جدید معاشی نظریات کے مطابق پیداواری عمل(Production Process) کا انحصار چار عوامل پیداوار(Factors of Production)، زمین (Land)،محنت(Labour) ،سرمایہ(Capital) اور آجر (Enterprienuer) پر ہے ۔زمین(Land) سے مراد قدرتی وسائل ہیں، چاہے وہ زمین کے ٹکڑے کی صورت میںہو یا زمین پر زرعی پیداوار کی صورت میں۔ نیز زیر زمین معدنیات کی صورت میں ہویا پھر سمندر میں موجود وسائل کی

صورت میں…یہ سب ’’زمین‘‘ میں شامل ہے۔ دوسرا عامل پیداوار(Factor of Production) سرمایہ(Capital) ہے، جس سے مراد ایک ایسا عامل ہے جو خود کسی پیداوار ی عمل سے گزر کر وجود میں آیا ہے اور مزید عمل پیداوار میں استعمال ہورہا ہے۔ اس میں تمام مشینری،آلات ،عمارت ،خام مال (Raw material)وغیرہ شامل ہے۔
باقی دونوں عوامل پیداوار کا تعلق انسانی وسائل (Human Resource) سے ہے۔ان میں سے ایک ہے:’’ محنت۔‘‘محنت (Labour)سے مراد انسانی محنت ہے، چاہے جسمانی (Physical)ہو یا ذہنی (Mental) اور اس کے بدلے میں متعین اجرت (Predetermined wage)کا حق دار ہوتا ہے۔ چوتھا عامل پیداوار آجر(Enterprenuer)ہے۔ جس سے مرا د وہ انسان جو باقی تینوں عوامل پیداوار کو جمع کرے ،کاروبار کے نفع و نقصان(Risk and Return) کے خطرات (Risk)براداشت کرے،کاروبار میں جدیدیت (Innovation) لائے۔ یہ تمام محنت کے بدلے میں تینوں عاملین پیداور سے بچ جانے والے نفع (Profit)کا حق دارہوتا ہے۔
پیداواری عمل میں چار میںسے دو عوامل(Factors)کا تعلق انسانی وسائل(Human Resource) سے ہے ،جس سے انسانی وسائل کی اہمیت کا اندازہ لگا نامشکل نہیں۔کسی بھی ادارے کے بنانے اور بگاڑنے میں انسانی وسائل اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر انہیں بہتر انداز میں منظم (Manage)کرلیا جائے تویہ وسائل ادارے کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کردیتے ہیں۔اگر انسانی وسائل کی تنظیم بہتر انداز میں نہیں کی گئی تو یہی وسائل ادارے کو زمین بوس کرنے میں وقت نہیں لگاتے۔اس لیے جدید نظمیات میں انسانی وسائل کی تنظیم (Human Resource Mangement) ایک اہم موضوع بن کر ابھرا ہے۔ اس پر تحقیقی مقالے، کتابیں لکھی جارہی ہیں اور ادارے اس بات کو اپنی سوچ(Vision) کا حصہ بنا رہے ہیں کہ انسانی وسائل ہمارے لیے سب سے اہم ہیں اور ان کی بہتر انداز میں تنظیم ہی ادارے کی ترقی کا ضامن ہے۔
انسانی وسائل کی بہتر اندازمیں تنظیم (Effective Human Resource Mangement)سے کیا مراد ہے؟کسی بھی ادارے میںشعبہ برائے تنظیم انسانی وسائل(HR Department)کیوں ہوتا ہے؟ منتظم برائے انسانی وسائل(HR Manager) کے کیا فرائض (Functions) ہیں؟ان کا جواب ان شاء اللہ آنے والی سطو ر میں دیا جائے گا۔ انسانی وسائل کی انتظام کاری  انسانی وسائل کی انتظام کاری (Human Resource Management)سے مراد بہتر انسانی وسائل کو متوجہ کرنے (Attraction)، ان کی پرورش کرنے(Development) اور انہیں برقرار رکھنے(Maintain) کے لیے کی جانے والی سرگرمیاں(Activities) . ہیں ۔ انسانی وسائل کی انتظام کاری سے متعلق سرگرمیاں  ان سرگرمیوں (Activities for HRM)میںادارے میں موجود کاموں کا تجزیہ(Job Analysis) اور ان کے کرنے والے لوگوں کی صلاحیتوںاور تعلیم و تجربے کا تعین کرنا(Job specification)،پھر انسانی وسائل کی منصوبہ بندی کرنا(HR planning) ،منصوبہ بندی کے مطابق انسانی وسائل کو متوجہ کرنا(Recriuitment)،ان میں سے بہتر انسانی وسائل کا انتخاب کرنا (Selection)، مناسب تنخوا ہ متعین کرنا(Wages and Benefits)، انہیں ادارے سے متعارف کروانا (Orientation)،ان کی تعمیر و ترقی کے لیے اقدامات کرنا(Training and Development)، مستقبل کے لیے ان کی منصوبہ بندی کرنا(Career Planning)،ان کی کارکردگی کی جانچ پرکھ کرنا (Perfomance Appraisal)،کارکردگی کی بنیاد پر مراعات میں اضافہ یا کمی کرنا(Benefits and gainsharing)،ملازمین کے صحت،تحفظ کا خیال رکھنا(Health and Safty measures)، ملازمین سے اچھے تعلقات استوار کرنا(employer employee relationships)،جیسی سرگرمیاں ایک شعبہ برائے تنظیم انسانی وسائل کر رہا ہوتا ہے۔


٭…شعبہ برائے تنظیم انسانی وسائل کی حیثیت کسی بھی ادارے میں ایک مددگار شعبے کی ہے ٭…چار میں سے دو عوامل پیداوار کا تعلق انسانی وسائل سے ہے ٭…شرعی طور پر ملازم کے انتخاب کا معیار چار صفات ہیں: طاقت ور، امانت دار ، ذمہ دار اور جانکار ہونا

شعبہ برائے تنظیم انسانی وسائل کی ادارے میں حیثیت  شعبہ برائے تنظیم انسانی وسائل (Placement of HR Deparment) کی حیثیت کسی بھی ادارے میں ایک مددگار (Assistant)شعبے کی ہے ،یعنی وہ خود براہ راست ادارے کی ترقی میں حصہ تو نہیں ڈال رہا ہوتا، لیکن دیگر شعبہ جات کو بہتر انسانی وسائل کی فراہمی،ان سے متعلقہ امور میں معاونت کرکے ادارے کی تعمیر و ترقی میں کردار اد اکررہا ہوتا ہے۔اسی وجہ سے چھوٹے ادارے باقاعدہ یہ شعبہ نہیں بناتے، بلکہ ہر منیجر خود اس شعبہ کا کام بھی کررہا ہوتا ہے۔لیکن جیسے جیسے ادارے بڑے ہوتے ہیں، اس شعبہ کاقیام ضروری ہو جاتاہے،جو انسانی وسائل کو ادارے کے لیے زیادہ سے زیادہ نفع بخش بنا سکے۔

شعبہ برائے تنظیم انسانی وسائل کے اہداف
اس شعبے کے، چار حوالوں سے مختلف اہداف (Objectives of HR Department)ہیں:
1 ادارتی مقصد(Orgnisational Objectives): شعبہ برائے تنظیم انسانی وسائل(HR Department) کا ادارتی ہدف ،انسانی وسائل کی فراہمی ،ان کے برقرار رکھنے میں دیگر شعبہ جات کی اس طرح مدد کرنا جس سے ادارتی اہداف (Organisational Goals)بہتر انداز میں حاصل ہوسکیں۔
2 شعبہ جاتی اہداف(Departmental Objectives):ادارے کا ایک شعبہ ہونے کی حیثیت سے ،شعبہ برائے تنظیم انسانی وسائل(HR Department) کا مقصد ،شعبے کو اتنا فعال رکھنا ہے کہ وہ ادارے کی ضروریات کو پورا کرتا رہے۔
