شام مختلف مسائل کو حل کرنے کے لیے فیصلہ سازی کرنا منتظم کے بنیادی فرائض میں سے ہے۔ایک مسلمان تاجر یا منتظم فیصلہ سازی میں مسئلے کا بغور تجزیہ بھی کرے۔اس کے اسباب کا جائزہ بھی لے۔مختلف حلوں کو بھی دیکھے۔ان میں سے بہترین حل کو منتخب بھی کرے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہر مرحلے پر اسلام کے بتائے ہوئے اصول: مشورہ،استخارہ اور توکل کے اہتمام کو نہ بھولے۔ کاروباری زندگی میں اس طرح چلنے سے انشاء اللہ اس کے کاروبار میں برکت ہوگی۔یہی کاروبار اللہ کے قرب کا ذریعہ بنے گا۔ فیصلوں کے نتائج بھی بہتر ہوں گے۔ کاروباری زندگی ان لوگوں سے بہتر ہوجائے گی جو اسلام کے ان اصولوں پر عمل نہیں کرتے۔یاد رکھیے! ایک مسلمان کے لیے کوئی چیز دین یا دنیا نہیں، بلکہ جو عمل اس کو اللہ سے قریب کردے وہ اس کا دین ہے ،جس عمل سے اللہ سے غفلت پیدا ہو وہ اس کی دنیا اور ناپسندیدہ ہے۔مسلمان کی تجارت اور کاروبارکبھی بھی اسے اللہ سے غافل نہیں کرسکتا… اگر وہ حقیقی مسلمان ہے۔