3 معاشرتی مقصد(Societal Objectives):اس شعبے کا معاشرتی ہدف،معاشرتی و اخلاقی (Social and Ethical) ذمہ داریوں کو اس طرح انجام دینا کہ ادارے کی معاشرے میں مثبت تصویر پیش ہو اور منفی تصویر ختم ہو۔
4 ذاتی اہداف(Personal Objectives):ملازمین کے حوالے سے شعبے کا ہدف ،ملازمین کے ان کے ذاتی اہداف کی تکمیل میں مدد کرنا ،کم از کم ان اہداف کی تکمیل میں جن سے ان کا ادارے سے تعاون بڑھ جائے۔ مسلمان تاجر اور منتظم کے لیے لائحہ عمل
مسلمان تاجر و منتظم کے لیے انسانی وسائل کی تنظیم کے لیے کیا لائحہ عمل ہونا چاہیے؟چند اصول قرآن و سنت کی روشنی میں پیش خدمت ہیں۔
قرآن مجید امانت داری (Merit)سے انتخاب کی ہدایت کے ساتھ ساتھ، ملازم میں چار صفات کا خیال رکھنے کی ہدایت کرتا ہے:
a طاقت ور(Skilled)
a امانت دار (Honest)
a حفیظ(Responsible)
a علیم(Knowledgable)
قرآن مجید میں اللہ تعالی فرماتا ہے:’’مسلمانو!یقینا اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچاؤ،اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔یقین جانو!اللہ تم کو جس بات کی نصیحت کرتا ہے وہ بہت اچھی ہوتی ہے،بے شک اللہ ہر بات کو سنتا اور ہر چیز کو دیکھتا ہے۔‘‘ (النسائ،آیت: 58)اس آیت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ملازم کا انتخاب امانت داری (Merit)سے ہونا چاہیے۔ مزید حضرت موسی علیہ السلام کے واقعے میں جب حضرت شعیب علیہ السلام انہیں ملازم رکھنے لگے تو جن صفات کی وجہ سے انہیں رکھا جارہا تھا وہ دو تھیں۔ قرآن اسے اس طرح بیان کرتا ہے:’’ان دونوں عورتوں میں سے ایک نے کہا: ـابا جان!آپ ان کو اجرت پر کوئی کام دے دیجیے ۔آپ کسی سے اجرت پر کام لیں تو اس کے لیے بہترین شخص وہ ہے جو طاقتور بھی ہو،امانت دار بھی۔‘‘ـ(سورۃ القصص، آیت 26:)اس آیت سے ملازم کے انتخاب کی بنیاد ،دو صفات معلوم ہوتی ہیں:
1 طاقت ور(Skilled):اس سے مراد، جو کام اس کے سپرد کیا جارہا ہے اس کو کرنے کی جسمانی (Physical)اور ذہنی(mental) صلاحیت کا ہونا ہے۔لہذا سیکورٹی گارڈکے لیے بوڑھے یا کمزور یا معذور کا انتخاب کرنا اس معیار کے مطابق نہ ہوگا ۔اسی طرح محاسبی (Accounts)کے کام کے لیے ان پڑھ کا انتخاب کرنا بھی اس معیار کے نظر انداز کرنا ہوگا۔
2 امانت دار (Honest): اس سے مراد، ملازم میں اپنے کام کرنے، اوقات کی پابندی،ذمہ داری کے احساس میں امین ہو،پورا پورا کام ،وقت پر کرے، نہ اواقات میں کمی کرے نہ کام میں لاپروائی کرے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعے میں ،جب آپ نے بادشاہ سے وزارت خزانہ کا مطالبہ کیا تو اس کو اللہ تعالی نے اس طرح بیان فرمایاہے:’’یوسف نے کہا : آپ مجھے ملک کے خزانوں (کے انتظام) پر مقرر کر دیجیے۔ یقین رکھیے کہ مجھے حفاظت کرنا خوب آتا ہے،(اور) میں (اس کام کا) پورا علم رکھتا ہوں۔‘‘ـیہاں حضرت یوسف علیہ السلام کے اس قول سے دو مزید صفات سامنے آتی ہیں:
3 حفیظ(Responsible):اس سے مرا د ذمہ داری میں جس چیز کی حفاظت مقصود ہے اس کے معیارات پر پورا اترنا،جیسے :کسی انتظامی ذمہ داری کے لیے ایسے شخص کا انتخاب کرنا جو ،نڈر ہو اور انتظامی معاملات میں کسی کی ناجائز سفارش یا دھونس دھمکی کو خاطر میں نہ لائے۔ 4 علیم(Knowledgable):اس سے مراد یہ کہ جو کام ذمے لگایا جارہا ہو اس کے بارے میں معلومات ہوں،جیسا کہ عموما انتظامی ذمہ داری کے لیے امیدوار کا ایم بی اے ہونا شرط قرار دیا جاتا ہے یا اکاؤنٹس کے کام کے لیے کامرس کی ڈگری کا ہونا، وغیرہ۔
اس کے علاوہ اسلام کے اخلاقی نظام میں ایک طویل فہرست ہے جن کا تعلق انسانی وسائل کی بہتر انتظام کاری سے ہے جس میں اسلام کا جذبہ اخوت،بھائی چارہ،جذبہ خیرخواہی،دوسروں کے ساتھ درگزر کا معاملہ کرنا،نرمی سے پیش آنا،کام کو پورا پوراکرنا،ایک دوسرے کو تکلیف نہ پہنچانا،جذبہ ایثار وغیرہ۔ (ان شاء اللہ آئندہ مضامین میں ان پر تفصیلی روشنی ڈالی جائے گی کہ کس طرح اسلام کے نظام اخلاقیات پر عمل سے ادارہ جنت کا نمونہ بن سکتا ہے۔)
خلاصہ یہ کہ انسانی وسائل کی بہتر اندازمیں تنظیم کسی بھی ادارے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ کوئی بھی ادارہ انسانی وسائل کی بہتر انداز میں تنظیم کے بغیر ترقی کا خواب نہیں دیکھ سکتا۔جب تک کاروبار چھوٹے پیمانے پر ہو تو الگ سے شعبہ برائے تنظیم انسانی وسائل(HR Department) بنانے کی ضرورت نہیں ہوتی، لیکن جیسے جیسے ادارہ بڑا ہوتا ہے تو ایک الگ شعبہ جس کی ذمہ داری انسانی وسائل کی تنظیم ہو،بنانا ناگزیر ہوجاتا ہے۔اس شعبے کے اہداف میں سے ادارے کے لیے بہترین انسانی وسائل فراہم کرنے کے لیے کام کرنا،اپنے کام کو ادارے کے اہداف سے ہم آہنگ رکھنا،معاشرے میں ادارے کی مثبت تصویر (Positive image)پیش کرنے کی کوشش کرنا اور منفی تصویر(Negative Image) ختم کرنا، نیز ملازموں سے بہتر تعلقات کے ذریعے ان کے ادارے کے ساتھ تعاون کو بڑھانا شامل ہے۔انسانی وسائل کے انتخاب کے حوالے سے اسلام ہمیں امانت دار (Honest)، باصلاحیت (Skilled)،جانکار(Knowlegeable)اور ذمہ دار(Resposible) ملازم کے انتخاب کا امانتداری(Merit) کے ساتھ کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے ایک مسلمان تاجر یا منتظم ہونے کی حیثیت سے ہم اسلام کی دی ہوئی آفاقی ہدایات پر ہر معاملے میں علم بھی حاصل کریں اور اس پر عمل کی کوشش کے ساتھ ساتھ دوسروں تک اسلامی تعلیمات پہنچانے کی فکر کریں، تاکہ ہماری عبادات کے ساتھ ساتھ معاملات بھی شریعت کے مطابق ہوجائیں اور ہم معاشرے میں ہدایت پھیلانے کا ذریعہ بھی بن جائیں۔یاد رکھیے! فساد کے اس زمانے میں دین کے ایک حکم پر عمل کرنے والے کو سو شہیدوں کے برابر اجر ملے گا…کیا ہم یہ اجر لینا چاہتے ہیں؟